واپڈا کا نیلم جہلم پروجیکٹ کیلئے100بلین روپے کے صکوک کا اجرا

واپڈا کا نیلم جہلم پروجیکٹ کیلئے100بلین روپے کے صکوک کا اجرا

کراچی (اکنامک رپورٹر )نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی(پرائیویٹ)لمیٹڈ(NJHPC)100بلین روپے کے مالیاتی معاہدے میں داخل ہوگیا ہے جس میں 16بینکس نیشنل بینک آف پاکستان (NBP)کی رہنمائی میں شریک ہیں تاکہ نیشنل بینک آف پاکستان اعتماد کے وضع کردہ کم ہوتے مشارکہ پرمشتمل پاکستان کے سب سے بڑے شرعی تقاضوں سے ہم آہنگ کارپوریٹ انفرااسٹرکچرصکوک کو عام کیا جائے۔تقریبِ رونمائی جو ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی میں نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر سیّد اقبال اشرف،،چیئرمین واپڈا ظفر محمود،رکن فنانس واپڈا انوار الحق ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر جنرل(ر) محمد زبیر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی(پرائیویٹ)لمیٹڈ(NJHPC) کے ساتھ تمام 16شریک مالیاتی اداروں کے سینئرحکام اور صدور نے شرکت فرمائی۔نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی نے نیشنل بینک آف پاکستان(’’NBP‘‘) کواختیاردیا ہے جس میں وہ مینڈیٹڈ لیڈ ارینجر(’’MLA‘‘) کے طور پر عمل کرے گا اور 100بلین روپے کے بندوبست کیلئے شرح،محفوظ اور نجی طور پر رکھے گئے صکوک کا اجراکرے گا تاکہ ڈسٹرکٹ مظفرآباد،آزاد جمّوں و کشمیر پر واقع اقتصادی اہمیت کے حامل 969MWکے ہائیڈل پاور پروجیکٹ کیلئے جزوی مالی معاونت فراہم کی جائے۔ پاکستان کے سب سے بڑے پبلک سیکٹر بینک (NBP)نے پاکستان کے سب سے بڑے زیرِ تعمیرہائیڈرو پاور پروجیکٹ کیلئے تنِ تنہا 100بلین روپے کی پاکستان کی سب سے بڑی اسلامی مالیاتی ٹرانزیکشن کا اہتمام کیا ہے۔ اشرف ،نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر نے کہا،’’ صکوک 10سالہ مدّ ت کیلئے بنائے گئے ہیں جس کی خودمختار ضمانت حکومتِ پاکستان نے لی ہے۔اس صکوک کیJCR-VIS سے بنیادی ریٹنگ’’AAA‘‘ ہے اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ اس سے وسیع بنیادوں پر پاکستان کی مارکیٹ پراثر پڑے گاجس سے فنڈنگ فارمیٹ کے اضافے میں مدد ملے گی اورکم مدّ ت کی چھوٹی ڈیلز کوبڑھانے پرمجبور کیا جائے گا۔ لیکیویڈ فنڈز کے قابلِ تجارت جی او پی گارنٹیڈ اسلامک انسٹرومنٹ میں سرمایہ کاری کیلئے صکوک اسلامک بینکس اور میچول فنڈز کیلئے راہیں فراہم کرے گا ۔نیلم جہلم پروجیکٹ ایک ہائیڈرو پاور جنریشن فیسلیٹی ہے جس میں سرنگوں کے ذریعے دریائے نیلم کا پانی کا رُخ بدلا جاتا ہے جوبجلی پیدا کرنے کی طاقت پیدا کرنے کے بعد دریائے نیلم میں جاگرتاہے ۔ یہ منگلا اور تربیلا ڈیم پروجیکٹس کی تکمیل کے بعد ملک کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ہے ۔ ا س کی تکمیل سے سالانہ 5.15بلین یونٹس بجلی کی پیداوار ممکن ہوسکے گی، اس گرین انرجی سے واپڈا کو موجودہ ٹیرف کے مقابلے میں سالانہ 50بلین روپے کا کل ریوینیو حاصل ہوگا۔ یہ پروجیکٹ جولائی 2017ء کے اختتام تک مکمل ہوجائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واپڈا کے چیئر مین نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ کسی بھی سرکاری شعبے کے منصوبے کیلئے کسی مقامی بینک سے لیا جانے والا آج تک کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ یہ تاریخی سنگِ میل نہ صرف وفاقی حکومت اور واپڈا پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے بلکہ سرمایہ کاری کے اُن امکانات کی نشاندہی بھی کرتا ہے جو ہائیڈرو پاور سیکٹر ملک میں پیش کررہا ہے ۔ اُنھوں نے وزیرِ اعظم، پانی و بجلی کے وفاقی وزیر اور وفاقی وزیرِ مالیات کا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کیلئے ریکارڈ سرمائے کا انتظام کرنے میں اُن کی رہنمائی اور مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کیا ۔اُنھوں نے مزید کہا کہ جہلم ہائیڈرو پاورکیلئے 100 بلین روپے مالیت کے صکوک کا اجرامستقبل قریب میں ملک کے بنائے جانے والے دیگر ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کیلئے فنڈز کا انتظام کرنے میں بھی خاطر خواہ معاون ثابت ہوگا۔چیئر مین نے کہا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ایک عالمی سطح کی زیرِ زمین پاور جنریشن فیسلیٹی ہے جو آزاد جمّوں و کشمیر میں دریائے نیلم پر قائم کی گئی ہے۔ پروجیکٹ کا 90%تعمیراتی کام بلند و بالا پہاڑوں تلے اور صرف 10%کا م سطح پر ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پروجیکٹ پر تعمیراتی کام اچھی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اوراب تک مجموعی طور پر پروجیکٹ کا 82%کام مکمل ہوچکا ہے۔ بر محل مالی انتظام کاری کی بدولت واپڈا پُراعتماد ہے کہ پروجیکٹ کا پہلا یونٹ جولائی 2017ء میں حوالے کردے اور بعد ازاں دیگر 3یونٹس بھی دسمبر2017ء کے اختتام تک مکمل کرلے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ اپنی تکمیل کے بعد یہ پروجیکٹ نیشنل گرڈ میں سالانہ 5.15بلین یونٹس سستی اور ماحول دوست بجلی کا حصّہ ملائے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر