عالمی کمیشن مقبوضہ کشمیر بھیجا جائے 

عالمی کمیشن مقبوضہ کشمیر بھیجا جائے 

پاکستان نے ایک بار پھر انسانی حقوق کے عالمی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا بلا تاخیر نوٹس لے،مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لئے بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے،بھارت اِس کمیشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دے۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ بھارت نے کشمیری صحافی ’’سری نگر ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر شجاعت بخاری کے قتل کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی،ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شجاعت بخاری کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کی جائے۔ شجاعت بخاری کی شہادت سے ثابت ہوا کہ بھارت اپنے خلاف آواز برداشت نہیں کرتا، شجاعت بخاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنے۔بھارت عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اُجاگرکرنے پر گھبراہٹ کا شکار ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی کشمیر کے متعلق رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ رپورٹ بھارت کے انسانیت سوز مظالم سے پردہ اُٹھا رہی ہے۔یہ رپورٹ مقبوضہ کشمیر میں انصاف کی عدمِ موجودگی کی جانب اشارہ ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا چہرہ دیکھ لے،بھارت کی جانب سے رپورٹ کو مسترد کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بھارت حقائق چھپا نہیں سکتا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے سالہا سال سے ظلم و ستم کا جو بازار گرم کر رکھا ہے بھارت کی جانب سے پوری کوششوں کے باوجود اب اس کی پردہ پوشی ممکن نہیں رہی،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی حالیہ رپورٹ نے اُن تمام مظالم کو طشت از بام کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارت عالمی کمیشن کو کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دے رہا۔ اِس سے پہلے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھی ایک کمیشن تشکیل دیا تھا،جو مقبوضہ کشمیر جا کر وہاں کی صورتِ حال کا جائزہ لینا چاہتا تھا،لیکن بھارت نے اُسے بھی مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ مقبوضہ ریاست میں تازہ ترین پیش رفت وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے استعفے کی صورت میں ہوئی ہے،جو مخلوط حکومت کی سربراہ تھیں اور مودی کی جماعت گھر گھر تلاشی کے نام پر اُن کی حکومت کو ایسے اقدامات پر مجبور کر رہی تھی، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ذیل میں آتے تھے۔ جب انہوں نے دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیا تو بی جے پی نے اُن کی حکومت ختم کرنے کے لئے مخلوط حکومت سے نکل جانے کی چال چلی، یوں محبوبہ مفتی اکثریت کی حمایت سے محروم ہو گئیں اور اُنہیں مستعفی ہونا پڑا،لیکن وہ اپنے اِس موقف پر قائم رہیں کہ ظلم و تشدد کے ذریعے کشمیر کے حالات بہتر بنانا ممکن نہیں،اِس مقصد کے لئے کشمیریوں اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔یہی بات دوسرے کشمیری رہنما بھی کر رہے ہیں، لیکن بی جے پی اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹی ہوئی ہے،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ حالات روز بروز خرابی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو دبانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں اور سرکاری سطح پر بھی یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے، یہاں تک کہ بھارتی آرمی چیف نے بھی کہا ہے کہ جو نوجوان بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں اُن کی جگہ لینے کے لئے دو تین یا زیادہ لوگ پہلے سے تیار ہوتے ہیں، باالفاظ دیگر شہدا کے خون سے نئے حریت پسند جنم لے رہے ہیں، گولیوں سے جذب�ۂ آزادی کو ختم کرنا ممکن نہیں رہا،بھارت اِس سے پہلے یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ کر رہا تھا کہ کشمیر میں مزاحمت کی تحریک چلانے والوں کو سرحد پار سے امداد ملتی ہے اور دہشت گرد وادی کے باہر سے آتے ہیں،لیکن فرحان مظفر وانی کی شہادت کے بعد تحریک نے جو رُخ اختیار کیا ہے اِس کے بعد بھارت یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوا ہے کہ تحریک مزاحمت پڑھے لکھے کشمیری نوجوان ہی چلا رہے ہیں،بلکہ اب تو کشمیریوں کی آواز وادی سے باہر بھی سُنی جا رہی ہے۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین کے جس صدر کو ایک سال پہلے گرفتار کیا گیا تھا وہ نہ تو کشمیری تھا ، نہ غیر ملکی اور نہ ہی مسلمان، یہ طالب علم ہندو تھا اور اُس کے زندہ ضمیر نے اُسے کشمیریوں پر مظالم کے حق میں آواز اُٹھانے پر مجبور کر دیا تھا۔یونیورسٹی کے دوسرے طالب علم اور طالبات بھی اس کا ساتھ دے رہے تھے،یہاں تک کہ متعصب ہندو وکلا نے اس کا مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا اور کئی ماہ تک اُسے عدالتوں میں گھسیٹا گیا، اس نوجوان طالب علم نے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی، تو بھارت کی کئی دوسری یونیورسٹیوں کے طلبا بھی اُس کی حمایت میں باہر نکل آئے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب کشمیری حریت پسند تنہا نہیں ہیں،بھارت کے اندر اُن کے حق میں آوازیں اُٹھ رہی ہیں اور بھارت کی مرکزی حکومت اِس لہر کو دبانے میں ناکام ہو گئی ہے۔تازہ ترین سیاسی پیش رفت سے بھی بھارت کو کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہو گا،گورنر راج کی مدت ختم ہو گئی، تو ریاست میں دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑے گا اور امکان یہی ہے کہ نئے انتخابات میں بی جے پی کو پہلے جتنی حمایت بھی نہ مل سکے، معطل اسمبلی میں اس کی 25 نشستیں ہیں،جبکہ اکثریت کے لئے کم از کم44 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے،جو کسی بھی جماعت کو حاصل نہیں۔وادی میں جن نوجوانوں کو دہشت گردی کے شبہہ میں شہید کیا جا رہا ہے وہ سب مقامی لوگ ہیں،نسلوں سے کشمیر میں رہ رہے ہیں،اُن کے جنازوں کے جلوس جب نکلتے ہیں تو ہزاروں لوگ اِن میں شرکت کرتے ہیں، یہ کوئی باہر سے گئے ہوئے لوگ نہیں ہیں یہ وہ کشمیری ہیں، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اور ردعمل میں کشمیریوں کی پوری نوجوان نسل مجاہدین کے روپ میں سامنے آ گئی۔تشدد اور فوج کے ذریعے اب اِس تحریک کو ختم کرنا ممکن نہیں رہا، نہ ہی یہ کہہ کر دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکتی ہے کہ یہ باہر سے آئے ہوئے دہشت گرد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کوئی بھی فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر تک جانے نہیں دیتا۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں جن بھارتی مظالم کو طشت از بام کیا گیا ہے،اس کے بعد یہ ضروری ہے کہ عالمی کمیشن کو مقبوضہ کشمیر جانے دیا جائے، جو ریاست میں سیکیورٹی فورسز کے مظالم کا جائزہ لے۔اقوام متحدہ کو اِس سلسلے میں پیش رفت کرنی چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ