اویس شاہ کا اغواء ، دوسرے روز بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا

اویس شاہ کا اغواء ، دوسرے روز بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ کے صاحبزادے اویس علی شاہ کے اغواء کے خلاف سندھ بار کونسل کی اپیل پر بدھ کو دوسرے روز بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا ،جس کی وجہ سے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ عدالتوں میں تمام مقدمات کی سماعت روک دی گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس علی شاہ کے اغواء کے خلاف بدھ کوسندھ بار کونسل کی اپیل پر وکلا نے تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیااور عدالتو ں میں مقدمات کی سماعت روک دی گئی ۔مقدمات کی پیروی نہ ہونے کے باعث سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔اس موقع پر وکلا رہنماؤں نے کہا کہ جبکہ اویس علی شاہ کو اغوا ہوئے 48 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن حکومت اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے انہیں بازیاب نہیں کرایا جاسکاہے ،جو کہ حکومت اور سیکورٹی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔سیفی علی خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے کو اغوا کرنا افسوسناک بات ہے جبکہ ان کو بازیاب کرانے میں حکومت اور تمام سیکورٹی ادارے ناکام ہوچکے ہیں ۔ شہر میں سیکورٹی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، کئی بے گناہ افراد لاپتہ ہوچکے ہیں ان کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اویس علی شاہ کو بازیاب نہ کرایا گیا تو ہم تمام وکلا ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوکر وزیراعلی ہاؤس کا گھیرا کریں گے۔محفوظ یار خان نے کہا کہ سیکورٹی ادارے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ خالی میٹنگیں کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، عمل کر کے دکھائیں۔ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کا اغوا افسوسناک عمل ہے، سیکورٹی ادارے اپنا تحفظ نہیں کرسکتے تو وہ عام عوام کو کیا تحفظ فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کرسیوں پر بیٹھ کر آرڈر جاری کردیے جاتے ہیں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اویس علی شاہ کو فوری بازیاب کرایا جائے۔اس موقع پر دیگر وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ اویس علی شاہ کو اگر بازیاب نہ کرایا گیا تو ہم اپنا اگلا لائحہ عمل تیار کریں گے۔واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس علی شاہ ک دو روز قبل کلفٹن میں واقع سپر مارٹ کی پارکنگ سے نامعلوم چار مسلح افراد اغوا کر کے لے گئے تھے ،جن کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول