عوامی حقوق کا تحفظ کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ

عوامی حقوق کا تحفظ کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد(صبا ح نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو حساس ادارے کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے عرصہ دراز سے بند سڑک کو ایک ہفتے میں دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔جسٹس شوکت صدیقی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے جمعے کو اسلام آباد میں تجا و زات ہٹانے سے متعلق نوٹس کی سماعت کی۔وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکریٹری محمد یونس عدالت میں پیش ہوئے۔بینچ کے سربراہ نے کہا عدالت نے تو سیکریٹری دفاع کو طلب کیا تھا وہ کیوں پیش نہیں ہوئے۔وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکریٹری محمد یونس کا کہنا تھا چند اہم سرکا ر ی مصروفیات کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے شاید سیکریٹری دفاع عدالت میں پیش ہونے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔عدالت نے وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکریٹری سے سڑک بند کرنے کی وجہ پوچھی تو انھوں نے جواب دیا اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کی مشاورت سے اس شاہراہ کو بند کیا گیا تھا۔عدالت نے جب اس حوالے سے کوئی دستاویز پیش کرنے کو کہا تو جوائنٹ سیکریٹری محمد یونس نے کہا مشاورت زبانی ہوئی تھی جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ان کے پاس سڑک بند کرنے کا کوئی اجازت نامہ نہیں ہے۔بینچ کے سربراہ نے محمد یونس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ان کی وزارت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ملک سے شدت پسندی کا خاتمہ کر دیا گیا اور اگر ایسا ہے تو پھر اس سڑک کو کھولا کیوں نہیں جاتا ہے؟عدالت کا کہنا تھا شدت پسندی کیخلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دی گئی قربانیوں سے انکار ممکن نہیں لیکن اس کیساتھ ساتھ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنا بھی عدالت کی ذ مہ داری ہے۔بینچ کے سربراہ نے وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکریٹری سے کہا وہ اپنی حدود میں بے شک سیسہ پلائی دیوار تعمیر کر لیں اس پر عدالت کو کوئی اعتراض نہیں لیکن شاہراہ کو اب سکیورٹی کے نام پر مزید بند نہیں رہنے دیا جائے گا۔عدالت نے سی ڈی اے حکام کو حکم دیا وہ ایک ہفتے کے اندر اندر خیابان سہروردی کو خالی کروائیں اور ایسا نہ ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔عدالت نے اس نوٹس کی سما عت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ آخر