اربوں کے اثاثے کوڑیوں کے مول

اربوں کے اثاثے کوڑیوں کے مول
اربوں کے اثاثے کوڑیوں کے مول

  

مشہور محاورہ ہے کہ ’’چور چوری سے جاتا ہے، ہیرا پھیری سے باز نہیں آتا‘‘۔۔۔ یہ محاورہ مجھے سیاست دانوں کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آنے پر یاد آیا ہے۔سپریم کورٹ نے بیانِ حلفی کا کچھ ایسا پھندہ گلے میں ڈالا ہے کہ اُس سے جان چھڑانا ناممکن ہو گیا ہے۔پہلے والا فارم ہوتا تو شاید کچھ بچت ہو جاتی،مگر یہ تو بیانِ حلفی ہے اور یہ بھی حکم ہے کہ اسے سپریم کورٹ کے سامنے دیا گیا بیانِ حلفی تصور کیا جائے،جس کے غلط ثابت ہونے پر تاحیات نااہلی بھی ہو سکتی ہے اور توہینِ عدالت کی سزا بھی، سو ہر کوئی اِس بیانِ حلفی کا ہر خانہ پُر کر رہا ہے تاکہ کم از کم خانہ پُری تو کی جا سکے۔اب چونکہ جائیداد یا دیگر حقائق چھپانا ممکن نہیں،اِس لئے سب کچھ بتایا تو جا رہا ہے، مگر اُس میں ہیرا پھیری یہ کی جا رہی ہے کہ ایک کروڑ کی جائیداد کو ایک لاکھ کی جائیداد بتایا گیا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ سوائے بلاول بھٹو زرداری کے کسی کے اثاثے بھی اربوں میں نہیں، بس کروڑوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ جس مُلک میں اربوں کھربوں روپے کی کرپشن کے قصے کہانیاں چل رہی ہیں،وہاں نامی گرامی سیاست دانوں کے اثاثے اگر کروڑوں تک محدود رہیں تو سمجھو کہ ’’دال میں کچھ کالا ضرور ہے‘‘۔۔۔ جن مقامات پر زمین سونے کیا پلاٹینم کے بھاؤ بک رہی ہے، وہاں موجود اپنے بنگلوں کی قیمت کوڑیوں سے بھی کم بتانے والے یہ سیاست دان کیا صادق و امین کی تعریف پر پورا اُترتے ہیں؟ کیا اثاثے چھپانا بھی 62-63 کے زمرے میں آتا ہے یا اثاثوں کی کم مالیت ظاہر کرنا بھی بددیانتی کہی جا سکتی ہے؟ حیرت ہوتی ہے کہ شہباز شریف کے چہیتے بیورو کریٹس تو اربوں کے اثاثوں تک پہنچ گئے ہیں،مگر وہ کروڑوں سے اوپر نہیں جا سکے، اب اسے اُن کی درویشی کہا جائے یا دریا دلی کہ دوسروں کو ارب پتی بنتا دیکھتے رہے، مگر خود کروڑ پتی ہی رہے۔انہوں نے اپنے گھر کی قیمت لاکھوں میں بتائی ہے۔ مَیں پچھلے ایک برس سے لاہور شفٹ ہونے کا پروگرام بنا رہا ہوں،مجھے دس مرلے کا گھر بھی دو اڑھائی کروڑ سے کم نہیں مل رہا، تو صاحبو! یہ کسے دھوکہ دیا جا رہا ہے اور کون ہے، جو سامنے نظر آنے والے اِن دھوکوں سے نظریں چُرا رہا ہے؟

اگر ہم ذرا سا بھی غور کریں تو ان اثاثوں کی بنیاد پر سب سیاست دانوں کے خلاف نیب آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس تیار کر سکتا ہے۔اب کوئی بتائے کہ بلاول بھٹو زرداری کے اربوں میں اثاثے کیسے بن گئے؟ موصوف نے تو ابھی تعلیم سے فراغت حاصل کی اور کوئی کام بھی نہیں کیا۔اگر اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثے بنانے پر نیب کارروائی کر سکتا ہے تو بلاول بھٹو زرداری کو نوٹس کیوں نہیں دیا جا سکتا؟ یہ حیرت انگیز ماجرا تو شاید ہی کسی کی سمجھ میں آئے کہ آصف علی زرداری کے اثاثے کم ہیں اور بلاول بھٹو زرداری کے زیادہ،حالانکہ ساری زندگی مسٹر ٹین پرسنٹ کا الزام آصف علی زرداری پر لگتا رہا۔ انہوں نے تو زندگی میں کچھ بھی نہیں بنایا،سارا کچھ تو بلاول بھٹو زرداری نے کمایا ہے،لیکن مجھے یقین ہے اس پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی،انتخابات کے بعد یہ تمام بیانِ حلفی بھی ماضی کی طرح غتربود ہو جائیں گے اور جب اگلے انتخابات آئیں گے تو اپنی جائیدادوں کی اُس وقت کے حساب سے مارکیٹ ویلیو بتاکر،انہیں گوشواروں میں درج کر دیا جائے گا، گویا یہ تمام اثاثے جو اس وقت غیر قانونی نظر آ رہے ہیں، تب قانونی ہو جائیں گے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ ریٹرننگ افسروں نے امیدواروں سے غیر متعلقہ سوالات تو پوچھے، بیانِ حلفی میں جو اثاثے بتائے گئے اُن کے بارے میں کچھ بھی نہیں پوچھا۔ نہ تو کسی امیدوار سے اُس کے ذریع�ۂ آمدنی کے حوالے سے کوئی سوال کیا اور نہ ہی ٹیکس کی تفصیلات مانگیں۔

گویا وہ کام جو ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت خفیہ اثاثے قانونی بنانے پر بھاری ٹیکس ادا کرنے کے بعد ہونا تھا،وہ مفت میں ہو گیا۔اربوں روپے کی جائیداد کنالوں اور ایکڑوں میں تو بتا دی گئی، مالیت کے لحاظ سے اُسے انتہائی کم بتایا گیا، گویا اثاثے تو ڈکلیئر ہو گئے، اب انہیں جس بھاؤ بیچا جائے، کوئی پوچھ نہیں پائے گا۔۔۔ ’’عقل عیار ہے سو بھیس بٹا لیتی ہے‘‘۔۔۔ پاکستان میں اشرافیہ کی عقل تو کچھ زیادہ ہی عیار و مکار ہے۔اُس تک پہنچنا عام بندے کا کام نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی2460 کنال اراضی کی قیمت صرف9 لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ گویا365روپے فی کنال۔ اب کوئی بتائے کہ اسے جھوٹ کہا جائے یا فریب؟ شاید تھرپارکر کے صحرا میں بھی زمین فی کنال لاکھ روپے سے کم نہ ملتی ہو۔ یہ 365 روپے کنال تو گویا لٹھے کے ایک سوٹ کی قیمت سے بھی کم ہے، جو دوہزار میں ملتا ہے۔

سپریم کورٹ نے بڑی سنجیدگی سے کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ بیانِ حلفی داخل کرانے کا حکم دیا تھا ۔ اُس بیانِ حلفی کے مندرجات کی منظوری بھی سپریم کورٹ سے لی گئی تھی۔ اب اس کا کس طرح مذاق اُڑایا جا رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہں۔ اربوں کی اراضی کے مالک اُسے کروڑوں، بلکہ لاکھوں روپے کی ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ تو صریحاً دھوکہ دہی ہے۔کیا سب کو معلوم نہیں کہ اسلام آباد میں اراضی کا 

کیا بھاؤ ہے؟ کیا اندھا بھی یہ نہیں جانتا کہ لاہور میں ایک کنال کے گھر کی قیمت کیا ہے؟ تو پھر یہ جو بیانِ حلفی میں اثاثے بتائے جا رہے ہیں، کیا ان کی قیمتیں قرون اولیٰ کے دور کی ہیں۔یہ لوگ آخر کس سے ڈر رہے ہیں؟ نیب سے یا عوام سے؟ وہ عوام کے سامنے اپنے حقیقی اثاثے اِس لئے نہیں لانا چاہتے کہ لوگ کہیں گے یہ اربوں روپے کہاں سے نکال لائے ہیں، کل تک تو اِن کی حالت بہت پتلی تھی یا پھر انہیں ڈر ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کی منی ٹریل نہیں دے سکتے، اِسی لئے سو کی چیز کے دس پیسے بتائے جائیں۔کیا ان سب نے عوام کو پاگل سمجھ رکھا ہے۔کیا وہ کسی خلائی سیارے پر رہتے ہیں، جس کے بارے میں عوام کو علم نہیں کہ وہاں زمین کی قیمت کیا ہے عجیب بات ہے کہ یہ لوگ پچاس یا ساٹھ لاکھ روپے کے گھر میں رہتے ہیں،حالانکہ اِن کے گھروں کو دیکھیں تو محلات کا گمان ہوتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے اپنے ملتان والے گھر کی قیمت60 لاکھ روپے بتائی ہے، حالانکہ جب وہ وزیراعظم تھے تو اُن کے گھر کے باہر جو بلٹ پروف دیوار بنائی گئی تھی،سرکاری خزانے سے اس پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے تھے، جس سڑک پر اُن کا گھر واقع ہے، وہاں زمین کی قیمت15 لاکھ روپیہ مرلہ سے بھی زیادہ ہے اور اُن کا گھر کئی کنال پر مشتمل ہے، سو صاف نظر آ رہا ہے کہ بیانِ حلفی کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں۔ اُس کی روح کو برباد کیا جا رہا ہے،اتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ شاید جھوٹ کو بھی شرمندگی محسوس ہو رہی ہو۔ اثاثوں کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ سب نے اپنا بینک بیلنس کروڑوں روپے میں ظاہر کیا ہے۔

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے بھی ایک رمز پوشیدہ ہے، چونکہ الیکشن کے بعد الیکشن کمیشن میں اخراجات کے گوشوارے بھی جمع کرانے ہیں،اِس لئے اگر کیش ظاہر نہیں کریں گے تو اخراجات کس مد میں شو کریں گے؟ سو جناب شہباز شریف کے گھر کی قیمت تو لاکھوں میں ہے، مگر بینک میں کیش کروڑوں سے زیادہ پڑا ہے۔ یہی حال باقی سب کا بھی ہے کہ بینک بیلنس میں کروڑوں روپے موجود ہیں، سب نے خود کو کسی نہ کسی کا مقروض بھی ظاہر کیا ہے۔ اس کا مقصد بھی آمدنی کے ذرائع کو کور کرنا ہے۔کبھی کوئی مشکل آن پڑی تو کہا جائے گا کہ فلاں آدمی سے قرضہ لیا تھا، جو ابھی تک واجب الادا چلا آ رہا ہے۔

بیانِ حلفی سے ایک کام تو بہرحال اچھا ہوا کہ سب اپنے اثاثوں کی تفصیلات دینے پر مجبور ہو گئے،جس کا جو کچھ جہاں پڑا ہے، اُس نے کاغذوں میں درج کر دیا ہے،چونکہ بیانِ حلفی میں یہ خانہ موجود ہی نہیں کہ اُس کا ذریعہ بتایا جائے،اِس لئے سب اپنے اثاثے کھل ڈل کے درج کر رہے ہیں،مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ اُن کی مارکیٹ ویلیو آج کے حساب سے نہیں،بلکہ پچاس سال پہلے کے حساب سے بتائی جائے۔ بعض لوگوں کے اثاثے سال میں کروڑوں روپے کے حساب سے بڑھ رہے ہیں۔ کون پوچھے گا کہ یہ کرشمہ کیسے ہوا؟ یہ کام ویسے تو نیب یا ایف بی آر کا ہے، مگر اُن کے تو نجانے پَر جلتے ہیں۔ اس معاملے میں دونوں چُپ سادھے ہوئے ہیں۔ جس کے اثاثے سال میں چار کروڑ روپے بڑھے ہیں، کیا اُس نے اس تناسب سے ٹیکس دیا ہے؟ ایف بی آر کو کم از کم اتنا تو پوچھنا چاہئے۔ اگر ٹیکس نہیں دیا تو اس کا مطلب ہے وہ کالا دھن ہے۔کالے دھن کو انتخابی حلف نامے میں ظاہر کر کے کوئی صادق و امین کیسے رہ سکتا ہے؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ امیدواروں نے جو بیانِ حلفی جمع کرائے ہیں، وہ اُن کے لئے احتساب کا بڑا پھندہ بن جائیں گے،کیونکہ اب تو وہ مُکر بھی نہیں سکتے کہ یہ سب کچھ اُن کا نہیں۔

نیب قانون کے مطابق انہوں نے یہ اقرار تو کر لیا ہے کہ اُن کے پاس کتنی جائیداد اور اثاثے ہیں۔ اب یہ سوال کرنا نیب کا کام ہے کہ وہ اُن سے پوچھے کہ یہ سب کچھ انہوں نے کیسے بنایا؟ ایک ایوان فیلڈ کی منی ٹریل نہ دینے کی وجہ سے اگر نواز شریف اپنی وزارتِ عظمیٰ سے محروم ہو کر نیب عدالت میں سو سے زائد پیشیاں بھگت سکتے ہیں تو باقی آسمان سے اُترے ہیں کہ اندرون و بیرون مُلک اپنے اثاثوں کی تفصیلات دیں اور اُن سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہو، اِس لئے کوئی بعید نہیں کہ نیب یہی بیانِ حلفی اٹھائے اور جس کے اثاثے اُس کی بساط سے بڑھ کر دیکھے، اُسے اپنے شکنجے میں جکڑ لے۔۔۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ کرے ایسا ہو،۔ قوم کی دولت لوٹ کر اربوں پتی بننے والے قوم کو حساب دیں۔ آج ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ مُلک کی معیشت کا حال بُرا ہے، ہماری عالمی ریٹنگ بھی منفی ہو گئی ہے۔ ایک طرف مُلک قرضوں میں دھنس کر دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور دوسری طرف مُلک کی ارب پتی اشرافیہ ہے، جس کے اثاثوں کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں۔ اس طرح تو مُلک نہیں چل سکتا۔ ایسا صرف اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں احتساب نام کی کوئی چیز موجود نہ ہو، جبکہ ہمارے پاس تو نیب موجود ہے، دیکھتے ہیں وہ اپنی آنکھیں کیسے اور کب کھولتا ہے؟

مزید : رائے /کالم