’’فلم بینوں کی عید‘‘

’’فلم بینوں کی عید‘‘
’’فلم بینوں کی عید‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایک عاشق نے کہا ’’عید آتی ہے تو دید ہوتی ہے‘‘ دوسرے نے کہا ’’دید ہوتی ہے تو عید ہوتی ہے‘‘ تو کیا کیجئے کہ عید کے بارے میں ہر کسی کا اپنا خیال و جمال اور فکر و ملال ہوتا ہے لیکن فلم بینوں کی عید تو ایک فلم یا کئی فلمیں دیکھ کر ہوتی ہے، حالات کیسے بھی ہوں، مصروفیت کتنی بھی ہو، مسائل و مشکلات کا اژدھا پھن پھیلائے کھڑا ہو یا کسی زہریلی ناگن نے راستہ روک رکھا ہو فلم بین سینما پہنچ کر رہے گا، یہ بھی ایک جنون ہے جیسے لیلیٰ کو مجنوں اور سوہنی کو مہینوال سے ملنے کا جنون تھا، پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد فلم بینی کا جو جنون ہوا کرتا تھا اگرچہ اس میں اب کمی واقع ہوتی جارہی ہے لیکن یہ جنون ابھی مرا نہیں زندہ ہے، ہم نے سالہا سال تک عیدین پر ریلیز ہونے والی فلموں پر شائقین کا رش دیکھا ہے، وہ دور جب میکلوڈ روڈ اور ایبٹ روڈ پر فلم بینوں کے ٹھٹھوں کے ٹھٹھہ نظر آتے تھے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، اب گزشتہ کئی برسوں سے پاکستانی فلمی صنعت طویل صحرا میں کھڑے تنہا درخت کی مانند ہے اور اس صنعت سے کروڑوں روپے کمانے والے فلمساز و ہدایت کار، اداکار اور سٹوڈیوز مالکان اب یاس کی تصویر بنے بیتے دنوں کی حسین یادوں میں گم ہیں لیکن اس صنعت پر سرمایہ کاری کرنے کا زبانی شوق رکھنے کے باوجود تجوریوں میں بند روپے کو چھونے سے خوفزدہ ہیں، اس صنعت کی تباہی و بربادی کے بارے میں جو آہ و بکا جاری ہے اس میں برابر کے شریک ہیں لیکن مگر مچھ کے آنسو ہمیشہ سے دکھوں کا مداوا کرنے سے قاصر ہیں۔

لاہور کے سٹوڈیوز میں فلمسازی ٹھپ ہوئی تو بھارتی فلموں کے رسیا ڈسٹری بیوٹرز کو موقع ملا اور انہوں نے بھارت سے نئی فلمیں منگوا کر پورے جوش و خروش سے ریلیز کرنا شروع کردیں اور یہ تاثر دیا کہ اگر وہ بھارتی فلموں کو پاکستانی سینماؤں پر ریلیز نہ کریں گے تو یہاں رہا سہا سینما کلچر بھی ختم ہو جائے گا، جب ملکی فلمی صنعت میں سرے سے ہی دم خم نظر نہ آیا تو فلم بینوں کے علاوہ فلمی ناقدین کو بھی یہ ماننا پڑا اور انہوں نے بھی اس کار خیر کو تسلیم کرلیا اور ہمارے ہاں کے سینما مالکان تو شروع سے ہی روپے کے پجاری ہیں، کاروباری اصولوں کی پاسداری تو انہوں نے اس دور میں بھی نہ کی جب ملکی فلمی صنعت پورے جوبن پر تھی، ملکی فلمی صنعت کی تاریخ گواہ ہے کہ سینما مالکان نے ڈسٹری بیوٹرز کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کو ہمیشہ نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خاطر خواہ بزنس کرتی ہوئی فلموں کو بھی سینماؤں سے اتار کر نئی فلموں کو ریلیز کردیا، ان کی اس روش سے فلمسازوں اور ڈسٹری بیوٹرز کو تو جو نقصان ہونا تھا ہوا لیکن اس کا نتیجہ انہوں نے بھی بھگت لیا کہ آج میکلوڈ روڈ پر ایک بھی سینما نہیں رہا، جبکہ ایبٹ روڈ پر سوائے شبستان اور پرنس کے کوئی بھی سینما اپنی اصلی شکل و صورت میں نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے کچھ دیر پہلے ایک فلم پالیسی کا اعلان کیا تھا جس میں متعدد خوش کن ضمنی اعلان بھی تھے جن میں ایک یہ بھی تھا کہ اب عیدین پر یا دیگر اہم قومی تہواروں پر پاکستانی سینماؤں پر صرف پاکستانی فلمیں ریلیز ہوا کریں گی، اگرچہ فلم پالیسی کے حوالے سے ملکی فلمی صنعت کی بہتری کا خواب کب پورا ہوگا اس کے لئے انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، تاہم فوری طور پر اتنا فائدہ تو ہوا ہے کہ عیدالفطر پر صرف پاکستانی فلمیں ریلیز کرنے کے اعلان پر عمل درآمد ہوا جس سے خوشگوار حیرت کے علاوہ فلمی صنعت کی بہتری کی توقع بھی ہوئی، عیدالفطر پر اردو زبان میں ریلیز ہونے والی چار فلموں میں سے کہنہ مشق ہدایت کار و فلمساز جاوید شیخ کی فلم ’’وجود‘‘ ایک ایسی فلم ہے جسے ہر لحاظ سے ایک مکمل فلم کہا جاسکتا ہے، باقی تین فلمیں سات دن محبت ان ’’آزادی‘‘ نہ بینڈ نہ باراتی ’’سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جانے والے لطائف کی مانند ہیں، جن کی پذیرائی محدود اور فلم بینوں کی طبیعت پر موقوف ہے لیکن اتنا تو کہا جاسکتا ہے کہ نوجوانوں کی ٹیموں نے اپنے دل کی بھڑاس خوب نکالی اور اپنے ارمانوں کو جی بھر کے پورا کیا، علاوہ ازیں ملک میں فلمی صنعت کی بحالی کے عمل میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال کر ایک احسن اور قابل تعریف اقدام کیا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ نئے ٹیلنٹ کے نام سے سامنے آنے والے نوجوان فلم میکر بنیادی طور پر بھارت میں بننے والی موجودہ فلموں سے متاثر ہیں اور اسی ڈگر پر فلم بنانے کو کامیابی کی ضمانت سمجھتے ہیں دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان کا نہ تو کوئی سکول آف تھاٹ ہے اور نہ ہی کسی ایسے ادارے کے تربیت یافتہ ہیں جن کے ریکارڈ پر فلم سازی کا وسیع تجربہ موجود ہو یہ سارے نوجوان ہلہ گلہ پروڈکشن کی پیداوار ہیں اور ان فلموں کو پسند کرنے والے بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، یہ ممی ڈیڈی مخلوق ہے جس کے نزدیک کوئی بھی کام کرنے کے لئے نہ صلاحیت اور نہ ہی تربیت کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر جو پنجابی فلمیں ریلیز ہوئی ہیں ان میں ’’ملک بہادر‘‘ ’’فیصلہ گجر دا‘‘ اور ’’مارکیٹ‘‘ شامل ہیں، جہاں تک پہلی دو فلموں یعنی ملک بہادر اور ’’فیصلہ گجر دا‘‘ کا تعلق ہے تو ان کے ناموں سے اندازہ کرسکتے ہیں، کہ یہ فلمیں کیسی ہونگی، البتہ مارکیٹ نامی فلم میں کسی موضوع کی توقع کی جاسکتی ہے، ان تینوں فلموں میں کام کرنے والے اداکار اور تکنیک کار بھی خود رو پودوں کی مانند جن کی مہک اپنے ارد گرد تک محدود ہوتی ہے، اسی طرح کی صورتحال پشتو فلموں کی ہے۔

پاکستانی جدید سینماؤں پر بھارتی فلمیں ریلیز کرنیوالوں کو خوب اندازہ ہے کہ سسکتی ہوئی ملکی فلمی صنعت میں اب وہ لوگ نہیں ہیں جن کے بارے میں یہ توقع کی جاسکے کہ وہ بھارت میں تیار کردہ فلموں کے مقابلے میں ایسی فلمیں بنا سکیں جو ملک میں اور ملک کے باہر بھارتی فلموں کا مقابلہ کرسکیں، ہمارے ہاں اب انور کمال پاشا، شریف نیئر، حسن طارق، خواجہ خورشید انور، مسعود پرویز پنجابی فلموں کے حوالے سے ایم جے رانا، سیف الدین سیف، ایم اکرم، عنائت حسین بھٹی، کیفی، حیدر چودھری، وحید ڈار، ایس اے بخاری، یونس ملک، الطاف حسین، اور متعدد نامور ہدایت کاروں جیسے اس لئے پیدا نہیں ہوسکتے کہ اب تجربہ کار افراد سے تربیت حاصل کرنے کا سلسلہ کب کا ختم ہوچکا ہے، وہ اداکار بھی نہیں رہے جنہوں نے ایک ایکسٹرا سے کام کا آغاز کیا اور تجربات کی بھٹی سے گذر کر کندن بنے اور سالہا سال تک فلم سکرین پر راج کیا،اردو فلموں میں محمد علی، وحید مراد، شاہد، ندیم نہیں رہے، پنجابی فلموں میں سلطان راہی، یوسف خان، مصطفےٰ قریشی، اقبال حسن جیسے منجھے ہوئے اداکار نظر نہیں آتے، اسی طرح ہیروئنوں میں صبیحہ خانم، بہار، فردوس، اور انجمن کا نعم البدل نہیں ملا، موسیقی کے شعبے میں جی اے چشتی، فیروز نظامی، رشید عطرے، ماسٹر عنایت حسین، ماسٹر عبداللہ، وزیر افضل، بخشی وزیر، نثار بزمی، نذیر علی، وجاہت عطرے، کمال احمد اور کتنے ہی ایسے ہیرے کہاں ملیں گے، جو اردو اور پنجابی فلموں کو اپنے گیتوں کا سہارا دے کر ان کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے، اس صورت حال میں کیا اس قسم کی کوئی قیاس آرائی کی جاسکتی ہے کہ فلمی صنعت پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکے گی، عروج کی باتیں کرنا تو دیوانے کی بڑکے سوا کچھ نہیں ہے، حکومت نے جس فلم پالیسی کا اعلان کیا ہے اس پر عمل درآمد صرف سرمایہ کاری سے ممکن نہیں ہے، اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تربیت یافتہ ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اسکے ماضی حال اور مستقبل کا ادراک رکھتے ہوں، مایوسی گناہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ فلمی صنعت میں نئے سرمایہ کاروں کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے جہاں سے تیار کردہ فلم آپ پوری دنیا میں بڑے فخر کے ساتھ پیش کرسکیں، ہلا گلہ پروڈکشن یا نوجوانوں کی آپس میں مل ملا کر فلمیں پروڈیوس کرنا سرمائے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے۔

تعبیر جو مل جاتی تو اک خواب بہت تھا

جو شخص گنوا بیٹھے ہیں نایاب بہت تھا

Back to Conversion Tool

مزید : رائے /کالم