جمشید مارکر بھی رخصت ہو گئے!

جمشید مارکر بھی رخصت ہو گئے!

کرکٹ آج کا مقبول کھیل ہے اور دوسرے ممالک میں میچ براہِ راست ٹیلی ویژن پر دکھائے جاتے ہیں، سابق کھلاڑی رواں تبصرہ اور تجزیہ بھی پیش کرتے ہیں،لیکن ایک دور وہ تھا جب پاکستان میں کرکٹ کی ابتدا ہوئی،ان دِنوں اے ایچ کاردار،فضل محمود، امتیاز احمد، کرنل شجاع، خان محمد اور حنیف محمد جیسے کھلاڑی پاکستان کو دستیاب تھے، تاہم اِس کھیل کی شہرت محدود تھی، پاکستان کرکٹ ٹیم نے جب عبدالحفیظ کاردار کی قیادت میں برطانیہ کا پہلا غیر ملکی دورہ کیا تو اِس کھیل کو بڑی شہرت ملی،کھلاڑیوں کی کارکردگی یا کھیل میں عوامی دلچسپی اپنی جگہ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ تب عمر قریشی(مرحوم) اور جمشید مارکر (کیقباد ارد شیر مارکر المعروف جمشید مارکر) کی جوڑی نے ریڈیو پر رواں تبصرے کے ذریعے اس کھیل کی مقبولیت میں بہت حصہ ڈالا، اس دور میں ٹیلی ویژن نہیں تھا اور شائقین ریڈیو پر رواں تبصرہ سنتے تھے۔جمشید مارکر اور عمر قریشی اِس پایہ کے کمنٹیٹر تھے کہ خود گیند کے ساتھ چلتے اور سامعین کو کھیل اور گراؤنڈ کا پورا نظارہ کرا دیتے تھے۔ اس جوڑی نے طویل عرصے تک یہ خدمات سرانجام دیں، ٹیلی ویژن کے دور میں بھی اُن کی خدمات سے استفادہ کیا گیا،تاہم جمشید مارکر کی سفارتی مصروفیات کی وجہ سے عمر قریشی کو چشتی مجاہد کے ساتھ مل کر یہ فریضہ نبھانا پڑا تھا۔بہرحال کبھی کبھار سرکاری مصروفیات میں سے وقت ملتا تو جمشید مارکر بھی یہ شوق پورا کر لیتے تھے۔جمشید مارکر ایک کاروباری فیملی کے رکن اور عمر قریشی کیریئر بیورو کریٹ تھے، اُن کی یہ جوڑی خوب جمی اور ان کو بڑی شہرت ملی۔قریشی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں، گزشتہ روز جمشید مارکر بھی انتقال کر گئے،اُن کی عمر94 برس بتائی گئی ہے۔ جمشید مارکر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے بطور سفیر پاکستان کی خدمت زیادہ عرصہ کی اور ایک سفیر کی حیثیت سے دُنیا کے زیادہ ممالک میں تعیناتی کا ریکارڈ اُن کے پاس اور گینز ورلڈ ریکارڈ بُک میں درج ہے۔عمر قریشی کے بعد جمشید مارکر کے انتقال سے ریڈیو کمنٹری کا یہ عہد مکمل ہو کر ختم ہو گیا،مرحوم کی کرکٹ اور مُلک کے لئے خدمات قابلِ تعریف ہیں۔ ایک بڑے خاندان کا رکن ہوتے ہوئے بھی ان میں تکبرو نخوت کا شائبہ تک نہیں تھا، عمر قریشی اور جمشید مارکر کی جوڑی بہت مقبول تھی، تاہم وہ ایک سفارت کار کی حیثیت سے بہت اہم شخصیت تھے، اُن کا طویل کیریئر اس کی دلالت کرتا ہے، اُن کی آخری رسومات اُن کے آبائی گھر باتھ آئی لینڈ کراچی میں ادا کر دی گئی ہیں۔مرحوم کو کھیلوں خصوصاً کرکٹ اور سفارتی حلقوں نے زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے اور ان کی خدمات کو سراہا ہے۔انہوں نے تین دہائیوں تک سفارتی ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھائیں اور باعزت رخصت ہوئے۔

مزید : رائے /اداریہ