کبھی موٹرسائیکل، اے سی کبھی نقد رقم کی فرمائشیں، لالچی شوہر نے بیوی کے بازو توڑ دئیے، زندہ جلانے کی کوشش

کبھی موٹرسائیکل، اے سی کبھی نقد رقم کی فرمائشیں، لالچی شوہر نے بیوی کے بازو ...
کبھی موٹرسائیکل، اے سی کبھی نقد رقم کی فرمائشیں، لالچی شوہر نے بیوی کے بازو توڑ دئیے، زندہ جلانے کی کوشش

  


لاہور (ویب ڈیسک) کوٹ لکھپت کے علاقے میں جہیز کی لعنت اور نشئی شوہر کی بڑھتی ہوئی فرمائشوں نے ایکا ور گھر اجاڑ دیا، پیسوں کا تقاضا پورا نہ کرنے پر اوباش شوہر نے 3 ماہ قبل دلہن بننے والی خاتون پر سپرٹ چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے ہاتھ جلادئیے۔ لوہے کی راڈں سے وار کرکے بازو توڑ ڈالے، پولیس نے خاتون کی والدہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرلیا، گرفتاری کے خوف سے ملزم روپوش ہوگیا۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

تفصیلات کے مطابق کوٹ لکھپت کے علاقہ مخدوم آباد چونگی امرسدھو میں رہائشی محمد اعجاز نے پولیس کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ محنت مزدوری کرتا ہے۔ چند ماہ قبل اس نے اپنی 23 سالہ بیٹی فائزہ کیش ادی علاقہ میں رہائشی طاہر سے کی تاہم شادی کے چند روز بعد ہی طاہر جنونی ہوکر تشدد پر اترآیا۔ آئے روز میری بیٹی پر تشدد کرتا اور اس کے سامنے بلی کے بے زبان بچوں کو لاکر انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتا اور اس کو طعنے دیتے ہوئے کہتا کہ اس کو موٹرسائیل جہیز میں نہیں دی گئی، اے سی اور نقد رقم سمیت گھڑی بھی نہ دی گئی، جاؤ اور اپنے والدین سے موٹرسائیکل اور سونے کی طلاقئی چین لے کر آؤ۔ جس پر اس کی بیٹی وعدہ کرتی اور انہیں کچھ نہ بتاتی۔ وعدہ کے دن پورے ہونے پر پھر تقاضہ کرتا اور نہ ملنے پر لوہے کی راڈوں سے تشدد کرتا۔ جہیز میں دئیے گئے بستروں کو جلا دیا کہ اس سے کیا گھر چلتے ہیں اور چند رقز قبلا س کی بیٹی پر سپرٹ چھڑک پر آگ لگانے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث اس کے ہاتھ جل گئے۔ درخواست گزار نے بتایا کہ اس کا داماد نشئی اور اوباش ہے ابھی اس کی بیٹی کے ہاتھوں کی مہندی بھی نہ اتی تھی کہ اس نے شراب کے نشہ میں دھت ہوکر کپڑے پھاڑ دئیے جبکہ سمدھی نے مزاحمت کی تو اس نے اپنے حقیقی باپ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ شادی اس کے ایک رشتہ دار نے جھوٹ بول کر کروائی تھی کہ لڑکا انتہائی محنتی اور ذمہ دار ہے مگر وہ نشئی اور اوباش نکالا۔ سینٹری کا ہنر ہونے کے باوجود بیروزگار اور میکے سے پیسے لانے کیلئے میری بیٹی پر تشدد کرتا ہے جبکہ جہیز میں زیادہ سامان نہ لانے اور زیورات کم دینے پر اس کی 3 ماہ میں ہی زندگی اجیرن کر ڈالی اور اس کو قتل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بازو توڑ ڈالا۔ پولیس نے درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کیخلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرنے کیلئے چھاپے مارنے شروع کردئیے ہیں مگر ملزم گرفتاری کے خوف سے روپوش ہوگیا جس کی تلاش کیلئے انویسٹی گیشن ونگ کی طرف سے بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔

مزید : لاہور