’یہ صرف ڈاکٹر عبدالقدیر کا قصور تھا‘ چین میں بڑی آواز بلند ہوگئی، پاکستانی ایٹمی پروگرام کے بانی کو جھٹکا دے دیا

’یہ صرف ڈاکٹر عبدالقدیر کا قصور تھا‘ چین میں بڑی آواز بلند ہوگئی، پاکستانی ...
’یہ صرف ڈاکٹر عبدالقدیر کا قصور تھا‘ چین میں بڑی آواز بلند ہوگئی، پاکستانی ایٹمی پروگرام کے بانی کو جھٹکا دے دیا

  

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈاکٹر قدیر خان پر جوہری ہتھیاروں کے پھیلاﺅ کے حوالے سے لگنے والے الزامات کا ملک کے اندر اور باہر بہت چرچا رہا لیکن پہلی بار چین کے سرکاری میڈیا میں بھی ان الزاما ت کی گونج سنائی دے رہی ہے۔

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے ریاستی میڈیا نے ایک انتہائی غیر معمولی کام کرتے ہوئے پاکستان کے نیوکلیئر ریکارڈ کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ماضی میں ہونے والے ایٹمی پھیلاﺅ کے لئے واحد ذمہ داری ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہے، جنہیں پاکستانی حکومت کی پشت پناہی حاصل نہیں تھی، لہٰذا نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بننے کے لئے جو رعایت بھارت کو ملنی چاہیے پاکستان کو بھی وہی رعایت ملنی چاہیے۔

’ان کی فوج نے ہمارے ملک کے شہریوں پر فائر کھول دئیے‘ چین اور سب سے بڑا اسلامی ملک آمنے سامنے آگئے، صورتحال سنگین ہوگئی

یاد رہے کہ بھارت جہاں ایک جانب خود نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بننے کے لئے بے چین ہے وہیں پاکستان کو اس گروپ کی رکنیت سے محروم رکھنے کے لئے بھی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان کے ماضی کے ایٹمی پھیلاﺅ کے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن نہیں بنایاجاسکتا مگر چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والے موقف نے بھارت کی اس دلیل کو باطل ثابت کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیاکا کہنا ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ چینی میڈیا نے براہ راست پاکستان کی نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں رکنیت کے لئے کیس تیار کیا ہے۔ چینی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ چین اور دیگر ممالک بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شامل کرنے کی مخالفت اس لئے کررہے ہیں کہ اس سے بھارت کا مسئلہ تو حل ہوجائے تو مگر اس سے بھی بڑا مسئلہ پیداہوجائے گا۔ بھارت نے ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے اور کوئی بھی ایسا ملک جس نے اس معاہدے پر دستخط نہ کئے ہوں صرف اسی صورت میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بن سکتا ہے جبکہ اسے گروپ کے تمام ارکان کی حمایت حاصل ہو۔

چین کا کہنا ہے کہ نا صرف وہ خود بلکہ ناروے، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ سمیت متعدد ممالک بھارت کی نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کی حمایت نہیں کرتے۔ چین کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان کو بھی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بنایا جاسکتا ہے تو اسی صورت میں بھارت کو بھی یہ حق حاصل ہوسکتا ہے۔

چینی میڈیا میں یہ موقف ایساوقت پر سامنے آیا ہے کہ جب جنوبی کوریا میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی میٹنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور چینی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بھی کہا جاچکا ہے کہ انڈیا کا اس گروپ میں داخلہ ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں ہے۔

مزید : بین الاقوامی