پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں اور چیف جسٹس پاکستان کا دبنگ اقدام

پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں اور چیف جسٹس پاکستان کا دبنگ اقدام

بین الاقوامی مارکیٹ میں فی بیرل قیمت میں ہونے والے معمولی اضافہ کے ساتھ ہی پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کا گراف تیزی سے اوپر کی طرف جا رہا ہے جس سے ملک میں مہنگائی کا بو ل بالا جبکہ شہریوں کی قوت خرید ختم ہوتی جارہی ہے گزشتہ نو ماہ کے دوران پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں.45 22روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں28.36روپے تک کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس نے ملک بھر میں گرانی کی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے اورجی ایس ٹی کی شرح میں اضافے کے بعد پٹرول بم گرائے جانے سے شہریوں کی چیخیں نکل گئیں ہیں ۔مسلم لیگ (ن)کے دور اقتدار کے آخری چند ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل پانچویں بار بڑھنے کا اثر کم و بیش تمام اشیائے صرف پر بھی پڑا ہے تاہم نگران حکومت نے بھی عوام کے دکھ ،درداور پریشانیوں پر مرہم لگانے کی بجائے اوگرا کی سمری منظور کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے کر پٹرول بم گرائے ۔اپنے قارئین کو واضح کردوں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے جہاں پیداواری لاگت میں اضافہ ہو تا ہے وہیں پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی ہونے کی وجہ سے برآمدات پر منفی اثر ات پڑتے ہیں جس سے زرمبادلہ کے زخائر میں بھی کمی واقع ہوتی ہے اور ملکی معیشت ہچکولے کھانے لگتی ہے۔واضح رہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے جہاں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں وہیں ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی گزشتہ نو ماہ کے دوران 24فیصد تک اضافہ ہوا ہے ۔ستمبر 2017میں پٹرول کی فی لٹر قیمت 71.50روپے تھی جس کی قیمت میں ماہ اکتوبر میں 2روپے ، نومبر میں 2.49روپے،دسمبر میں 1.48روپے ، جنوری 2018میں 4.06روپے ،فروری میں 2.98ماہ مار چ میں 3.56روپے کا اضافہ ہوااور آج پٹرول کی نئی قیمت 92.48روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت ماہ ستمبر 2017میں فی لیٹر 77.40روپے تھی جس کی قیمت مسلسل بڑھنے کے بعد 105.80روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔وزارت خزانہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزارت خزانہ‘ منصوبہ بندی‘ ایف بی آر اور اوگرا کی کھلی مخالفت کے باوجود سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے منافع میں ماہانہ اربوں روپے اضافے کیلئے ہائی سپیڈ ڈیزل کی من پسند قیمت مقرر کرنے کی منظوری دے کر دو غیرملکی کمپنیوں اوراہم سیاسی شخصیت کا مطالبہ پورا کیا گیا جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں 5ارب ڈالر سالانہ کی کمی سے بچنے کیلئے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی سمری کی سفارشات کو تبدیل کیا گیاجس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 30ارب روپے نقصان اور عوام پر 40ارب روپے سالانہ اضافی بوجھ پڑا۔

اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثارکی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اورٹیکسزکے طریقہ کار پر تفصیلات طلب کر لی ہیں اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمت پر ہوشربا ٹیکسز کی تحقیقات ورپورٹس پیش کرنے سے وزارت خزانہ‘ منصوبہ بندی‘ ایف بی آر اور اوگرا کے جمع کرائے جانے والے موقف سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے گے کیونکہ گڈگورننس اور معیشت کی بہتری کیلئے کوشاں مسلم لیگ (ن )کے پانچ سالہ اقتدار کے دوران عوام کا خون نچوڑنے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا کرآئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو نوازنے کا ایسا یکطرفہ فیصلہ کیا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔باہر حال عوام اس کشمکش میں مبتلا ہے کہ مہنگائی کے جن کو بوتل میں کونسی حکومت کرے گی اور پٹرولیم مصنوعات کی ہر ماہ بڑھنے والی قیمتوں کو کیا نگران حکومت بریک لگا پائے گی۔

مزید : رائے /کالم