2018ء میں بجلی پوری کر بھی لی تو کمزور سسٹم کے باعث فراہم نہیں کر سکیں گے: وزارت پانی و بجلی

2018ء میں بجلی پوری کر بھی لی تو کمزور سسٹم کے باعث فراہم نہیں کر سکیں گے: وزارت ...

اسلام آباد(آن لائن) 2018 ء میں اگر بجلی پوری کر بھی لی تو سسٹم کمزوری کی وجہ سے بجلی صارفین کو فراہم نہیں کر سکیں گے،اگر لوڈشیڈنگ نہ کریں تو بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بینک کرپٹ ہوجائیں گی تمام کمپنیوں کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق نیشنل گریڈ اسٹیشن سے بجلی فراہم کی جارہی ہے کسی سے بھی امتیازی سلوک نہیں برتا جارہا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی میں وزارت پانی بجلی کا اعتراف۔ کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روزچیئرمین کمیٹی سینیٹر سردار محمد یعقوب خان نثار کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس مین منعقد ہوا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک کا موجودہ بجلی کا سسٹم کمزور ہے جس کی وجہ سے بعد تعطل بجلی کی فراہمی ممکن نہیں ہے اور بشتر علاقوں میں ٹرانسمیشن لائنوں پر ان کی گنجائش سے زیادہ لوڈ ہے جس کی وجہ سے کئی کئی فیڈرز ٹرپ کرجاتے ہیں، کمیٹی کی طرف سے رمضان المبارک میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔ جبکہ کمیٹی نے پیپکو کی رکوری لاسز، فیڈرز وائز تفصیلات طلب کر لیں ہیں، جبکہ کمیٹی نے وزارت پانی وبجلی کی جانب سے لوڈشیڈنگ کو بھی غیر تسلی بخش قرار دیا ہے، کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ 15 رمضان گزر گیا ہے لیکن ابھی تک ملک کے بشتر علاقوں میں غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ سندھ میں عوام اور چیف سنٹر خود 18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا تذکرہ کرتے ہیں اور عوام سڑکوں پر نقل آتے ہیں لیکن حکام کہتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ ہو ہی نہیں رہی تو پھر آپ کہہ دیں کہ عوام غلط کہ رہی ہے اور حکام ٹیھک انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں جنریشن ہر سال 300 غلط میگاواٹ ہوئی ہے تو ڈیمانڈ2000 میگاواٹ تک بڑھ جاتی ہے، اگر اسی طرح تیز رفتاری سے آپ کام کرتے رہے تو 2050تک لوڈشیڈنگ ختم کرنا ممکن نہیں ہے، سندھ کی ہوا بھی وفاق لیے گیا ہے، ونڈ سے 300میگاواٹ بجلی پیداہو رہی ہے اور 450میگاواٹ تک اسے لے جانے کا پروگرام ہے، جبکہ اندرون سندھ کی1800 میگاواٹ ڈیمانڈ ہے پھر بھی بجلی پوری نہیں ملتی آپ بتائیں کے آپ کا سسٹم تباہ ہو چکا ہے اور حقائق کا سامنا کرکے جامع پلان بنائیں، سیکریٹری پانی وبجلی یونس ڈھاگہ نے کمیٹی کو تبایا کہ صوبوں کو ان کی ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کی جارہی ہے، جبکہ کیسکو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سابقہ چیف سنٹر کے ساتھ میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ حکام ہمیں صرف 8 گھنٹے کی بجلی فراہم کریں جس سے ہمارا بل کم آئے، انہوں نے کہا کہ کیسکو میں صارفین کے10000 روپے بجلی کا بل ادا کرنا ہے جو وہ نہیں کرتے جس پر سینٹر داؤد خان اچکزئی نے کہا کہ اس وقت اجلاس میں بھی موجود تھا اس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ 75000روپے کے بل پر 10000 روپے صارف ادا کرے گا باقی میں 60فیصد صوبائی حکومت نے جبکہ 40فیصد وفاق نے جمع کروانے تھے اس کے علاوہ قلعہ عبداللہ میں ڈیم کیلئے فنڈز جاری ہوئے لیکن کام شروع نہ ہوسکا کیونکہ حکومت کے ڈیم کی رقم من پسند لوگوں میں تقسیم کر دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ ہر سال مین ٹرانسمشین لائن اڑا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے باغات تباہ ہوگے ہیں اور منطق کی سمجھ میں آتی کہ ٹرانسمیشن لائن جون میں ہی کیوں اڑ جاتی ہے، سینیٹر نعمان نے کمیٹی کو بتایا کہ پانی و بجلی کا محکمہ تباہی کے دہانے پر ہے اور کے پی کے کی بجلی فیسکو کو دیدی جاتی ہے جو کہ ظلم ہے پر اجلاس میں میھٹی گولی دیکر حکام سوجاتے ہیں گراؤنڈ پر کجھ نظر ہی نہیں آیا جبکہ کیسکو حکام نے بتایا کہ ڈسکو مٰیں 391 فیڈرز میں 2 سے6گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے کیونکہ وہاں پر لائن لاسز 10 فیصد تک ہیں، جبکہ کمیٹی کو تبایا گیا کہ ڈیرہ بگٹی کے پورے فیڈر میں سے صرف 93روپے کی رکوری ہے اور ہم بجلی بھی بند نہیں کر سکتے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے جہاں رکوری کم ہوتی ہے وہاں بجلی کی فراہمی زیادہ ہے اور جہاں رکوری زیادہ ہے وہاں کم بجلی فراہم کرتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر