گڈانی: سمندر میں نہاتے ایک ہی خاندان کے 17افراد ڈوب گئے

گڈانی: سمندر میں نہاتے ایک ہی خاندان کے 17افراد ڈوب گئے

کراچی ، گڈانی (مانیٹرنگ ڈیسک ) گڈانی ساحل سمندر میں نہاتے ہو ئے ایک ہی خاندان کے 17 افراد ڈوب گئے،4 خواتین کی لاشیں نکال لی گئیں اور11 کو بچا لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے حب میں ساحل سمندر گڈانی کے پکنک پوائنٹ پر نہاتے ہوئے ایک ہی خاندان کے 17 افراد ڈوب گئے، جن میں سے 4 خواتین کی لاشیں نکال لی گئیں، 11 کو بچا لیا گیا۔ بدقسمتی سے 4 خواتین سمندر کی موجوں سے مقابلہ کرتے ہوئے دم توڑ چکی تھیں، خواتین کی لاشیں ایدھی کے غوطہ خوروں نے نکال لی ہیں،ڈوبنے والے دو بچے لاپتا ہیں، جن کی تلاش ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے اور ایدھی کے غوطہ خور بھی جائے وقوع پر موجود ہیں، ڈوبنے والوں کی لاشوں کو کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق ڈوبنے والوں میں 4 خواتین اور 2 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 4 خواتین کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔پولیس کا کہنا تھا کہ ڈوبنے والے دیگر افراد کی لاشوں کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔پولیس نے مزید بتایا کہ گڈانی میں ڈوبنے والوں کا تعلق کراچی کے علاقے لیاری سے ہے۔واقعے کی رپورٹس منظر عام پر آنے کے بعد متاثرہ خاندان کے عزیز و اقارب اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کرنے کے لیے گڈانی پہنچے۔متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ 17 افراد پکنک منانے گڈانی گئے تھے۔بعد ازاں انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس امجد جاوید سلیمی نے گڈانی بلوچستان کے سمندر میں 7 افراد کے ڈوبنے کے واقعے کے تناظر میں پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ سندھ میں سمندر کی ساحلی پٹی کو ہر لحاظ سے محفوظ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے عائد دفعہ 144 پر عمل درآمد سختی سے کرایا جائے اور اس حوالے سے عوام کو باقاعدہ آگاہی فراہم کی جائے۔ عوام کے جان ومال کے تحفظ کے حوالے سے اختیار کردہ حکمت عملی ولائحہ عمل میں کوئی بھی غفلت یا لاپروائی ناقابل برداشت ہوگی۔

خواتین کی لاشیں

مزید : صفحہ آخر