زعیم قادری کی بغاوت اور انتخابی اخراجات!

زعیم قادری کی بغاوت اور انتخابی اخراجات!
زعیم قادری کی بغاوت اور انتخابی اخراجات!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سیاست کے سینے میں دِل نہیں ہوتا، کہتے ہیں،اس میں لوگ اپنے ہی اعزہ اور دوستوں کو روند کر بھی گذر جاتے ہیں، پاکستان میں تو سیاسی استحکام ابھی تک نہیں ہے اور نہ ہی جماعتوں میں نظم و ضبط کی کوئی بڑی مثال ہے،جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کی مثال دی جاتی تھی،لیکن اب تو اس کی مثال والی کوئی بات ہی نہیں رہ گئی اور اس کا حال اِس دِل کے ٹکڑے ہزار ہوئے، والا ہو چکا ہے۔ البتہ جماعت اسلامی میں بڑی حد تک نظام موجود ہے، اگرچہ کچھ عرصہ قبل نئے امیر کے چناؤ کا وقت آیا تو یہاں بھی کچھ تناؤ یا اختلاف کی باتیں ہوئیں، بیلٹ پیپروں کا جھگڑا بھی اٹھا جو ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے،مگر واپس نہ آئے،تاہم مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے باعث اس پر بھی قابو پا لیا گیا اور اب یہاں راوی چین ہی لکھتا ہے۔تاہم دوسری جماعتوں میں صورتِ حال مختلف ہے۔

جہاں تک جماعتی نظم و نسق کا مسئلہ ہے تو مُلک کی بڑی جماعتوں میں حالات کچھ بہتر نہیں ہیں،ہر جماعت میں سبھی تو ایک جیسے نہیں ہوتے اور جماعتوں کے اندرکشمکش ضرور ہوتی رہتی ہے،جب تک کوئی اہم موقع نہیں آتا ، حالات بہتر رہتے ہیں اور جونہی عام انتخابات کا وقت آتا ہے تو یہی صورت اختلافات میں ڈھل جاتی ہے۔خصوصاً ٹکٹوں کی تقسیم سے بہت کچھ ہوتا ہے اور اب بھی ایسا ہوا،کوئی کچھ بھی کہے،یہاں جو بھی تبدیلی نظر آئی وہ انتخابی مفاد والی ہی ہے اور اراکین اسمبلی نے خصوصی طور پر وفاداریاں تبدیل کیں اور اپنی جماعتوں کو چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہو گئے، یہاں ان کو ٹکٹ اور حمایت ملنے کا یقین تھا اور ان کے خیال میں وہ پھر سے ایوانِ پارلیمینٹ کا حصہ بن سکتے ہیں،عرف عام میں ان کو کچھ اور کہا جا رہا ہے،لیکن ان کو فکر یا پرواہ نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ہر جماعت کو ایک مسئلہ سرگرم اور پرانے کارکنوں سے ہوتا ہے،جو خود بھی ٹکٹ کے خواہش مند ہوتے اور جماعتی حمایت پر اکتفا کرتے ہیں۔اگرچہ کارکنوں کی بھاری اکثریت اس اعزاز سے محروم رہتی اور واپس پرانی تنخواہ پر کام کرتی ہے، لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو باغی ہو جاتے ہیں ان دِنوں ایسے ہی ایک ’’باغی‘‘ (جاوید ہاشمی نہیں) کا ذکر ہے جس نے اعلان کیا کہ وہ سید زادہ ہے اور اپنے وقار اور آن کو قربان نہیں کر سکتا۔ یہ کارکن یا رہنما تحریک پاکستان کے سرگرم ترین خاندان اور قائداعظمؒ کی مسلم لیگ کے اراکین کی اولاد میں سے ہے۔ سید زعیم حسین قادری جو سبکدوش پنجاب کابینہ میں وزیر اوقاف تھے اور اس سے پہلے مسلم لیگ(ن) اور پنجاب حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے تھے،ان کو شکوہ ہوا کہ سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز شریف نے ان کو نظر انداز کیا اور قائد مسلم لیگ(ن) محمد نواز شریف نے بھی ان کو نہیں پوچھا، زعیم حسین قادری نے ٹکٹ سے انکار کے بعد بہت بڑی بات کہی کہ وہ صدر مسلم لیگ کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے مالشیئے نہیں بن سکتے اور نہ ہی ان کے بوٹ پالش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے حلقہ این اے133 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی بتایا کہ اُن کی اہلیہ عظمیٰ قادری کا نام خواتین کی مخصوص نشستوں والی ترجیحی فہرست میں ہے وہ سید زادی ہے، چائے بنانے والیوں کے ساتھ خود کو شامل نہیں کرے گی اور اس نے بھی نام واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

زعیم قادری مسلم لیگ(ن) کے بہت ہی متحرک کارکن اور رہنما تھے اور اسی بناء پر خواجہ سعد رفیق نے بھی ان کو منانے کی کوشش کی،لیکن تعلقات کے باوجود بات نہیں بنی،زعیم قادری نے جس انداز میں سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی تعریف کی اس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ شاید مسلم لیگ(ن) کی صفوں میں چودھری نثار کے ایسے بہت سے ’’ہمدرد اور خیر خواہ‘‘ چھپے بیٹھے ہیں جو اُن کے ایماء پر زعیم قادری بن جائیں گے۔

بہرحال ذکر تو زعیم قادری کا ہے جو سابق چیف جسٹس سید شمیم حسین قادری (مرحوم) کے بھتیجے اور سید سلیم حسین قادری (مرحوم) کے صاحبزادے ہیں،ان کے والد مرتے دم تک مسلم لیگی اور مختلف دھڑوں میں اتحاد کے حامی تھے، وہ فنکشنل مسلم لیگ کے اہم عہدیدار اور سربراہ پیر پگارو سید علی مردان شاہ کے ذاتی دوستوں اور وفاداروں میں تھے۔رانا محمد اشرف اور وہ بہت قریبی ساتھیوں میں تھے جیسا کہ لاہور میں شیخ انور سعید بھی ہیں۔زعیم قادری نے ایک کارکن کی حیثیت سے بہت کام کیا، جیل بھی گئے، تحریک نظام مصطفےٰ میں بہت متحرک تھے اور بڑے منہ پھٹ مشہور تھے، پنجاب حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے انہوں نے بہت محنت کی۔ ٹاک شوز میں اپنی جماعت اور قائدین کی حمایت میں اُلجھ پڑتے تھے۔

اب احساس ہوتا ہے کہ ان کے لئے جماعت میں سب اچھا نہیں تھا اور شاید اِسی لئے ان کو ترجمانی سے سبکدوش کر کے اوقاف کی وزارت دے دی گئی اور بظاہر ان کو کھڈے لائن لگایا گیا، لیکن وہ یہاں بھی متحرک رہے اور حضرت حمید الدین سیالوی کے ساتھ تنازعہ میں سرگرم کردار بھی ادا کیا اور ان کو مذاکرات پر آمادہ کر لیا تھا اور یہ ان کی خاندانی تکریم کے باعث ہوا۔

زعیم قادری نے یہ بغاوت بھی اپنے دبنگ انداز ہی میں کی اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب ان کے لئے کوئی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔اگرچہ انہوں نے جماعت چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا، تاہم عملاً تو علیحدگی ہی متصور ہو گی۔

ان کا یہ کہنا کہ ان کو ٹکٹ سے انکار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی مالی حیثیت ایسی نہیں کہ وہ انتخابی اخراجات برداشت کر سکیں،اس سے ہمیںیہ یاد آیا کہ یہ مسئلہ ہر سیاسی جماعت کا ہے کہ ہم نے اور ہمارے دوسرے ساتھیوں نے پیپلزپارٹی کی شہید چیئرمین بے نظیر بھٹو اور سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ایک دو بار یہ پوچھا تھا کہ ان کی جماعت نے کارکنوں کو ٹکٹ کیوں نہیں دیئے تو اُن کی وضاحت یہی تھی کہ اخراجات برداشت نہیں کر سکتے،بلکہ اکثر جماعتوں کے رہنماؤں کی طرف سے ٹکٹ کی درخواست کرنے والوں سے پوچھ لیا جاتا تھا کہ وہ کتنے اخراجات کر سکتے ہیں۔

زعیم قادری کی ’’بغاوت‘‘ مسلم لیگ(ن) کے لئے لاہور میں ایک سنجیدہ مسئلہ بن گئی ہے اور ان کے آزاد امیدوار کی حیثیت سے این اے 133 سے انتخاب لڑنے کے اعلان نے مسلم لیگ (ن) کو مشکل میں ڈال دیا کہ یہاں سے تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز چودھری اور پیپلزپارٹی کے چودھری اسلم گل ہیں،زعیم قادری مسلم لیگ (ن) ہی کے ووٹ بنک کو متاثر کریں گے۔

مزید : رائے /کالم