ہرادارہ دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہا ہے ، رپورٹس میں جھول ہوا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے : چیف جسٹس

ہرادارہ دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہا ہے ، رپورٹس میں جھول ہوا تو کسی کو نہیں ...

کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کیلئے 10 روز میں فارمولا طلب کرتے ہوئے قیمتوں اور ٹیکسز کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لینے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے لوگ بلک گئے، ہر ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اوپر نیچے کر دیتے ہیں، پالیسیاں کون بنا رہا ہے، لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپ کھول لئے ہیں، یہ سب ڈیلرز اور اداروں کی اجارہ د ا ری ہے۔ عدالت پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز اور قیمتوں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں کیونکہ جس کا دل چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے۔جمعہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکسز سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ ایم ڈی پی ایس او پیش ہوئے تاہم چیئرمین اوگرا کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔دوران سماعت ایم ڈی پی ایس او نے بتایا عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے تناسب سے اوسط قیمت مقرر کی جاتی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات پی ایس او سمیت 22کمپنیاں خرید رہی ہیں، مشترکہ اجلاس میں ہر کمپنی 3 ماہ کی ڈیمانڈ رکھتی ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی رپورٹ سے مطمئن نہیں، آپ کے ریکارڈ کی ماہرین سے تصدیق کرائیں گے اور اگر رپورٹس میں جھول ہوا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ دوران سماعت ڈیلرز کے کمیشن کے تناسب میں فرق پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور کہابتائیں کراچی والوں پر ٹرانسپورٹیشن چا ر جز کیوں لاگو کرتے ہیں، یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے جس پر ایم ڈی پی ایس او نے کہا پالیسیاں اوگرا بناتا ہے۔اس موقع پر عدالت میں موجود اوگرا حکام نے کہا یہ تاثر غلط ہے کہ اوگرا پالیسیاں بناتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے طریقہ کار سے متعلق تمام پالیسیاں حکو مت بناتی ہے۔ذمے داریاں ایک دوسرے پر ڈالنے پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہر ادارہ ایک دوسرے پر ذمے داری ڈال رہا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری خزانہ نے بتایا گزشتہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، اس فیصلے کا بوجھ عبوری حکومت پر آیا لہٰذا اب خسارہ کم کرنے کیلئے مزید قیمت بڑھائی جا سکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا اس کا مطلب ہے شہریوں پر مزید عذاب ڈالیں گے، سیکرٹری خزانہ نے عدالت کو بتایا پیٹرولیم قیمتیں اب بھی خطے میں سب سے کم ہیں، چیف جسٹس نے کہا یہ بات بہت مرتبہ سن چکا، کہا جاتا ہے بھارت کے مقابلے میں قیمتیں کم ہیں تو بھارت کے ڈالرز کی قیمت بھی تو دیکھیں، بھا ر ت اچھا کر رہا ہے یا برا، آپ کیا کر رہے ہیں، لوگوں پر ترس کھانا سیکھیں۔ عدالت نے تمام متعلقہ اداروں سے جامع جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 جولائی تک ملتوی کردی۔دوسری طرف سپریم کورٹ نے سہیون ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین پر قبضہ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران قبضہ ختم کرنے کیلئے رینجرز کو اداروں کی معاونت کرنے کا حکم دیدیا ہے ۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے قبضہ ختم کرانے سے متعلق 6 ہفتوں رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔رپورٹ کے مطابق سہیون ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی 640 ایکڑزمین میں 300 ایکڑسے قبضہ ختم کرادیا ہے،قبضہ مافیا بااثر ہیں، رینجرز کے بغیر آپریشن ممکن نہیں،دیگر زمین پر قبضہ ختم کرانے کیلئے رینجرز کی نفر ی فراہم کی جائے۔ عدالت نے رینجرز حکام کوایٹی انکروچمنٹ، پولیس اور دیگر اداروں کی مدد کرنے ،ڈی جی رینجرز کو مطلوبہ نفری فراہم کرنے کا حکم دیدیا۔

سپر یم کورٹ

سکھر (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہاہے آر اوز کیخلاف بیان باز ی میں احتیاط برتی جائے ، میں وارننگ دیتا ہو ں کے ریٹرننگ آفیسر کیخلاف غیر ضروری بیان بازی سے گریز کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات یہاں ایک تقریب سے خطاب میں انکا مزید کہنا تھاہم غیر جانبدار لوگ ہیں ، الیکشن قریب آگئے ہیں ہم کسی قسم کاسیاسی تاثر نہیں دینا چاہتے۔ سیاستد ا ن بھی عدلیہ کی عزت کریں، جتنے از خود نوٹس لئے وہ بنیاد ی حقوق سے متعلق تھے۔ عوام کوصحت اور بنیادی سہولتوں کی فرا ہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جوڈیشل ریفارمز کیلئے بہت کوشش کر رہے ہیں ، ریٹرننگ آفیسر کی عزت کی جائے اور ان کیخلاف غیر ضروری بیا ن بازی سے گر یز کیا جائے،ہم نے ریٹرننگ آفیسر ز اسلئے نہیں دیئے کہ ان کیخلاف غیر ضروری بیان بازی ا ستعما ل کی جائے۔بعدازاں سول ہسپتال سکھر کا د ورہ کیا،سہولیات کے فقدان پر تعجب کا اظہار کیا جبکہ ایم ایس سے گفتگومیں کہا مجھے تفصیلی رپورٹ پیش کر یں ، میں آپکے مسائل سمجھتا ہو ں ۔ انہوں نے کہا ہسپتال میں وینٹی لیٹرنہیں تو ا یمر جنسی میں کیاکیاجا تا ہے؟ چیف جسٹس نے ٹراما وارڈ میں مر یضوں کی عیادت بھی کی، چیف جسٹس نے صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں کہا سول ہسپتال کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں ۔بعد ازاں چیف جسٹس لاڑکانہ کیلئے روانہ ہو گئے۔جہاں وہ عوام کو میسر بنیادی سہولیات کا جائزہ لیں گے۔

مزید : صفحہ اول