کیسا سادہ لوح احتجاجیوں کو معلوم نہیں خریدے ہوئے ٹکٹ واپس نہیں ہو سکتے

کیسا سادہ لوح احتجاجیوں کو معلوم نہیں خریدے ہوئے ٹکٹ واپس نہیں ہو سکتے
کیسا سادہ لوح احتجاجیوں کو معلوم نہیں خریدے ہوئے ٹکٹ واپس نہیں ہو سکتے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

بنی گالہ میں تحریک انصاف کے کھلاڑیوں نے بڑی رونقیں لگا رکھی ہیں، کھانے پک رہے ہیں، خوش گپیاں ہو رہی ہیں، چُہلیں اور جُگتیں بھی چل رہی ہیں، لیکن جو امیدیں ان سادہ لوح لوگوں نے اپنے لیڈروں سے وابستہ کر رکھی ہیں، وہ شاید پوری نہ ہوں۔ اخبارات میں خبر تو یہ چھپی ہے کہ بنی گالہ میں دھرنا پانچ دن سے جاری ہے لیکن ہمارے خیال میں دھرنے کا استعمال حسب حال نہیں ہے۔ دھرنا تو وہ تھا جو عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اس امید پر دیا تھا کہ استعفا آئے گا اور اس کے بعد خاموشی سے انقلاب بھی آجائے گا، لیکن دونوں نہ آئے تو ایک ایک کرکے دونوں اپنی اپنی دکان بڑھا گئے۔ ایک دھرنا پہلے اٹھ گیا، حالانکہ اس دھرنے کے شرکاء نے کفن بھی پہن لئے تھے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی قبریں بھی کھود ڈالی تھیں، لیکن یہ شاید بیکار کارکنوں کو مصروف رکھنے کا ایک بہانہ تھا، ورنہ ایسے کفنوں اور ایسی قبروں کی چنداں ضرورت نہ تھی، دوسرا دھرنا ذرا زیادہ طویل تھا اور عمران خان ریکارڈ پر ہیں کہ انہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ انہیں ایک برس بھی بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے، لیکن دھرنے سے اسی وقت اٹھیں گے جب استعفا ان کی جیب میں ہوگا، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ انہیں کسی سیانے نے مشورہ دیا تھا کہ خان صاحب ذرا ہاتھ ہولا رکھیں اور استعفے والی سیڑھی سے ایک قدم نیچے اتر آئیں تو بات بن سکتی ہے لیکن انہوں نے اس تجویز پر غور کو بھی کسر شان سمجھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں استعفا نہ ملنا تھا نہ ملا۔ یہ 2014ء کی بات ہے اس کے بعد انہوں نے ہر آنے والے برس کو الیکشن کا سال قرار دیا لیکن الیکشن اپنے وقت سے ایک لمحہ پہلے نہیں ہو رہے، جملہ معترضہ ذرا طویل ہوگیا۔ ہم عرض یہ کر رہے تھے کہ بنی گالہ کے باہر جو لوگ بیٹھے ہیں وہ دھرنا نہیں دئیے ہوئے، وہ کوئی مخالف بھی نہیں ہیں، وہ تو کھلاڑی ہیں اور اپنے کپتان سے بس اتنا چاہتے ہیں کہ وہ ٹکٹوں کے بعض فیصلوں پر نظرثانی کریں، لیکن یہ کوئی آسان کام اس لئے نہیں ہے کہ ایک تو ٹکٹ بہت سوچ بچار کے بعد دئیے گئے ہیں اور جس کام کو انجام دینے کے لئے اتنی مغزماری کی گئی ہو اسے چند سو یا ایک ہزار لوگوں کے مطالبے پر ختم نہیں کیا جاسکتا، البتہ بنی گالہ کے دروازے پر جو لوگ بیٹھے ہیں، انہوں نے اتنا ضرور کیا ہے کہ وہ ان قائدین کو اندر نہیں جانے دیتے جو ملاقات کے لئے آتے ہیں، کپتان بھی اس گیٹ کی طرف اس لئے نہیں آتے کہ ان کے کھلاڑی انہیں دیکھ کر پھر کوئی جذباتی مطالبہ نہ کر دیں۔ ہمارے ایک رپورٹر نے خبر دی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے ایک امیدوار نے ٹکٹ دینے کے لئے نو کروڑ روپے مختلف حضرات کو ادا کئے، تب کہیں جا کر انہیں یہ قیمتی ٹکٹ ملا، اب ظاہر ہے جن حضرات نے یہ رقم وصول کی ہے وہ کیوں چاہیں گے کہ ٹکٹ واپس ہو جائے، ایسی صورت میں انہیں یہ نو کروڑ روپے بھی واپس کرنے ہوں گے جو ظاہر ہے انہوں نے اس لئے تو وصول نہیں کئے تھے کہ واپس کریں گے حالانکہ جنہوں نے یہ رقم وصول کی ہے وہ پہلے سے کروڑ پتی ہیں لیکن دولت کی ہوس ایسی ہے جس سے کسی کا دل نہیں بھرتا، خالقِ کائنات نے اس لئے اپنی آخری کتاب میں فرمایا، تمہیں کثرت کی خواہش نے ہلاک کر ڈالا، یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں، اس لئے ہمارا خیال ہے کہ یہ لوگ ٹکٹوں کا فیصلہ تو بدلوا نہیں سکیں گے لیکن یہ ممکن ہے کہ چند روز تک اس طرح بیٹھے رہنے کے بعد وہ اکتا کر اٹھ جائیں یا انہیں کسی نہ کسی طریقے سے اٹھا دیا جائے، چند روز پہلے جب عمران خان نے ان لوگوں سے خطاب کیا تھا تو انہیں کہا گیا تھا کہ دس ہزار لوگ بھی آ جائیں تو وہ اپنا فیصلہ نہیں بدلیں گے، لیڈر کا عزم ایسا ہی ہونا چاہئے، وہ جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہے تو اس پر ڈٹ جاتا ہے، اگر لوگ مظاہرے کرکے یا احتجاج کرکے لیڈر سے اپنا فیصلہ بدلوا لیں تو یہ اس کی ہتک ہوگی، اس لئے یہ فیصلہ تو بدلا نہیں جائے گا البتہ ایک اطلاع یہ ملی ہے کہ اس جگہ اب پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز بھی متعین کر دی گئی۔ معلوم نہیں ان رینجرز کی تعداد کتنی ہے لیکن چند سو غیر مسلح اور اپنی ہی پارٹی کے کارکنوں کے لئے رینجرز متعین کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ کے حکم سے سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر متعین سرکاری سیکیورٹی اٹھا لی گئی ہے اور حکم یہ ہوا ہے کہ جس کسی کو سیکیورٹی کی ضرورت ہے وہ اپنے خرچ پر کرے، لیکن شاید بنی گالہ پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا یا پھر ممکن ہے جو سیکیورٹی وہاں متعین کی گئی ہو اس کا خرچ صاحب بنی گالہ برداشت کرتے ہوں، چونکہ اس ضمن میں کوئی زیادہ معلومات میسر نہیں، اس لئے وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، البتہ جو حضرات اس امید پر بنی گالہ کے باہر بیٹھے ہیں ان سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اپنا اور قیادت کا وقت ضائع نہ کریں، کیونکہ ٹکٹ واپسی کا لامکان کم ہے اور اس کی وجہ وہی ہے جو ہم شروع کی سطور میں بیان کر آئے ہیں البتہ اگر کوئی ٹکٹ ایسا ہے جو ’’مفت‘‘ میں دیا گیا ہے تو اس پر نظرثانی ہو سکتی ہے لیکن پہلے معلوم کرنا ہوگا کہ ایسا کوئی ٹکٹ ہے بھی یا نہیں۔

سادہ لوح

مزید : تجزیہ