ستائیس ہزار کا بنگلہ اور انصاف کی زیبرا کراسنگ

ستائیس ہزار کا بنگلہ اور انصاف کی زیبرا کراسنگ
ستائیس ہزار کا بنگلہ اور انصاف کی زیبرا کراسنگ

  

سابقہ خادمِ اعلیٰ شہباز شریف طبیعتاً م بھی اتنے عاجز ہونگے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔لندن میں ہی دیکھ لیں بغیر کروفر کے زیبرا کراسنگ کو نظر انداز کرتے ہوئے تیز رفتاری سے روڈ کراس کر لی۔واللہ کیا انقلاب آگیا ہے کرسی سے اترتے ہی۔

خادم اعلیٰ کے اثاثوں کی مالیت دو بیویوں کے ہمراہ پندرہ کروڑ روپے بتائی گئی ہے جس میں بارہ کروڑ کی جائداد لندن میں اور باقی پاکستان میں ہے ۔انکا ایک بنگلہ نمبر 54 C مری روڈ پر ہے جسکی مالیت سکہ رائج الوقت پاکستانی میں صرف ستائیس ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے۔

یوں تو اثاثہ جات کی مالیت ظاہر کرنے میں سب نے کسرِ نفسی سے کام لیا اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم سے مالیت بتانے کا مقابلہ چلتا رہا جو کہ تا دم تحریر جاری ہے۔

صبح سے بیشمار فون اور میسجز آچکے ہیں کئی لوگ بغیر دیکھے ستائیس لاکھ بھی دینے کو تیار ہیں۔ سب کو بتا بتا کر تھک گیا ہوں کہ میری خادمِ اعلیٰ تک رسائی نہیں ہے ویسے بھی  " شہباز تیری پرواز سے جلتا ہی زمانہ"۔ہمارے حکمرانوں کا المیہ ہے کے وہ ساری عمر کرپشن کی سڑک کراس کرنے میں عدل و انصاف کی زیبرا کراسنگ کو پس پشت ڈال دیتے ہیں جو بالآخر شدید حادثے کا باعث بنتا ہے۔سارے قومی لیڈرز انکم ٹیکس ایکٹ 2001 کے پیچھے چھپ رہے ہیں جسکی تشریح کے مطابق کسی بھی اثاثے کی موجودہ قیمت کے بجائے قیمت خرید کو پیمانہ بنایا جائے گا۔

اپنے باطن میں یہ شق ہی عدل و انصاف کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

اگر کوئی یہ امید رکھتا ہے کہ اثاثہ جات کی تفصیلات سامنے آنے پر قوم کا رویہ بدل جائے گا اور عوام صاف ستھرے لوگوں کو منتخب کر لے گی تو جناب وہ پہلی فرصت میں ایک اچھے ماہر نفسیات سے رابطہ کرے جو اسکے ذہن کی گتھیاں سلجھانے میں معاون کردار ادا کرسکتاہے۔کئی جماعتوں کے کارکنان کو تو اس بات کا غصّہ ہے کہ مخالفین کے اثاثے زیادہ ہیں اور ہمارے کم ہیں وہ اس بات کو نا اہلی سمجھتے ہیں۔

جمہوریت کی گاڑی کا سفر تیزی سے جاری ہے جسکا اگلا پڑاو عام انتخابات ہیں۔ ہمیں کامل یقین ہے کہ انتخابات کے بعد کا پاکستان پچھلے ستر سال سے مختلف ہوگا۔اب کی بار جو امیدوار منتخب ہونگے انکی دیانت کا یہ عالم ہوگا کہ " دامن نچوڑیں تو فرشتے وضو کریں"

عدالت عالیہ کی مداخلت اور حلف نامے کے باوجود قوی امید ہے کہ ننانوے فیصد امیدوار الیکشن لڑنے کے اہل قرار پائیں گے اور اس طرح صادق۔ امین افراد کی بھاری اکثریت اسمبلیوں کا حصہ بنے گی اور جلد ہی وطن عزیز کا مستقبل روشن تر ہوجائے گا اور ہمارا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔ آخر مغربی دنیا نے جو اتنی ترقی کی ہے اسکا پیمانہ بھی تو صداقت اور امانت کو ہی بنایا گیا ہے۔

اسکروٹنی کے وقت بیشتر امیدوار دعائے قنوت یاد کرتے ہوئے نظر آئے۔ کچھ چھ کلمے بھی دہراتے رہے کہ ریٹرننگ افسر صاحب کب کیا پوچھ لیں، ایک بات تو طے تھی کے امیدوار کے کردار یا پارٹی کے منشور کے بارے میں کسی نے کچھ نہیں پوچھنا ہے۔

سمجھنے کی بات اتنی ہے کہ جمہوریت کے چیمپئنز کی ترجیحات میں جمہور یا عوام دور دور تک نہیں ہیں۔جب تک قوم بے حس ظالم حکمرانوں کا احتساب نہیں کرینگے صاف ستھری قیادت سامنے نہیں لائیں گے۔ستائیس ہزار والے بنگلے سامنے آتے رہیں گے۔ کرپشن کی سڑک پر سفر ہوتا رہے گا۔ عدل و انصاف کی زیبرا کراسنگ منہ تکتی رہے گی۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ