پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف انتہائی خوفناک سازش منظر عام پر، دشمن اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف انتہائی خوفناک سازش منظر عام پر، دشمن اوچھے ...
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف انتہائی خوفناک سازش منظر عام پر، دشمن اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازشیں یوں تو ہمیشہ سے کی جاتی رہی ہیں لیکن حال ہی میں ایک ایسی زہریلی سازش منظرعام پر آئی ہے کہ جس کا مقصد ایک جانب پاکستان کو عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دینا تو دوسری جانب اسے نیوکلئیر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے لئے نا اہل ثابت کرنا نظر آتا ہے۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی تجارت پر نظر رکھنے والے امریکی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ایک جانب نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کا خواہشمند ہے اور دوسری جانب شمالی کوریا کو نیوکلیئر مواد کی فروخت جاری رکھے ہوئے ہے۔ مذکورہ امریکی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن شمالی کوریا کو مونیل اور ان کونیل جیسی ممنوعہ اشیاءکی فراہمی اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی ذرائع کے مذموم دعوﺅں میں پاکستان کے ساتھ چین کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین کی جانب سے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو فراہم کیا جانے والا مواد بھی شمالی کوریا پہنچ رہا ہے۔ نیوکلیئر سلامتی سے متعلق پاکستان کے اعلیٰ معیارات کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان شمالی کوریا کو ایسے آلات بھی دے رہا ہے کہ جو جوہری ہتھیار بنانے میں براہ راست استعمال ہوتے ہیں۔

امریکہ نے بڑا قدم اٹھالیا، اپنا خطرناک ترین ہتھیار چین کی سرحد کے قریب پہنچادیا، خطرے کی گھنٹی بج گئی

رپورٹ کے مطابق امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیجنگ سن ٹیک کمپنی ویکیوم انڈکشن میلٹنگ فرنس بناتی ہے جنہیں یورینیم اور پلوٹونیم جیسی دھاتوںکو ریفائن کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دھاتیں نیوکلیئر وار ہیڈ کورز بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ الزامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے یہ فرنس چین سے حاصل کئے اور شمالی کوریا کو فراہم کئے ہیں۔

پاکستان کے خلاف کئے جانے والے زہریلے پراپیگنڈا میں چین پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ پاکستان کی شمالی کوریا کے ساتھ جوہری تجارت کو تحفظ فراہم کررہا ہے۔ شمالی کوریا کے دو سفارتکاروں کے اسلام آباد اور کراچی کے دوروں کا دعوٰی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کا مقصد پاکستانی جوہری پروگرام سے متعلقہ اہلکاروں سے ملاقات کرنا تھا۔

واضح رہے کہ یہ بے بنیاد الزامات اور جھوٹا پراپیگنڈا ایسے وقت پر سامنے آرہا ہے کہ جب پاکستان دنیا پر واضح کرچکا ہے کہ بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت صرف اسی صورت میں ملنی چاہیے جب پاکستان کو بھی یہ رکنیت دی جائے، اور چین پاکستان کے اس موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے بھارت کی نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں داخلے کی راہ میں رکاوٹ بناہوا ہے۔

مزید : بین الاقوامی