ایک جذباتی شخص پر کالم

ایک جذباتی شخص پر کالم
ایک جذباتی شخص پر کالم

  

یہ کچھ ہفتے پرانی بات ہے جب مجھے زعیم قادری کے ساتھ گپ شپ کرنے کا موقع ملا تھا اور مجھے اس میں کچھ بھی نیا نہیں لگا تھا۔ زعیم سے تعلق کو اب بہت برس بیت گئے اور اسے مسلم لیگ ن کی قیادت سے بہت پرانے دنوں سے بہت ساری شکایات ہیں حالانکہ یہ وہ شخص ہے کہ جب پرویزمشرف کے مارشل لاء لگانے کے بعد مسلم لیگ نون کے بہت سارے سیانے اپنی کھال اور مال دونوں بچانے کے لئے جوق در جوق نواز لیگ سے رخصت ہورہے تھے تو یہ جذباتی آدمی مسلم لیگ ہاوس میں دندناتا ہواگھس آیا تھا اور پارٹی جوائن کرنے کا اعلان کر دیا تھا( اس وقت تک ڈیوس روڈ والے مسلم لیگ ہاوس کا قبضہ نواز لیگ کے کارکنوں اور عہدے داروں کے پاس ہی تھا)۔ لوگ حیران ہوئے تھے اور بعد ازاں یہ حیرانی اس وقت بڑھتی چلی گئی جب زعیم قادری نے پولیس والوں سے تھانوں میں باقاعدہ تشدد بھی برداشت کیا۔ زعیم بولنے میں اتنا ہی منہ پھٹ ہے جتنا کوئی بلڈ پریشر کا مریض ہو سکتا ہے۔ ہزاروں ٹی وی پروگراموں میں اپنی جماعت اور نظرئیے کا دفاع تو عقل اور سمجھ کی بات ہے مگر تقریبا ہر نجی محفل میں ہر سننے والے کو اپنا دوست اور رازدار سمجھ کر الٹی سیدھی ہانکنا کہاں کی عقل مندی اور سمجھداری ہے۔

اپنی پارٹی کا ایسے میں بڑھ چڑھ کے دفاع زعیم حسین قادری کا بڑا کریڈٹ ہے جب مسلم لیگ نون کے پاس ٹی وی پروگراموں میں اپنی پارٹی اور قیادت کا دفاع کرنے والوں کا دو وجوہات کی بنا پر کال ہے، پہلی وجہ یہ کہ مسلم لیگ (ن) کے بہت سارے ارکان اسمبلی اور عہدے دار جب بولتے ہیں اور جس پائے کی گفتگو فرماتے اور دلائل سے نوازتے ہیں تو دل یہی چاہتاہے کہ ان سے خاموش رہنے کی درخواست کر دی جائے کہ شائدخاموشی زیادہ موثر ہو ۔ دوسرے انگلیوں پر گنے جانے والے چند رہنما اچھا بولتے ہیں مگر ان کی بڑی تعداد ٹی وی پروگراموں کے پھڈے میں پڑنا ہی نہیں چاہتی، ان کی سیاست ویسے ہی اچھی چل رہی ہے تو انہیں الٹے سیدھے سوالوں کے جواب میں بے عزت ہونے میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا، ایسے میں زعیم قادری اینکروں کے چند پسندیدہ لوگوں میں شامل ہے، وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ چینل چھوٹا ہے یا بڑا، اس کا اینکر اس کا واقف ہے یا نہیں اسے بس اتنا وقت چاہئے ہوتا ہے کہ وہ ایک ٹی وی چینل سے اٹھے اور دوسرے پر جا کے بیٹھ جائے، باقی اللہ اللہ خیر سلا!

جب زعیم قادری اتنا اچھا ہے تو پھر خرابی کہاں ہے، وہ میں نے کچھ پہلے بیان کردی اور باقی اب بیان کر دیتا ہوں کہ موصوف کو اپنی زبان پر ٹی وی پروگراموں کے علاوہ بھی قابو نہیں ہے،جو دل میں ( دماغ میں نہیں) آتا ہے وہ بول دیتے ہیں ، ماحول اور افر اددیکھے بغیر ہی اپنے تئیں حق گوئی کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ زعیم قادری کا پہلا شکوہ یہ تھا کہ انہیں ایم پی اے تو بنا دیا گیا تھا ،جلاوطنی کے دوران میاں نواز شریف کا ترجمان بھی مقرر کر دیا گیا تھا مگر انہیں وزیر نہیں بنایا گیا تھا حتیٰ کہ ٹی وی پروگراموں میں ان کے سعید غنی جیسے مخالفین بہت چھیڑتے بھی تھے۔ زعیم قادری کے لئے یہ ایک بڑا مسئلہ تھا کہ اس سے شہرت اورقربانی میں پیچھے رہنے والے بلکہ قاف لیگ سے آنے والے وزیر بن گئے تھے مگر وہ سمجھتے تھے کہ انہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ ابھی حال ہی میں ختم ہونے والے دور میں انہیں اور ان کی اہلیہ کو پنجاب اسمبلی کا رکن بنایا گیا تھا اور بعدازاں سپریم کورٹ میں صاف پانی کیس کی سماعت سے علم ہوا کہ ان کے بھائی اوراہلیہ کو اس کمپنی کا ڈائریکٹر بھی بنایا گیا جہاں اچھی خاصی لاکھوں روپوں میں تنخواہ بھی تھی۔ زعیم قادری وزیر بھی بن گئے تھے مگر مسئلہ یہ تھا کہ انہیں قادری سلسلے اور گدی نشین خاندان کا فرزند ہونے کی وجہ سے اوقاف کا وزیر بنایا گیا تھا جبکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے پاس اطلاعات کی وزارت ہونی چاہئے تھی۔ وہ نجی محفلوں میں شکوہ کرتے تھے کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات میاں مجتبی شجاع الرحمان کب اس وزارت کا حق ادا کرتے ہیں اور یہ کہ پنجاب حکومت کے ترجمان بنائے جانے والے ملک احمد خان کہاں ان کے پائے کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کی باتیں اور شکوے درست سمجھے جا سکتے ہیں مگران کی تعداد اور شدت درست نہیں تھی۔ زعیم قادری لاہوری ہیں اور ان کی باتیں بھی لاہوری انداز میں ہی ہوتی ہیں جن میں کئی الفاظ گفتگو کی لہر میں غیر اخلاقی اور غیر پارلیمانی بھی ہوجاتے ہیں۔ اب یہ تو ہونہیں سکتا تھا کہ زعیم قادری جن ایروں غیروں اور نتھوخیروں کو اپنا دوست سمجھتے ہیں وہ واقعی ان کے دوست ہوں۔ستم ظریفی یہ تھی کہ وہ ٹی وی پروگراموں میں بولتے بولتے جب بریک آتی تو اس بریک کے درمیان بالکل مختلف موقف اور لہجہ اختیار کر لیتے ۔ پھر یوں ہوا کہ ان کی باتیں ثبوت کے ساتھ قیادت تک پہنچنا شروع ہو گئیں۔

لاہور کی حالیہ سیاست میں ایک اہم امر یہ ہے کہ اس شہر کی ووٹروں میں سب سے مقبول جماعت کے رہنماوں کی اکثریت یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ کوئی حلقہ ان کا اپنا ہے یوں زعیم قادری ٹاون شپ اور گرین ٹاون وغیرہ کے جس حلقے سے ایم پی اے بنے وہاں ان کی اپنی حیثیت کچھ زیادہ مضبوط نہیں تھی اوریہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے وزیر بننے کے بعد وہاں کچھ زیادہ تو جہ دینے کی بھی زحمت نہیں کی جس کے نتیجے میں اس علاقے کی مسلم لیگی تنظیم اور کارکنوں میں ان کا اثر ورسوخ کم رہا بلکہ مخالفت رہی ۔ زعیم قادری نے جب بہت سارے دوسرے رہنماوں کی طرح قومی اور صوبائی دونوں حلقوں سے الیکشن لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا تو پارلیمانی بورڈ کے پا س پانچ برس تک وفاداری نبھانے اور الیکشن میں ایک لاکھ سے زائد ووٹ لے کر جیتنے والے ایم این اے وحید عالم خان کا مقدمہ بہت مضبوط تھا جبکہ زعیم قادری اپنے ساتھ پورے گروپ کو ٹکٹیں دلوانا چاہتے تھے۔ لاہور مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے اور اس وقت بھی تمام سرویز کے مطابق لاہور کی تمام سیٹیں نون لیگ کے لئے کلئیر ہیں۔ زعیم قادری کو ان کے پرانے صوبائی اسمبلی کے حلقے تک محدود کیا گیا اور بعض حلقوں کی طرف سے امید دلائی گئی کہ ضمنی الیکشن میں نشستیں خالی ہونے پر انہیں قومی کا الیکشن بھی لڑوایا جا سکتا ہے۔ وحید عالم خان کا پس منظر سیاسی وفاداری کے علاوہ بھی ہے اور زعیم قادری کا خیال ہے کہ بعض قانونی مسائل پرمدد کی وجہ سے حمزہ شہباز شریف نے وحید عالم خان کی سپورٹ کی ہے۔

مجھے زعیم قادری ذاتی طور پر اچھا لگتا ہے مگر اس کا مسئلہ اس کاحد سے زیادہ جذباتی پن ہے۔ آپ مجھ سے پوچھیں تومیں کہوں گا کہ جذباتی ہونا بھی کوئی مسئلہ نہیں کہ زندگی میں جذبات نہ ہوں تو پھر اس میں کیا خوبصورتی باقی رہ جائے مگر بات بات پر پھٹ پڑنا اور اختلاف کرنا سیاست میں برداشت نہیں ہوتا، یہ نہیں کہ انسان خوشامدی اور کاسہ لیس ہوجائے مگر یہ بھی نہیں کہ آپ ہر وقت مخالفوں ہی نہیں بلکہ اپنوں کے لئے بھی لٹھ ہاتھ میں لئے بیٹھے ہوں۔بہت سارے یہ سمجھتے ہیں کہ صاف پانی کیس میں نیب کی طلبیوں کے بعد زعیم قادری نے اپنی فیملی کو بچانے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے جواحتساب کے ادارے کی مشرف دور سے اب تک کی کارکردگی میں کچھ غلط بھی محسوس نہیں ہوتا مگر میرا خیال یہ ہے کہ زعیم قادری کا مسئلہ صرف جذباتی ہونا ہے، اس کے جذباتی پن نے اسے فائدہ بھی بہت دیا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اب وہ ملک کی جانی پہچانی سیاسی شخصیت ہے مگر زعیم میرے دوست، غصے میں بھی اس امر کا خیال ضرور رکھا جانا چاہے کہ آپ لات کب اورکس طرف مار رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم