انتخابی ہنگامے

انتخابی ہنگامے
انتخابی ہنگامے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انتخابات کی خبروں نے پورے ملک میں تھرتھلی سی مچا دی ہے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی ہوئی ہے۔ خیبرپختونخوا میں بھی تبدیلی کے امکانات روشن ہیں۔سیاسی راہنماؤں کے اثاثوں کی خبروں کو عوام حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہمارے سیاسی لیڈر کتنے امیر ہیں اور اتنی دولت کے باوجود بھی انہیں غریب عوام کا درد کھا رہا ہے۔ وہ اپنے ایئرکنڈیشنڈ دفتر، گھر اور گاڑیاں چھوڑ کر اب چلچلاتی دھوپ میں عوام سے رابطہ قائم کریں گے۔ سیاسی لیڈروں نے اپنی جائیدادوں کی بڑی دلچسپ قیمتیں بیان کی ہیں۔ جناب بلاول بھٹو نے بلاول ہاؤس کی قیمت 30 لاکھ روپے بیان فرمائی ہے۔ ہمارے ایک دوست کے مطابق 30 لاکھ میں اب کسی گاؤں میں بھی پانچ مرلہ کا مکان نہیں ملتا۔ لیکن جناب بلاول بھٹو اگر اصرار کرتے ہیں کہ ان کا بلاول ہاؤس 30 لاکھ کا ہے تو اس سے اختلاف کرنے کی جرات نہیں کی جا سکتی۔ بہت سے بڑے سیاسی لیڈروں کے پاس ذاتی کار تک نہیں۔ دوسرے قومی لیڈروں نے بھی اپنی جائیدادوں کے ہوشربا تخمینے پیش کئے ہیں۔ 

انتخابات کی گہما گہمی کا آغاز ہو چکا ہے۔ اخبارات کے صفحات خبروں کی بجائے الزامات سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ٹی وی چینلوں کے خبرنامے الزام نامے بن چکے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں انتخابات ہوتے ہیں تو سیاستدان دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں مگر زیادہ وقت یہ بتانے میں صرف کرتے ہیں کہ وہ خود ملک و قوم کے لئے کیا کریں گے۔ اسے بعض ممالک میں منشور کا نام دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی سیاسی پارٹیاں منشور جاری کرتی ہیں مگر عوام اسے پڑھنے اور لیڈر اس پر عمل کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ جناب آصف زرداری فرما رہے ہیں کہ وہ اگلی حکومت بنا کر نوازشریف کی غلطیاں درست کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ نوازشریف نے ملک کو اس حال پر لا چھوڑا ہے کہ دنیا پاکستان کا مذاق اڑا رہی ہے۔ جناب آصف زرداری گزشتہ پانچ سال میں سندھ میں کیا کرتے رہے ہیں اورآئندہ وہ سندھ کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے متعلق وہ گفتگو کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے وہ الیکشن لڑنے کی زحمت محض نوازشریف کی غلطیاں درست کرنے کے لئے کر رہے ہیں۔

جہاں زرداری صاحب نوازشریف کی غلطیاں درست کرنے کے لئے انتخابی اکھاڑے میں اترے ہیں وہاں سابق وزیرچوہدری نثار علی خاں کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے 34 سال نوازشریف کا بوجھ اٹھایا اب نہیں ہو گا۔ انہوں نے نوازشریف اور ان کی بیٹی کے کردار کو سامنے لانے کی دھمکی بھی دی ہے۔ہمیں چوہدری نثار کی دھمکی سے صدمہ سا ہوا ہے اور ہمیں اپنے بزرگ یاد آ گئے ہیں جن کی بیوی 32 سالہ شادی کے بعد روٹھ کر میکے چلی گئی تھی۔ اس پر وہ بزرگ اپنے دوست کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ وہ اپنی بھابی کو سمجھائے کہ وہ واپس آ جائے۔ اپنی درخواست کے ساتھ انہوں نے زوردار دلیل نتھی کرتے ہوئے کہا ’’بھائی اپنی بھابی کو سمجھاؤ۔ وہ واپس آ جائے۔ 32 سال ہم نے میاں بیوی کی طرح گزار لئے ہیں اب زندگی کے جو چند سال رہ گئے ہیں وہ بہن بھائیوں کی طرح گزار لیتے ہیں۔ دنیا کو تماشہ دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ہمارے خیال کے مطابق چوہدری نثار کو بھی میاں نوازشریف کے ساتھ مفاہمت کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ انہیں بتانا چاہیے کہ اب وہ انہیں کندھوں پر نہیں اٹھا سکتے کیونکہ میاں صاحب کے وزن میں بہت اضافہ ہو چکا ہے اور خود چوہدری نثار علی بوڑھے ہو چکے ہیں۔ چوہدری نثار صاحب اس عمر میں تماشہ لگاتے ہوئے کچھ اچھے نہیں لگتے۔ تاہم اتنی طویل رفاقت کے بعد اگر وہ میاں نوازشریف کو خدا حافظ کہہ رہے ہیں تو ایسا بہت کچھ ہو گا جس کی بنا پروہ رفاقت دیرینہ کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔

پرویزرشید، چوہدری نثار کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک شخص کی خاطر قومی بیانیے کو نہیں بدلا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے چوہدری نثار کو ان کی اوقات یاد دلانے کے لئے کہا ہے کہ سڑک پر جائیں تو کوئی نہیں پوچھتا نثار کو ٹکٹ نہیں دیا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس سڑک پر جاتے ہیں اور اس امید کے ساتھ جاتے ہیں کہ کوئی ان سے پوچھے گا کہ چوہدری نثار کو ٹکٹ کیوں نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف عمران خان پر تابڑ توڑ سیاسی حملے ہو رہے ہیں۔ میڈیا میں کئی دنوں سے ریحام خان کی کتاب کا چرچا ہے۔ ان کی کتاب کے حوالے سے اکثر بزرگ اینکر یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ بچے اس کو پڑھنے سے پرہیز کریں اور بڑے اگر اسے پڑھنا چاہتے ہیں تو اپنے رسک پر یہ حرکت کریں۔ سننا ہے کہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں ایسی ایسی باتیں بھی لکھ دی ہیں کہ جولوگ سعادت حسن منٹو کو پہلے فحش نگار سمجھتے تھے اب انہیں نابالغ قرار دے رہے ہیں۔ ریحام خان عمران خان کو نیشنل سکیورٹی رسک قرار دے رہی ہیں اور انہوں نے ایک بھارتی ٹی وی سے یہاں تک کہہ دیا کہ جو شخص ایک کتاب کا دباؤ برداشت نہیں کر سکتا وہ ایٹمی ملک کیسے سنبھالے گا۔ ریحام خان کو شاید اپنی کتاب کے وزن کا اندازہ نہیں ہے۔ عمران خان یہ کہہ رہے ہیں کہ ریحام خان کی کتاب انہیں فائدہ پہنچائے گی۔ سوشل میڈیاپر ریحام خان پر تابڑ توڑ حملے ہو رہے ہیں۔ ان کی ایسی تصاویر اور ویڈیو وائرل ہو رہی ہیں جن میں وہ بہت مختصر لباس میں ایسی حرکات کر رہی ہیں جن پر قابل اعتراض کے لیبل چپکائے جا سکتے ہیں اور اس ہنگامے میں کوئی اس پر توجہ نہیں دیتا کہ اس لباس کو ریحام خان کی کفایت شعاری بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لندن میں کہا جاتا ہے کہ موسم گرما میں لڑکی جتنی زیادہ خوبصورت ہوتی ہے اتنے ہی کم کپڑے پہنتی ہے۔ مگر ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں سگریٹ نوشی سے لڑکے کی صحت خراب ہوتی ہے۔ 

اس کے پھیپھڑوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن یہاں کوئی لڑکی سگریٹ پیتی نظر آئے تو اس کے کریکٹر کے خراب ہونے پر مہرتصدیق ثبت کر دی جاتی ہے۔ ریحام خان کو تو مدتوں سے یقین ہے کہ وہ بہت خوبصورت ہیں اور یہ سارا ہنگامہ پیدا ہی اس وقت ہوا تھا جب انہوں نے عمران خان کو یقین دلا دیا تھا کہ وہ بہت خوبصورت ہیں۔

ریحام کے لندن میں پہنے ہوئے کپڑوں کو دیکھ کر کسی کو مہاتما گاندھی یاد نہیں آتے جو شاہی محل میں شاہ برطانیہ سے ملنے کے لئے اپنے روایتی مختصر کپڑوں میں چلے گئے تھے۔ ملاقات کے بعد وہ باہر نکلے تو ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ انہوں نے کم کپڑے پہن رکھے ہیں۔ اس پر گاندھی نے برجستہ کہا کہ بادشاہ سلامت نے اتنے زیادہ کپڑے پہن رکھے تھے کہ وہ ہم دونوں کی ضرورت سے زائد تھے۔ گاندھی کو نیم برہنہ فقیر بھی کہا جاتا تھا اورچرچل جیسے برطانوی لیڈر ان کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔

ملک میں انتخابات کا سرکس جاری ہے۔ میڈیا سیاستدانوں کے الزامات کی تشہیر کر رہا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے اپنے دور میں ہر اس شخص کو ولی قرار دیا تھا جس میں بھی تھوڑا بہت خوف خدا ہوتا تھا۔ آج میڈیا ایک ہی خبر دے رہا ہے کہ سب برے ہیں، سب ملک کو لوٹ رہے ہیں، سب بدمعاش ہیں۔ سب ملک کو تباہ کر دیں گے۔ اس صورتحال میں امید کی شمع کیسے روشن ہو گی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معقولیت رخصت ہو چکی ہے۔ ہم غیرذمہ داری کا کھیل بڑی ذمہ داری اور جوش و خروش کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ ہم جمہوریت کی ایک ایسی گاڑی پر سوار ہیں جس میں بریک نہیں ہے۔ پاکستان میں انتخابات کے ساتھ جہاں اچھی یادیں وابستہ ہیں وہاں 1970ء کے انتخابات نے اس ملک کو ہی دو لخت کر دیا تھا۔ اسی طرح 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اس دھاندلی کے خلاف جو تحریک چلی اس نے ملک پر ایک طویل مارشل لاء مسلط کر دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹونے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہوں نے ترکی کے وزیراعظم سے دریافت کیا تھا کہ جب اقتدار فوج سے سول کو منتقل ہو رہا ہو تو کس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ترک وزیراعظم نے کہا تھا کہ اس وقت صبر کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں اقتدار سول حکومت سے دوسری سول حکومت کو منتقل ہو رہا ہے تاہم اس وقت بھی صبر کی ہی ضرورت سب سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ خطرہ بہرحال رہتا ہے کہ انتخابی ہنگامے جمہوریت کو کسی حادثے سے دوچار نہ کر دیں اور ایک دانشور کی اس بات میں بھی ہمیں کافی سچائی نظر آتی ہے کہ زندگی میں بے یقینی ہی یقینی ہوتی ہے۔

مزید : رائے /کالم