وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔نویں قسط

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔نویں قسط
وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔نویں قسط

  

یہ ایک پڑیا تھی ۔انہوں نے مجھے پکڑا دی۔

’’اس میں ایک تعویز ہے اسے اپنے گلے میں پہن لینا لیکن گھر میں گھسنے کے بعد۔۔۔جب تک میں نہ کہوں اسے خود سے الگ نہ کرنا ،چاہے تمہاری کوئی عزیز ترین اور قریبی ہستی ہی کیوں نہ کہے۔ اس سے زیادہ میں اس وقت تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا۔‘‘

’’بابا جی اتنا تو بتا دیں کہ رات کو جو خواب میں نے دیکھا ہے وہ سب کیا ہے اور گلاب کی پتیاں اور پھول کہاں سے آئے تھے؟‘‘

’’آئندہ ایسا نہ ہو سکے گا اس تعویز کی موجودگی میں تم محفوظ رہو گے۔‘‘

انہوں نے میری بات کے جواب میں کہا۔

’’لیکن۔۔۔‘‘ میں نے کہنا چاہا۔

’’وہ آئندہ ایسا نہ کر سکے گی۔‘‘ جیسے وہ خود سے ہم کلام تھے۔

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔آٹھویں قسط

’’وہ ۔۔۔کون بابا جی؟‘‘ میں نے الجھ کر پوچھا۔

’’آں۔۔۔کیا کہا تم نے؟‘‘

’’آپ ابھی فرما رہے تھے وہ آئندہ ایسا نہیں کر سکے گی۔ میں پوچھ رہا تھا وہ کون ہے؟ آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟‘‘

’’جتنی بات بتانے کی مجھے اجازت تھی میں نے بتا دی کچھ دن اور گزرنے دو پھر میں تمہیں ہر بات بتا دوں گا اگر تم نے میری ان دو نصیحتوں پر عمل کیا تو؟ ‘‘انہوں نے آہستہ سے کہا۔

’’میں آپ کی دونوں نصیحتوں پر حرف بہ حرف عمل کروں گا بابا جی! میں تو آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے میری رہنمائی فرمائی ‘‘ میں نے عقیدت سے کہا۔

’’ہم سب اپنا اپنا فرض ادا کر رہے ہیں کوئی کسی پر احسان نہیں کر رہا‘‘ انہوں نے اپنی بات ختم کرکے آہستہ سے آواز دی۔’’محمد شریف!‘‘ آواز اتنی آہستہ تھی کہ میں بھی بمشکل سن پایا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دروازہ کھلا اور محمد شریف اندر داخل ہوا اور ایک طرف ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔

’’خان صاحب کو گھر چھوڑ آؤ اور گھر کا حصار بھی کر آنا۔ تین دن کے لئے۔‘‘ انہوں نے شریف سے کہا۔

’’بہت بہتر حضور!‘‘ شریف نے ادب سے کہا۔

’’کل تمہاری اہلیہ آجائے گی۔ ایک رات کی بات ہے اس کا میں نے انتظام کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا۔

’’کل۔۔۔‘‘ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا’’بابا جی! وہ تو چھ سات دن کے لئے گئی ہے۔‘‘

’’اللہ بہتر کرے گا۔‘‘ اس بات کوبھی انہوں نے میری بات کا جواب واضح نہ دیا۔

’’انسان کو اپنے دام میں لانے کے لیے شیطان کے پاس بہت خوبصورت جال ہوتے ہیں اس کے داؤ سے بچنے کی کوشش کرنا۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔‘‘

انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی کچھ پڑھ کر پھونکا اور جانے کا اشارہ کیا۔ میں بھی ان کے احترام میں الٹے قدموں واپس نکلا۔ باہر آکر میں نے کلائی بندھی رسٹ واچ پر نظر ڈالی۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ باہر نکل کر میں نے شریف سے پوچھا۔

’’شریف مجھے تمہارے والد محترم کی کافی باتیں سمجھ نہیں آئیںَ‘‘

’’قابل صد احترام ابا جان نے جو کچھ آپ کو بتایا ہے سب کچھ آپ کو خود بخود سمجھ آجائے گا بس آپ تھوڑا انتظار کرلیں‘‘ اس نے بڑے ملائمت سے مجھ سمجھایا پھر موٹر سائیکل باہر نکالی بلند آواز سفر کی د عا پڑھی اور ہم چل پڑے۔ جاری ہے

میں پہلے ہی کافی الجھا ہوا تھا۔ شریف کے والد کی باتوں نے میری الجھن میں اور اضافہ کر دیا تھا۔

’’اس سے تو اچھا تھا میں نہ آتا۔‘‘ میں نے دل میں سوچا۔ہم تقریباً آڈھ گھنٹے میں گھر پہنچ گئے ۔ میں نے تالہ کھول دیا شریف نے موٹر سائیکل گیراج کھڑی کی اور میرے ساتھ اندر آگیا۔

’’مجھے وہ کمرہ دکھا دیں جہاں کل رات آپ سوئے تھے‘‘ اندر آنے کے بعد اس نے کہا۔ میں اسے بیڈ روم میں لے آیا۔ جیسے ہی ہم کمرے میں داخل ہوئے میں ششدر رہ گیا۔ بیڈ پر ایک بھی گلاب کی پتی موجود نہ تھی۔ نہ وہ گلاب مجھے کہیں دیکھائی دیا جو تکیے پر پڑا تھا۔ صبح جب میں گھر سے نکلا تو سب کچھ ویسے ہی چھوڑ گیا تھا۔ اب بیڈ ایسے صاف تھا جیسے کبھی پھول کی ایک پتی بھی اس کمرے میں نہ لائی گئی ہو۔ محمد شریف نے مجھ سے ایک جائے نمازطلب کی اور اس پر بیٹھ کر کچھ پڑھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ گیا۔

’’جناب! میں نے گھر کا حصار کر دیا اب آپ بے فکر ہو جائیں۔‘‘

’’شریف ایک بات بتاؤ۔ بابا جی تو بزرگ ہیں میں کچھ زیادہ پوچھ نہ سکا۔ کہیں ناراض نہ ہو جائیں تم تو میری الجھن رفع کر دو۔۔۔یار!‘‘ میں نے بے تکلفی سے پوچھا کچھ تو وہ میرا ماتحت تھا اور عمر میں بھی وہ مجھ سے سال دو سال چھوٹا ہی دکھتا تھا۔

’’پوچھیں خانصاحب! اگر میں جانتا ہوا تو ضرور بتاؤں گا۔‘‘ وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔ میں نے ا سے رات والا خواب بتانا چاہا۔

’’کچھ کچھ میں جانتا ہوں۔ آپ وہ بات بتائیں جو کہہ رہے تھے‘‘ وہ میری بات کاٹ کر بولا۔

’’یہ سب کیا ہے ؟ صبح جب میں اٹھا تو بیڈ گلاب کی پتیوں سے بھرا ہوا تھا سب کچھ ویسے ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا لیکن اب ایک بھی پتی دکھائی نہیں دے رہی۔ بابا جی کہہ رہے تھے وہ خواب نہیں تھا۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے جبکہ میری بیوی تو مجھ سے میلوں دور بیٹھی ہے؟‘‘ میں نے اپنی الجھن اس پر واضح کی۔ اچانک باہر سے بلی کے رونے کی آواز آئی۔ محمد شریف نے چونک کر دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ چھا گئی۔

’’خالق کائنات نے انسان کے علاوہ کچھ اور مخلوقات بھی پیدا کی ہیں۔ جو اس دنیا میں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ان میں بھی انسانوں کی طرح اچھے بڑے موجود ہیں۔ ہر چند کہ ان پر بھی پابندیاں ہوتی ہیں لیکن انسانوں کی طرح ان میں بھی نیک و بد، نامفرمان و فرمان بردار، اللہ کے بندے اور شیطان کے پیروکار ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ اپنی حدود سے تجاوز کرکے انسانوں کو ستانے کے لیے چلے آتے ہیں جس کی وہ روز آخرت سز پائیں گے ایسے ہی کچھ اثرات میں یہاں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ اس نے بڑے رسان سے مجھے سمجھایا۔

۔۔

میرے ذہن میں پروفیسر صاحب کا جملہ گونجا۔’’کچھ جاہل قسم کے لوگوں نے اس گھر کے بارے میں خرافات اور افواہیں پھیلا رکھی ہیں کہ یہ گھر آسیب زدہ ہے۔‘‘

’’تو کیا اس گھر میں ایسی کوئی مخلوق موجود ہے؟‘‘ میں نے شریف کی طرف دیکھا۔

’’ہے نہیں تھی۔۔۔‘‘ اس نے میری بات کی تصحیح کی۔’’اب میں نے محترم ابا جان کی ہدایت کے مطابق گھر کا حصار کر دیا ہے آپ بے فکر ہو کر سو جائیں۔ اگر آپ کو کسی قسم کا خوف ہے تو میں آپ کے ساتھ رکنے کے لئے تیار ہوں۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔

’’ارے نہیں شریف! میں جنات وغیرہ سے قطعی نہیں ڈرتا نہ ہی میں خوفزدہ ہوں لیکن ان سب واقعات سے الجھن محسوس ضرور محسوس کر رہا ہوں۔ میری تو خواہش ہے کہ کبھی جنات کو دیکھوں کہ وہ کس قسم کے ہوتے ہیں؟‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔ ایک بار پھر بلی کے رونے کی آواز آئی۔

’’اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے‘‘ اس نے بالکل اپنے والد صاحب کی طرح کہا۔’’اب مجھے اجازت ہے؟‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

’’ٹھیک ہے محمد شریف تمہارا شکریہ اس نا وقت زحمت کے لئے‘‘ اس نے سلام کیا اور باہر نکل گیا میں نے گیٹ بند کیا اور بیڈ روم میں آگیا۔ کچھ دیر جاگتا رہا پھر نیند کی دیوی مجھ پر مہربان ہوگئی۔ دوسرے دن میری آنکھ دیر سے کھلی میں جلدی سے تیار ہو کر بینک پہنچ گیا۔ شریف کے والد صاحب کا کہا سچ ثابت ہوا۔ صائمہ دوسرے دن واپس آگئی تھی۔ وجہ اس نے یہ بتائی کہ وہ میرے بارے میں پریشان تھی کہ نہ جانے میں وقت پر کھاتا پیتا بھی ہوں کہ نہیں۔ صائمہ کی غیر موجودگی میں جو کچھ ہوا تھا میں نے اس کا ذکر اس سے نہ کیا تھا۔ وقت اپنی مخصوص رفتار سے گزرتا رہا۔ ایک دن میں حسب معمول بینک سے گھر پہنچا تو گیراج میں گاڑی کھڑی تھی ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز آرہی تھی میں نے سوچا نازش اور عمران آئے ہوں گے۔ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو مالک مکان پروفیسر عظمت بیگ ایک سو برسی خاتون کے ہمراہ موجود تھے۔ صائمہ نے ٹیبل پر چائے اور دیگر لوازمات سجا رکھے تھے۔ اس معاملے میں وہ بہت حساس تھی کہ اس کے گھر سے کوئی کھائے پئے بغیر نہ چلا جائے۔ میں نے ادب سے سلام کیا تو وہ ہنس کر بولے۔

’’برخوردار! تم تو ٹھہرے بڑے افسر ہم نے سوچا کیوں نہ خود ہی مل آئیں۔‘‘

’’پروفیسر صاحب ! بس کچھ نکما پن ہے ورنہ تو کئی بار سوچا آپ سے ملاقات کرنے کے بارے میں‘‘ میں ان کے خلوص کے سامنے شرمندہ ہوگیا۔ وہ کافی دیر بیٹھے رہے پھر ہمیں آنے کی تاکید کرکے رخصت ہوگئے۔

میں نے یہاں تبادلے کے فوراً بعد ہی گاڑی کے لئے لون اپلائی کیا تھا جو منظور ہوگیا۔ دوسرے دن میں جا کر شو روم سے گاڑی لے آیا۔ بچے بہت خوش تھے کہ اب وہ روزانہ سیر کے لیے جا سکیں گے۔ کچھ دن بعد مجھے کسی آفیشل کام کے لئے ملتان جانا پڑا جو شام چار بجے کے قریب ختم ہوا۔ میرا خیال تھا میں ایک دو گھنٹے میں گھر پہنچ جاؤں گا۔ لیکن اس دن ملتان میں کسی مذہبی تنظیم نے جلوس نکالا تھا جس کی وجہ سے سارے راستے بند تھے۔ جو ایک آدھ کھلا تھا وہاں پر بھی ٹریفک کا اتنا رش تھا گاڑی تو کجا پیدل جانے کے لیے بھی راستہ نہ تھا۔ ایک جگہ ٹریفک جام میں پھنس گئے۔ خیر خدا خدا کرکے راستہ کھلا۔ میں نے گھڑی دیکھی شام کے پانچ بج رہے تھے۔ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی میں محتاط انداز سے گاڑی چلاتا رہا۔ آگے سڑک کچھ ٹھیک تھی میں نے سپیڈ بڑھائی نئی گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ میں جلد از جلد گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔ اچانک میری نظر سڑک کنارے کھڑے ایک مرد اور برقع پوش عورت پر پڑی جو ہاتھ ہلا ہلا کر گاڑی روکنے کا اشارہ کر رہے تھے۔(جاری ہے)

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔دسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

رادھا -