عیدی دھندہ

عیدی دھندہ
عیدی دھندہ

  

دنیا بھرمیں سوفٹ ٹیکنالوجی کے آنے سے جہاں ایک مثبت تبدیلی آئی ہے تو کرپٹ لوگوں نے بھی اس کا خوب فائدہ اٹھایا ہے،انہوں نے ابھی اپنی لوٹ مار کو سوفٹ نام دے دیے ہیں،رشوت کو مٹھائی،خوشی کا نام دے کر جیبیں بھری جاتی ہیں،اب چونکہ عید کا موقع ہے تو یہاں ”عیدی“ جیسے خوبصورت جذبے کو بھی اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔خوشیاں سب کا حق ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اخلاقیات قانون کو پس پشت ڈال دیا جائے۔

رمضان المبارک میں سب نے دیکھا کہ کیسے کیسے ہم عوام کی خدمت کرتے پائے گئے،ہمارے روزے کیسے کمال کے گزرے ہیں،جس کا اندازہ حکمران جماعت کے نمائندوں، کارندوں اورسازندوں کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔سب چیخ چیخ کراپنی گڈگورننس کا پرچارکرتے رہے،رمضان بازاروں کے دورے کرتے پائے گئے،بڑی محنت کی ہے بیچاروں نے روزانہ مارکیٹوں میں جا کر تصویریں بنوانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

ٹی وی پر تبصرے کرنا اور اپنی حکومت کے گن گانا خالہ جی کا گھر نہیں ہے!!دیہات کی بات چھوڑیں چھوٹے بڑے شہروں میں چیزیں مہنگی تو کیا سستی بھی نہیں ہونے دیں،ہر چیز رمضان سے پہلے جس قیمت پر تھی اسی پر تو بکتی رہی ہے،معیار بھی کیا کمال تھا پیمائش بھی کیا عالمی سٹینڈرڈ کے مطابق تھی۔کلو پاو¿ تو پانچ کلو چار سیر۔

عید کا نیا جوڑا بنوانے بازار نکلا تو پہلے کوئی درزی نہ ملا ہر ایک نے ”نو بکنگ “کے بورڈ آویزاں کررکھے تھے،ایک صاحب ملے تو انہوں نے کپڑوں کی قیمت سے زیادہ سلائی کے پیسے مانگ لیے،ایک گھنٹے کی تگ و دو کے بعد ایک اور درزی کے پاس پہنچا جو شکل سے نمازی پرہیزی اور ایماندار نظر آرہا تھا اس نے بھی پہلے تو ناں ناں کی جب دیکھا مرغا ذبح ہونے کو تیار ہے تو اس نے چھری رکھ دی اوردو گنا پیسوں کے عوض جوڑا بنانے کو تیار ہوگیا،جب پوچھا بھائی پیسے زیادہ کیوں لے رہے ہو؟ صاحب فرماتے عید ہے عیدی تو لوں گا۔

مرتا کیا نہ کرتا!

دفتر پہنچا تو وہا ں بھی کئی ”عیدی“ لینے والے موجود تھے،اکاونٹس والوں نے جرمانوں کے نام پر بلیڈ مارا تو چھوٹے ملازمین نے صاحب،صاحب کہہ کر جیب کاٹ لی۔

گاﺅں سے دو تین افراد کا فون آیا کہ محافظوں نے امن اور سکیورٹی کے نام پر جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں گزرنے والوں سے ایسے عیدی وصول کی جارہی ہے جیسے ان کے باپ دادا کی کمائی پرانہوں نے قبضہ جما رکھا ہو،بتایا کہ زیادہ تر کم عمر ڈرائیوروں کو روکا جارہا تھا جو با آسانی عیدی دینے کو تیار ہوجاتے تھے، محافظوں نے پیسے نہ ہونے پر جس کو روکا پٹرول نکال لیا ہے،کئیوں نے تو موبائل فون دے کر جان بخشی کروائی،بھائی عید ہے ناں ”عیدی “ تو دینا پڑے گی۔

کوئٹہ کے بعد پارا چنار بھی لہو لہو ، طوری بازار میں یکے بعد دیگرے 2 دھماکے ،25 افراد شہید ،100سے زائد زخمی،شہادتوں میں اضافے کا خدشہ

ٹرانسپورٹرز بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے،مسافروں کو بروقت منزل پر جو پہنچانا ہے،لاہور سے لیہ تک،پنڈی سے کشمیر تک،کراچی سے خیبر تک سب کو ”عیدی“ کے نام پر چونا لگایا گیا۔اب نائیوں کی باری آئی تو انہوں نے پہلے ہی اوزار تیز کررکھے تھے بال کٹیں نہ کٹیں جیبیں ضرور کٹنی چاہئیں،ہر چیز کے دوگنے ریٹ۔ایسا تو ہونا تھا عید ہے ”عیدی“ تو بنتی ہے۔

عید کاروز تو پھر ”عیدی“ کا دن ہوگا،یہ صرف میری کہانی نہیں بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو پاکستان کا رہائشی ہے،عید کے نام پر عیدی لینے والوں نے یقیناً یہ نہیں سوچا ہوگا کہ یہ جو شخص ہے اس کے بچے کس حالت میں ہیں،اس نے یہ پیسے کیسے کمائے ہونگے،نہ جانے کتنے پہر پیٹ کاٹ کر اس نے یہ پیسے جمع کیے ہونگے،نہیں،نہیں ایسا کسی نے بھی نہیں سوچا ہوگا۔آپ کسی بھی غیرملکی سے پوچھ لیں کہ ایسا کہیں ہوتا ہے؟تو اس کا جواب نفی میں ہوگا ۔

مزید :

بلاگ -