پولیس افسروں کے تبادلے کسی سیاسی پس منظر میں نہیں ، شفاف الیکشن کیلئے ضروری تھے : آئی جی پنجاب

پولیس افسروں کے تبادلے کسی سیاسی پس منظر میں نہیں ، شفاف الیکشن کیلئے ضروری ...

لاہور ( انٹرویو ؛ یونس باٹھ) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام نے کہا ہے کہ اعلی پو لیس افسروں کے حالیہ تبادلے کسی سیا سی پس منظر میں نہیں بلکہ ایک اعلی سطح کی خصوصی کمیٹی کی طویل مشق کے بعدکیے گئے ہیں۔الیکشن کے شفاف انعقاد کے لیے یہ تبادلے ضروری تھے اور یہ تبادلوں کا پہلا اور دوسرا ریلا تھا تیسرے مر حلے میں ڈی ایس پی سے سب انسپکٹرتک ڈویژن اور ضلع بدر کیے جا رہے ہیں۔ہمارااولین فرض الیکشن کا منضفانہ انعقاد ہے، پنجاب پو لیس فوج کے ساتھ مل کرغیر جانبدارانہ طور پر ووٹرز کو پو لنگ اسٹیشن کے اندر پر امن اور پر سکون انداز میں حق ر ائے دہی کا ما حول فراہم کر ے گی مسئلہ ئسینئر جو نیئر کا نہیں بلکہ نگران سیٹ اپ میں تفویض کے گئے منا صب معروضیحالا ت میں مکمل کیے جا تے ہیں ان خیالات کا اظہار اڈاکٹر سید کلیم امام نے روز نا مہ پاکستان سے خصوصی انٹرویو میں کیا ہے ۔ ڈاکٹر سید کلیم امام کے بارے میں معلوم ہواہے کہ ان کا شمارانتہائی پڑھے لکھے ، قابل اور پروفیشنل پولیس افسروں میں ہوتا ہے ۔ آئی جی پنجاب کے عہدے پر تعیناتی سے قبل وہ اندرون اور بیرون ممالک اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں ۔انہوں نے سیاسیات اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں پی ایچ ڈی کے علاوہ برطانیہ سے ہیومن رائیٹس لا ئمیں ایل ایل ایم اور فلسفہ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ۔ وہ بطور ایس پی سبی ، نصیر آباد ، ایس ایس پی کوئٹہ ، راولپنڈی ، اسلام آباد ، ایف آئی اے امیگریشن کے ساتھ ساتھ چیف سکیورٹی افسر برائے وزیر اعظم ، ڈائریکٹر نیشنل پولیس بیورو ، آئی جی اسلام آباد ، آئی جی نیشنل ہائی ویز اور موٹروے پولیس کے علاوہ یو این او مشن کے تحت سوڈان کے علاقے ڈارفر میں بطور پولیس کمشنر بھیذمہ داریاں سر انجام دیتے رہے ہیں ۔انہیں اعلی خدمات پر اقوام متحدہ کی جانب سے تین امن ایوارڈز ، قائد اعظم پولیس میڈل ، صدارتی ایوارڈ اور تمغہ امتیاز سے نوازا گیا ۔وہ پی ٹی ایف کے صدر جبکہ پولیس سروس آف پاکستان ایسوسی ایشنز کے نائب صدر بھی رہے ہیں ۔ انہیں پیشہ ور ، بہادر ، ایماندار ، ٹیم ورک کی مہارت اورجرات مندانہ فیصلوں کی بدولت پولیس سروس میں انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ سید کلیم امام نے بتایاہے کہ قسمت بھی محنتی لوگوں کا ساتھ دیتی ہے اور محنتی ، قابل اور ایماندار افسران محکمے کا قیمتی اثاثہ ہیں جن کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گاتمام افسر باہمی تعاون سے منظم پروفیشنل ٹیم کے طور پرکام کرتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے بروقت اور موثر اقدامات کو یقینی بنائیں ۔ موجودہ حالات میں صوبے میں پرامن ماحول میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کاانعقاد میری اولین ترجیح ہے جس کیلئے ہم سب کو قومی جذبے سے سرشار ہو کر کام کرنا ہوگا ۔ قانون کے پابند شریف شہریوں کے ساتھ بدکلامی یا بدسلوکی کرنے والے افسرں و اہلکاروں کی موجودہ سیٹ اپ میں کوئی گنجائش نہیں ، افسراعوام کے ساتھ حسن سلوک کو اپنا شعار بنائیں سخت گیر رویہ اور طاقت کا استعمال صرف قانون شکنوں اور جرائم پیشہ و سماج دشمن عناصر کیلئے ہونا چاہئیے ۔آئی جی پنجاب نے بتایا کہ انھوں نے افسروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں مقدمات کے اندراج کی مانیٹرنگ پر بطور خاص توجہ دی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قابل دست اندازی جرائم کی ایف آئی آرز کے اندراج میں تاخیر کے مرتکب افسروں واہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی میں تاخیر نہ برتی جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ میں توقع کرتاہوں کہ تمام افسر عوام کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ذمہ داریاں بھرپور محنت ، دلجمعی اور فرض شناسی سے ادا کریں گے انہوں نے تاکید کی کہ مقدمات کی تفتیش کے عمل میں تاخیر یا کوتاہی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی تفتیش میں دانستہ تاخیر اور غلط تفتیش کے مرتکب افسروں خود کو کسی رعائت کا مستحق نہ سمجھیں ۔ عوام کی سہولت کیلئے پولیس نظام میں جہاں بہتری کی گنجائش ہے اس پر بلا تاخیر عمل در آمد کیا جائے گا۔ بحیثیت پولیس کمانڈر افسروں کی راہنمائی اور سپورٹ کیلئے وہ ہمہ وقت میسرہیں اور تمام افسروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ ساتھ سٹاف کے ساتھ بھی نرم رویہ اختیار کریں۔ پولیس فورس کے مورال کو بلند کرنے کیلئے تمام تر ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

مزید : صفحہ اول