مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورت حال

مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورت حال
مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورت حال

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مقبوضہ کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی راہنما محبوبہ مفتی کے استعفے اور شجاعت بخاری جیسے ایک بڑے صحافی اور سماجی راہنما کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر کے حالات میں مزید سنگینی دیکھنے میں آرہی ہے۔ شجاعت بخاری، سرینگر سے نہ صرف ’’رائزنگ کشمیر‘‘ جیسا بڑا اخبار نکالتے تھے، بلکہ وہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لئے بھی بہت زیادہ فعال کردار ادا کر رہے تھے، اس لئے ان کی شہادت کے بعد یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کشمیر میں امن کے قیام کے لئے ان کی سرگرمیوں کو بھارتی فوج میں انتہائی ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا تھا، اس لئے عین ممکن ہے کہ شجاعت بخاری کو شہید کرنے میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے کچھ عناصر کا بھی ہاتھ ہو۔ دوسری طرف رمضان کے مہینے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے سیز فائر کا اعلان کیا گیا تھا، وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا مطا لبہ تھا کہ اس سیز فائر کو رمضان کے بعد بھی جاری رکھا جائے، مگر بھارتی حکومت نے سیز فائز ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے بھی جموں وکشمیر کی ریاستی اسمبلی میں محبوبہ مفتی کی حمایت ختم کرنے اعلان کر دیا جس کے بعد محبوبہ مفتی کے پاس مستعفی ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ جموں و کشمیر کی 87 رکنی ریاستی اسمبلی میں کسی جماعت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ پی ڈی پی کے پاس28 اور بی جے پی کے پاس 25 نشستیں ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے پاس 15اور کانگرس کی 12 نشستیں ہیں۔پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے خود 2014ئکے ریاستی انتخابات کے بعد اپنے والد مفتی سعید کے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی کہ ریاست میں بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنا ئی جائے۔

اس وقت محبوبہ مفتی نے یہ بیان دیا تھا کہ ان کے والد نے بی جے پی کی حمایت سے وزیر اعلیٰ بن کر ایک غیر مقبول فیصلہ کیا، مگر 2016ء میں اپنے والد کی وفات کے بعد محبوبہ مفتی خود بی جے پی کی حمایت سے وزیر اعلیٰ بن گئیں۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کی اتحادی سرکار میں ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مکمل طور پر بی جے پی اور وزیر اعظم مودی کی بھرپور اطاعت اور فرماں برداری کے ساتھ حکومت چلائی۔ محبوبہ مفتی کی جانب سے مودی سرکار کی ہر خواہش کی مکمل طور پر تکمیل کی گئی۔ ریاست میں ’’آرمڈ فورسز پاور۔۔۔ سپیشل ایکٹ‘‘کے کالے قانون کو جاری رکھنے، مزید افواج کی تعیناتی، مسلم اکثریت ہونے کے باوجود ریاست میں گائے کشی پر پابندی، الغرض نئی دہلی سرکار جو کچھ بھی ریاست سے چاہتی رہی اسے ملتا رہا اور اس سب کے باعث پی ڈی پی کی مقبولیت میں سخت کمی واقع ہونے لگی۔ ریاست میں گورنر راج لگ چکا ہے اور مستقبل میں بھی سیاسی استحکام کا امکان نظر نہیں آرہا، جبکہ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمت میں آئے روز مزید شدت آتی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے ساتھ ساتھ اب مغربی میڈیا بھی کشمیر میں جاری مزاحمت کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ کوریج دینے پر مجبور ہوچکا ہے۔

یہاں پر بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر میں آزادی کی تحریک تو کئی عشروں سے چل رہی ہے۔ انتہائی محتاط اندازے کے مطابق 60 ہزار سے زائد کشمیری اس تحریک کے دوران اپنی جانوں سے محروم ہو چکے ہیں تو پھر ایسا کیا ہوا کہ اب بھارتی حکومت اپنی بھر پور ریاستی مشینری استعمال کرنے کے باوجود کشمیر کے معاملے میں بے بس دکھائی دے رہی ہے؟ دراصل کشمیر میں جاری مزاحمت کا رنگ اب بالکل تبدیل ہوچکا ہے۔ کشمیر میں 1980ء کی دہائی میں جو مسلح تحریک شروع ہوئی اس میں کئی تنظیمیں ایسی تھیں جو مقامی نہیں تھیں۔ 90ء کی دہائی کے آخر اور خاص طور پر 9/11 کے بعد معروضی حالات کے باعث صورت حال تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ اب غیر کشمیری تنظیموں کے لئے کسی بھی طور پر یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ماضی کی طرح کشمیر میں اعلانیہ طور پر اپنی کارروائیوں کو جاری رکھ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2001ء سے لے کر 2008ء تک کشمیر اور خاص طور پر وادی میں مسلح تحریک کی شدت میں کمی آئی، مگر اس کے ساتھ ساتھ اسی دور میں وہ نسل بھی نوجوان ہونے لگی، جو 90ء کی دہائی کی مزاحمت کے دوران بچپن کے دور میں تھی۔ اس وقت کشمیر میں 60 فیصد آبادی کی عمر 30سال سے کم ہے۔ اس نسل کو بھی ریاستی جبر، تذلیل، ہتک، وادی میں ہر طرف پھیلی پولیس اور فوج کی چوکیوں سے گزرنے اور ذلت آمیز رویے کا بھرپور تجربہ رہا۔ مزاحمت کے رنگ میں تبدیلی کے آثار 2008ء میں اس وقت سامنے آئے جب اس سال 26 مئی کو بھارت کی مرکزی حکومت اور ریاستی حکو مت کے مابین 99 ایکرڑ زمین ’’شری امرنا تھ شرائن بورڈ‘‘ کو دینے کا معاہدہ کیا گیا۔ کشمیریوں کی اکثریت نے اس معاہدے کو ریاستی لوٹ کھسوٹ سے تعبیر کیا۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس معاہدے کے خلاف پوری وادی میں بھرپور عوامی مظاہرے شروع ہوگئے، حتیٰ کہ سرینگر میں 500,000 مظاہرین نے مظاہرہ کیا، اسے سرینگر کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ قرار دیا گیا۔ ان مظاہروں کو پوری دنیا میں اس لئے توجہ ملی کیونکہ ان مظا ہروں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ کشمیر میں اتنے بڑے پیما نے پر مظاہرے شروع ہوگئے کہ امریکہ اور یورپی میڈیا کو بھی ان کی کو ریج کرنا پڑی۔ اسی طرح 2013ء میں افضل گرو کی پھانسی کے خلاف، اپریل 2015ء میں کشمیری راہنما مسرت عالم کو گر فتار کئے جانے، اپریل 2016ء میں بھارتی فوجی افسر کی جانب سے کشمیری لڑکی سے ریپ کے واقعے کے خلاف کشمیر کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہرے کئے گئے۔ اسی طرح اکیس سالہ برہان مظفر وانی کی 8جولائی2016ء کو کشمیر کے جنگلاتی علاقے کو کرناگ میں شہادت کے بعد کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ ہوئے۔ 

اس مزاحمت کو دنیا بھر میں اس لئے زیادہ توجہ ملی کہ اب یہ مزاحمت مکمل طور پر عوامی اور مقامی طور پر منظم ہونے والی مزاحمت ہے۔ اسی سال مئی2018ء میں جموں و کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں ایسے سرکاری اعداد و شمار پیش کیے گئے جن سے واضح ہوتا ہے کہ کشمیر میں ہونے والی مزاحمت مکمل طور پر مقامی رنگ اختیار کرچکی ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق اس سال کے آغاز سے اپریل تک 45کشمیری نوجوانوں نے بھارتی جبر کے خلاف مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، ان 45نوجوانوں میں ایک ایم بی بی ایس اور ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر بھی ہے۔جنوبی کشمیر کے علاقوں شوپیاں، کلگام، اننت ناگ، پلواما،اوانتی پورہ کے علاقوں، جبکہ شمالی کشمیر سے ہندواڑہ، کپواڑہ،بندی پراہ،سوپور اور سرینگر کے اطراف سے بھی نوجوان مسلح بغاوت کی جانب مائل ہوئے۔

اسی طرح گزشتہ سال 2017ء میں 127 مقامی نوجوانوں نے مسلح بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ 2010ء کے بعد سے اس تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس سرکاری رپورٹ کے مطابق جب بھی کسی ایک نوجوان کو دہشت گردی کے شبہ میں شہید کیا جاتا ہے تو اس کے ردعمل میں کم از کم تین نوجوان مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ 

اسی رپورٹ کے مطابق اس سال اپریل تک 55 نوجوانوں کو دہشت گردی کے شبہ میں شہید کیا گیا جن میں 47 نوجوانوں کا تعلق وادی کشمیر کے ہی علاقوں سے تھا، صرف اپریل کے ماہ میں 13 نوجوانوں کو ہلاک کیا گیا جن کا تعلق شوپیاں اور اننت ناگ سے تھا۔ مخدوش صورت حال کے باعث جنوبی کشمیر کے اہم سیاستدان اپنے آبائی گھروں کو چھوڑ کر سرینگر اور جموں میں قلعہ نما گھروں میں رہنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ 2008ء کے بعد مختلف واقعات کے ردعمل میں ہونے والی اس مزاحمت کا ایک انتہائی خوش آئند پہلو یہ ہے کہ کشمیر میں 90ء کی دہائی کی مسلح جدوجہد کو بھارت کے ہر حلقے کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا، مگر اب خود بھارتی فوج کے جبر کے خلاف کشمیریوں کی جانب سے منظم کئے گئے مظاہروں کے باعث بھارت کے بہت سے سنجیدہ حلقے بھی کشمیر کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر لے رہے ہیں۔

اب خود سنجے کاک جیسے بھارتی دانشوروں کی جانب سے Until My Freedom Has Come: The New Intifada In Kashmir'جیسی کتا بیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ اسی طرح جب 80 اور 90 کی دہائی میں کشمیر میں مسلح تحریک اپنی شدت کے ساتھ موجود تھی تو ’’بھائی بھائی‘‘ ’’دل جلے‘‘ ’’گناہ گار‘‘ ’’روجہ‘‘ جیسی فلموں کے ذریعے کشمیری مسلح مزاحمت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا، مگر اب کشمیر کی تحریک میں سراسر مقامیت کا رنگ شامل ہو نے کے بعد ’’یہاں‘‘ ’’شوریا‘‘ ’’لمحے‘‘ اور ’’حیدر‘‘ جیسی فلمیں سامنے آرہی ہیں، جن میں بھارتی ڈائریکٹر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ کشمیر ایک سنگین مسئلہ ہے اور بھارتی حکومت کو بھی اس کا ادراک کرنا چاہیے۔ کشمیریوں کو ان کی تحریک کا مکمل ثمر ایک نہ ایک روز تو ملے گا، مگر یہ امر ان کی تحریک کی جزوی کامیابی کا ہی اظہار ہے کہ ان کی تحریک اب بھارت میں بھی اپنے حامی پیدا کر رہی ہے۔

مزید : رائے /کالم