ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارسدہ کیلئے ادویات کی خریداری میں کروڑوں کے گھپلے

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارسدہ کیلئے ادویات کی خریداری میں کروڑوں کے گھپلے

 چارسدہ (بیورو رپورٹ) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹر ہسپتال چارسدہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد علی نے اکاؤنٹنٹ حاجی ریاض کی ملی بھگت سے ادویات کی خریداری کیلئے مختص 3کروڑ روپے میں 2کروڑ روپے ہڑپ کئے ۔ 23ہزار روپے تنخواہ لینے والے اکاؤنٹنٹ محمد ریاض 23کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ نیب نے ایم ایس اور اکاؤنٹنٹ پر فوری طور پر ہاتھ نہ ڈالا تو یہ قوم سے زیادتی ہو گی ۔ ایم ایس کی نظریں مزید 35کروڑ روپے ہڑپ کرنے پر لگی ہو ئی ہے ۔ فریدون خان ۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان مسلم لیگ کے ضلعی صدر فریدون خان نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ذمہ دار ادارے ڈاکٹر محمد علی کی کرپشن کے حوالے سے فوری ایکشن لیں کیونکہ موصوف کی کرپشن کی داستانیں سامنے لائی گئی تو عوام آف شور کمپنیاں بھول جائینگے ۔ ایم ایس ڈاکٹر محمد علی نے ہسپتال کے اکاؤنٹنٹ حاجی ریاض کی ملی بھگت سے ادویات کی خریداری کیلئے مختص 3کروڑ روپے میں 2کروڑ روپے ہڑپ کئے ہیں۔ ہسپتال کے اکاؤنٹنٹ حاجی ریاض کی تنخواہ 23ہزار روپے جبکہ موصوف 23کروڑ روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹر ز روزانہ او ٹی سی کمپنیوں کے لاکھوں روپے مالیت کے ادویات ایم ایس کی نگرانی میں مریضوں تجویز کر رہے ہیں جس سے مریضوں کو کوئی فائدہ نہیں البتہ ہر ڈاکٹر کو رو زانہ 10سے20ہزار روپے اضافی ملتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جمال آباد ہسپتال سمیت ہر جگہ جہاں ڈاکٹر محمد علی تعینات رہے موصوف نوٹوں کی بوریاں گھر لے گئے ہیں جبکہ جمال آباد ہسپتال میں انہوں نے درختوں کو بھی نہیں چھوڑا ۔ محکمہ صحت کی طرف سے قائم انکوائری کمیٹی نے سات سال پہلے ہی موصوف کو انتظامی اور مالی عہدوں کیلئے نااہل قرار دیا تھا مگر پیسے کے زور پر وہ گزشتہ کئی سال سے انتظامی اور مالی عہدوں پر براجماں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کرپشن کے الزام میں ڈاکٹر محمد علی کو گریڈ 16میں ڈی گریڈ کیا گیا تھا مگر موصوف نے بھاری نذرانہ دیکر انکوائری رپورٹ تبدیل کی ۔ ایف آئی اے ،انٹی کرپشن اور احتساب کمیشن کے منہ بند کرنا ڈاکٹر محمد علی کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہیں کیونکہ وہ چوری میں اتنے ماہر ہو چکے ہیں کہ ایک کروڑ میں 50لاکھ آسانی سے ہڑپ کر کے مذکورہ اداروں کو بھاری رشوت سے رام کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی ناظم ،محکمہ صحت کی انکوائری کمیٹی اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن نے ایم ایس ڈاکٹر محمد علی کے حوالے سے صوبائی حکومت کو متعدد بار آگاہ کیا مگر انصاف کی دعوید ار حکومت چارسدہ کے 20لاکھ عوام کو مسائل کے گرداب سے نکالنے میں سنجیدہ نہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول