عدالتی حکم امتناعی کے باوجود تعمیرات جاری ،ہائی کورٹ نے ڈی جی والڈ سٹی اور سی سی پی او سے وضاحت طلب کرلی

عدالتی حکم امتناعی کے باوجود تعمیرات جاری ،ہائی کورٹ نے ڈی جی والڈ سٹی اور سی ...
عدالتی حکم امتناعی کے باوجود تعمیرات جاری ،ہائی کورٹ نے ڈی جی والڈ سٹی اور سی سی پی او سے وضاحت طلب کرلی

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے حکم امتناعی کے باوجود اندرون شہر میں غیرقانونی پلازوں اور قصر عباس امام بارگاہ کے ساتھ غیرقانونی کمرشل عمارت کی تعمیر جاری رہنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی والڈ سٹی اتھارٹی اور سی سی پی او لاہور سے وضاحت طلب کر لی ہے۔مسٹرجسٹس سید منصور علی شاہ نے اندرون شہر کے رہائشی آصف مرزا کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اندرون شہر کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لئے غیرقانونی پلازوں کی تعمیر کیخلاف حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود والڈ سٹی اتھارٹی اور لاہور پولیس کے افسر بھاری رشوت کے عوض اندرون شہر میں کمرشل عمارتیں تعمیر کروا رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ کشمیری گیٹ میں قدیم امام بارگاہ قصر عباس کے ساتھ بھی غیرقانونی پلازہ تعمیر کیا جا رہا جس کے خلاف والڈ سٹی اتھارٹی کو شکایات کی گئی لیکن والڈ سٹی اتھارٹی کے متعلقہ افسر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں، عدالت نے حکم امتناعی کے باوجود غیرقانونی پلازوں کی تعمیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی والڈ سٹی اتھارٹی اور سی سی پی او لاہور سے 15جولائی تک تحریری وضاحت طلب کر تے ہوئے پنجاب حکومت کے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ ہائیکورٹ کے حکم امتناعی پر عمل درآمد کروایا جائے۔

مزید : لاہور