کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ ، عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری 2ساتھیوں سمیت شہید

کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ ، عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری ...

کراچی،اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، اے این این ) کراچی کے علاقے لیاقت آبادمیں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے عالمی شہرت یافتہ قوال امجد فرید صابری دو ساتھیوں سمیت جاں بحق، وزیراعظم نوازشریف ،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ،وزیراعلیٰ سیدقائم علی شاہ ودیگرکی واقعہ کی شدیدمذمت ،صوبائی وزیرداخلہ سہیل انور سیال نے واقعہ کی رپور ٹ طلب کرلی ، ایس ایچ او لیاقت آباد معطل ۔تفصیلات کے مطابق بد ھ کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد 10 نمبر فلائی اوور کے قریب معروف قوال 45سالہ امجد فرید صابری کی سفیدرنگ کی کار پر نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے اس وقت فائرنگ کردی جب وہ اپنی رہائش گاہ سے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کیلئے جارہے تھے فائرنگ کے نتیجے میں امجد صابری اور ساتھیوں کو فوری طور پرعباسی شہید سپتال منتقل کیا گیا ۔عباسی شہید ہسپتال کے ہیلتھ سروسز کے سینئر ڈائریکٹر نے امجد صابری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امجد صابری ہسپتال پہنچنے سے قبل کی جاں بحق ہوچکے تھے۔ عباسی شہید ہسپتال کے میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر خالد نے بتایا کہ لیاقت آباد سے امجد صابری کو مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔ ڈاکٹر خالد کے مطابق ان کی لاش مردہ خانے میں پوسٹ مارٹم کیلئے منتقل کی گئی لیکن ورثا بغیر قانونی تقاضے پورے کیے لاش اپنے ساتھ لے گئے۔ حملہ آوروں نے ٹریفک کے دبا ؤکا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی گاڑی کی رفتارکم ہونے پر انہیں نشانہ بنایا اورفرارہوگئے ۔اطلاعات کے مطابق امجد صابری کی گاڑی پر چھ فائر کیے گئے جن میں سے ایک گولی ان کے چہرے اور دوسینے میں لگیں، سینے پر لگنے والی گولی ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوئی ۔ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج کے مطابق گاڑی کی ونڈ سکرین پر تین گولیوں کے نشانات موجود ہیں۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اورعلاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوع سے 30بور کی 5گولیوں کے خول ملے ۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک موٹر سائیکل پر دو مسلح دہشت گرد سوار تھے۔ گاڑی آہستہ ہونے پر موٹر سائیکل پر پچھلی نشست پر بیٹھے دہشت گرد نے گاڑی کے فرنٹ پر فائرنگ کی۔ دہشتگردوں نے اطمینان سے کارروائی کی اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ایس ایس پی سینٹرل مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ دہشت گرد امجد صابری کا پیچھا کر رہے تھے موقع پا کر ٹارگٹ کیا۔ ادھر امجد صابری کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملتے ہی پرستاروں کی بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر جمع ہو گئی۔ میت پہنچنے پر رقت آمیز مناظر بھی دیکھے گئے۔ واقعے کے سوگ میں علاقے میں دکانیں اور کاروبار بھی بند کر دیئے گئے۔ امجد صابری کی میت گھر پہنچی تو ہر طرف کہرام مچ گیا تاہم دیدار کروائے بغیر میت کو ایدھی سرد خانے بھجوا دیا گیا۔ امجدصابری کی نماز جنازہ (آج)جمعرات کو بعد نماز ظہر لیاقت آباد کی فرقانیہ مسجد میں ادا کی جائے گی جب کہ تدفین پاپوش کے قبرستان میں ہوگی۔دوسری جانب ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے معروف قوال امجد صابری کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعظم کی مجرموں کو جلد کیفر کردارتک پہنچانے کی بھی ہدایت۔ وزیراعظم کی امجد صابری کیلئے دعائے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر کی دعا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا امجد صابری کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امجد صابری کا قتل شہر قائد کا امن خراب کرنے کی سازش ہے۔وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ نے امجد صابر کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سازش کے تحت شہر کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر کو فون کیا اور شہر میں پیٹرولنگ بڑھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلی نے ایس ایچ او لیاقت آباد اور ڈی ایس پی کو معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کئے جبکہ وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نے فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ۔ انہوں نے کہاکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے سیکیورٹی ادارے متحرک ہوگئے ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی امجد صابری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے واقعے پر تشویش کا اظہارکیا ۔ سابق صدر آصف زرداری، عمران خان سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے مذمت کی۔ میڈیارپورٹ کے مطابق امجد صابری کو تین سے چار ہفتے پہلے نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی تھیں لیکن حکام کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کی بجائے اسے وہم قرار دیا اورامجد صابری کو تسلی دی کہ آپ ہر دلعزیز شخصیت ہیں آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، ایس پی لیاقت آباد نے بھی امجد صابری کو دھمکیوں کی تصدیق کردی ہے۔امجد صابری نے پولیس کو شکایت بھی درج کرواتے ہوئے کہا تھا کہ چند دنوں سے مجھے نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہے تاہم امجد صابر کو دی جانیوالی دھمکیوں کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ امجد صابری معروف قوال غلام فرید صابری کے صاحبزادے اور عصر حاصر میں قوالی کے شعبے میں صف اول کے قوال مانے جاتے تھے۔مقبول صابری نے اپنے بھائی مرحول غلام فرید صابری کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں قوالی کو متعارف کرایا اور عارفانہ کلام میں اپنا نمایاں مقام بنایا۔والد اور چچا کے انتقال کے بعد امجد صابری ان کے ورثے کو آگے بڑھارہے تھے اور انہوں نے اپنی محنت سے قوالی کی دنیا میں اپنی علیحدہ پہچان بنالی تھی۔صابری برادان نے جو بھی کلام پڑھا وہ لوگوں کے دلوں میں اتر گیا تاہم ان کے سب سے مشہور و مقبول کلاموں میں بھر دو جھولی میری، تاجدار حرم ہو نگاہ کرم اور میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا شامل ہیں۔ امجد صابری نے متعدد ہندی فلموں کیلئے بھی قوالیاں ریکارڈ کرائیں۔ امجد صابری کی ہلاکت کی خبر آتے ہی مختلف سیاسی رہنماؤں اور فنکاروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے دکھ اور افسوس کا اظہار کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول