مسئلہ کشمیر اپنے ’’انجام‘‘ کی طرف

مسئلہ کشمیر اپنے ’’انجام‘‘ کی طرف
مسئلہ کشمیر اپنے ’’انجام‘‘ کی طرف

  

سرکاری ذرائع اور اخباری اطلاعات کے مطابق بروز منگل (19-6-18) نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کو وزارت انسانی حقوق کی طرف سے ایک تفصیلی بریفننگ بذریعہ پریزنٹیشن دی گئی، جس میں انسانی حقوق کے عالمی قوانین اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں اور ان قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کے نتائج کے حوالے سے باتیں کی گئیں، اسی میٹنگ میں بچوں اور عورتوں پر ظلم و ستم اور ان کا انسانی حقوق سے تعلق اور خلاف ورزیوں کے نتائج پر بات چیت کی گئی۔ وزارت کی سیکرٹری ربیعہ جیویری آغا اور وزیر روشن خورشید بھروچہ نے بھی شرکت کی، اس بریفننگ/ پریزنٹیشن کا مقصد پاکستان کے خلاف جاری اس پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کی منصوبہ سازی بتایا گیا ہے، جو دہشت گردی اور دہشت گردوں کی سرپرستی کے حوالے سے پاکستان کے خلاف کیا جاتا ہے۔ اسی میٹنگ میں مسئلہ کشمیر پر بھی بات کی گئی اور کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کا بھی ذکر ہوا۔ تجویز پیش کی گئی کہ دنیا کے تمام اہم ممالک میں ’’انسانی حقوق افسران‘‘ متعین کئے جائیں، تاکہ وہ ان ممالک میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو اُجاگر کریں اور بھارت سرکار کو انسانی حقوق کے قوانین شکن کے طور پر پیش کیا جائے، اس طرح بھارتی مظالم کے خلاف عالمی رائے عامہ کو متحرک اور موثر بنانے کی کاوشیں کی جائیں۔

بظاہر تو یہ ایک مثبت اور مناسب تجویز لگتی ہے، اس کے مثبت نتائج نکلنے کی بھی توقع ہے، اس سے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کا پردہ بھی چاک ہوگا۔ اقوام عالم کے سامنے بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی آشکار ہوں گی اور یہ سب کچھ پاکستان کے لئے بہتر اور مثبت پیش رفت ہوگی،پاکستان ایک عرصہ سے خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ انڈیا، افغانستان اور امریکہ مل جل کر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتے ہیں، اب یہ بات بڑی واضح ہوچکی ہے کہ بھارتی ’’را‘‘ افغان این ڈی ایس اور امریکی سی آئی اے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی تعاون بھی پاکستان میں عدم استحکام برپا کرنے میں مصروف ہیں، ہندوستان پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے نہ صرف خود منظم انداز میں مصروف عمل ہے، بلکہ عالمی سطح پر سائنٹیفک پروپیگنڈ کے ذریعے پاکستان کو دہشت گرد اور دہشت گردوں کا سرپرست ثابت کرنے کی کاوشیں کرتارہتا ہے، اس طرح بھارت دو طرفہ فائدہ حاصل کرتا ہے، ایک طرف پاکستان کی بدنامی دوسری طرف کشمیریوں پر اپنے مظالم سے عالمی رائے عامہ کو دور رکھنے کی کاوش کرتا ہے اور وہ واپنے ان مذموم مقاصد میں کامیابی بھی حاصل کرلیتا ہے۔

مسئلہ کشمیر ایک حل کی بجائے ’’انجام‘‘ کی طرف ایسے ہی بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے، جیسے مسئلہ فلسطین اپنے انجام کو جا پہنچا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا آغاز 1947ء میں تقسیم ہند کے ساتھ ہوا تھا، جب تقسیم ہند کے منصوبے کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادی نہیں دیا گیا، بلکہ بھارت نے ہری سنگھ کے ساتھ ساز باز کرکے الحاق کشمیر کی ایک مشکوک دستاویز کو بنیاد بناکر کشمیر میں اپنی افواج داخل کردیں، اس طرح جنگ کشمیر شروع ہوگئی تو بھارت یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے گیا، جہاں اس نے وعدہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو ’’استعواب رائے‘‘ کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دے گا، یعنی کشمیری پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کے بارے میں خود فیصلہ کریں، لیکن 48سے ہنوز اقوام متحدہ کی قرار دادیں بھارت کی طرف سے عمل درآمد کی منتظر ہیں۔ مسئلہ کشمیر میں3 فریق ہیں، جن کے درمیان اقوام متحدہ ضامن ہے۔ کشمیریوں نے گزرے 70 سالوں میں ایک، دو، چار، چھ بار نہیں، بلکہ بے شمار دفعہ، یہ بات ثابت کردی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں، کسی بھی معیار پر پرکھا جائے، کشمیریوں نے اپنے خون سے کئی دفعہ رقم کیا ہے، ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری شہادت کی سعادت حاصل کرچکے ہیں، ہزاروں زخمی اور اپاہج ہیں،سینکڑوں نہیں ہزاروں نوجوان لاپتہ ہیں، 7لاکھ بھارتی فوجی اور سیکیورٹی اہلکار کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبا نہیں سکے ہیں۔ کشمیریوں کی تیسری نسل اپنے حق خود ارادیت کے ذریعے الحاق پاکستان کی جدوجہد کررہی ہے، گزرے 70 سالوں میں ہم مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے ساتھ 3جنگیں لڑ چکے ہیں اور 70سالوں کے دوران عمومی طور پر دونوں ممالک تقریباً حالتِ جنگ میں بھی رہے ہیں، لیکن مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوسکا۔

اشتراکی روس کے خلاف لڑنے والے افغان مجاہدین کے ایک عظیم گوریلا لیڈر انجینئر گلبدین حکمتیار نے مضمون نگار سے گفتگو کرتے ہوئے ایک تاریخی بات کہی تھی کہ وسط ایشیائی مسلمان، افغانوں سے زیادہ بہادر اور آزادی کے متوالے تھے، انہوں نے اشتراکیوں کے خلاف تاریخی جدوجہد کی، کیونکہ ان کے پاس جنرل ضیاء الحق جیسا مددگار اور پاکستان جیسا ملک نہیں تھا، اس لئے وہ اپنی آزادی برقرار رکھنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

کشمیریوں کی شاندار جدوجہد آزادی کا سب سے اعلیٰ اور ارفع دور2000ء کے بعد شروع ہوا اور وہ ہنوز جاری ہے، کشمیری عظیم الشان قربانیاں دے رہے ہیں، ہجرت، شہادت، معذوری، گمشدگی اورعزت کی پائمالی جیسی ہر قسم کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ کشمیریوں کی تین نسلوں نے ہر طرح کے ظلم و ستم کا مردانہ وار مقابلہ کرکے ’’الحاق پاکستان‘‘ کے لئے اپنا صدق ثابت کردیا ہے، ہم، ہمارے ایوان بالا مسئلہ کشمیر کو انسانی حقوق کا مسئلہ بنا کر اقوام عالم کے سامنے پیش کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔

ہندوستان کی کانگریسی اور نہرو قیادت کے لاشعور میں کشمیر بسا ہوا تھا، نہرو کا تعلق کشمیری پنڈت خاندان سے تھا، اس لئے کشمیر کے ساتھ جذباتی وابستگی نے بھی ہندوستان کو کشمیر پر قبضہ کرنے اور اسے بھارت کا حصہ بنانے کی راہ دکھائی۔ ابتدا دباؤ کے باعث بھارت سرکار نے اقوام متحدہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے تحت کشمیر میں استصواب رائے کے ذریعے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ مل جانے کا فیصلہ کرنے کا اختیار دے گا، لیکن بھارت سرکار نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ 

مسئلہ کشمیر کیا ہے؟ تقسیم ہند کی دستاویز میں درج اور متفق علیہ اصول کے مطابق کشمیر میں بسنے والے استصواب رائے کے ذریعے فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا ہندوستان کے ساتھ۔ یہ بات سیدھی سادی تھی، مسئلہ کشمیر اس وقت پیدا ہوا، جب بھارت نے کشمیر پر فوج کشی کردی۔ کشمیر کے حکمران راجہ ہری سنگھ کی ایک درخواست کو بہانا بنا کر ہندو افواج سری نگر میں اتریں اور کشمیر کے اس حصے پر قبضہ کرلیا، جسے اب مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی نفی کرنے کے باعث مسئلہ کشمیر پیدا ہوا۔ بھارتی وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں جاکر وعدہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے گا۔ اقوام متحدہ نے بھی قرار دادیں پاس کیں کہ مسئلہ کشمیر کو استصواب رائے کے ذریعے حل کیا جائے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بھارت سرکار اس وعدے سے انحراف کرتی رہی، وہاں ہونے والے ریاستی الیکشنوں کو استصواب رائے کا متبادل کہا جانے لگا، پھر بھارت سرکار نے کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کردیا۔کشمیریوں کی اپنے حقوق کے لئے اٹھائی جانے والی آواز کو ’’لشکر کشی‘‘ کے ذریعے دبانے کی کاوش کی گئی اور دنیا کو یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان کشمیر میں مداخلت کار ہے اور وہاں دہشت گردی کے فروغ کے لئے کوشاں ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کی متعدد کاوشیں کی گئی ہیں، بھارت سرکار اور ان کی اسٹیبلشمنٹ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یکسو ہے، عوام حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا ہے، وہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ رنگ قرار دیتے ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہد کو پاکستان کی مداخلت کاری سمجھتے ہیں۔

9/11کے بعد دہشت گردی کے بارے میں عالمی رائے عامہ میں حساسیت پیدا ہوئی، بھارت نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا اعلان کیا تو مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات پیدا ہونے شروع ہوگئے۔ کشمیریوں کی خالص جدوجہد آزادی اور دہشت گردی میں فرق مٹنا شروع ہوگیا۔ بھارت سرکارنے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو پاکستان کی طرف سے کشمیر میں دراندازی قرار دینا شروع کردیا، لیکن گزری دہائی اور اس سے زیادہ عرصے کے دوران کشمیریوں نے اپنی جدوجہد آزادی کو قربانیوں کے ذریعے بہت بلند سطح تک پہنچا دیا ہے، مودی سرکار کی مسلم دشمن سوچ اور پالیسیوں کے باعث بھارتی سیکیورٹی ایجنسیوں نے ظلم کی بھی انتہا کردی ہے، ظلم و تشدد کے نئے نئے طریقوں کے باعث کشمیریوں کی جدوجہد عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کررہی ہے۔

لیکن پاکستان جو مسئلہ کشمیر میں نہ صرف ایک فریق ہے، بلکہ کشمیری جدوجہد آزادی کا پشتیان بھی ہے، سیاسی و سفارتی طور پر کمزور دکھائی دے رہا ہے، ہم دہشت گردی کا شکار ہیں، لیکن امریکہ ہمیں دہشت گردوں کا معاون سمجھتا ہے اور ہمیں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کی ہدایات جاری کرتا رہتا ہے۔ ایسے پس منظر میں وزیر اعظم کو ’’انسانی حقوق افسران‘‘ کی تعیناتی کی تجویز دینا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کریں، مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستان کے مسلمہ نقطہ نظر اور ریاستی پالیسی سے انحراف نہیں تو اور کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر، انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ تقسیم ہند کی طے شدہ قرار داد اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے، جو استصواب رائے کے ذریعے حل ہونا ہے، کشمیریوں کو یہ حق دیئے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

مزید : رائے /کالم