مجلس عمل کے زیراہتمام آج ہو نیوالی فیملی عید ملن کی تمام ترتیاریاں مکمل

مجلس عمل کے زیراہتمام آج ہو نیوالی فیملی عید ملن کی تمام ترتیاریاں مکمل

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) متحدہ مجلس عمل کے زیراہتمام آج 23جون کو کر کٹ گراؤنڈ کراچی کمپنی اسلام آباد میں ہو نے والی عظیم الشان فیملی عید ملن کی تمام ترتیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جس میں ہزاروں مردو خواتین اور بچے شر یک ہوں گے ، متحدہ مجلس عمل کے مر کزی قائدین مولانا فضل الرحمن ، سینیٹر سراج الحق ، علامہ سید ساجد علی نقوی ، علامہ ساجد میر ، پیر اعجاز ہاشمی اور میاں محمد اسلم پروگرام کے شر کاء سے خطاب کر یں گے ،اس سلسلے میں ضلع بھر میں متحدہ مجلس عمل کے اُمیدوار برائے قومی اسمبلی این اے 53,54 میاں محمد اسلم اور این اے 52ملک عبد العزیز کے بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں ہینڈ بل گھروں ، مارکیٹوں گلی محلوں اور مساجد کے باہر تقسیم کیے جا رہے ہیں ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، سیکرٹری جنرل زبیر صفدر سمیت متحدہ مجلس عمل اسلام آباد کے قائدین ضلع بھر کی مختلف یو نین کونسلوں کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ ارکان کارکنان اور شہریوں سے ملاقاتیں کر کے انھیں پروگرام میں شر کت کی دعوت دے رہے ہیں ۔نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم نے متحدہ مجلس عمل اسلام آباد کی قیادت مولانا عبدالرؤف ،حافظ مقصود احمد ، محمد کاشف چوہدری ، مفتی عبداللہ،نصراللہ رندھاوا کے ہمراہ جی نائن کرکٹ گراؤند کادورہ کیا اور انتطامات کا جا ئز ہ لیا ۔میاں محمد اسلم نے کہا 23جون کو ہو نے والے عظیم الشان فیملی عید ملن میں اسلام آباد کی ہزاروں فیملیاں شریک ہوں گی جہاں اسلام آباد کے شہریوں کو درپیش مسائل اور ان مسائل کے حل کا روڈ میپ پیش کیا جا ئے گا ، انھوں نے کہا سابقہ اور مو جودہ بلدیاتی اور پارلیمانی نمائندوں نے اسلام آباد کے مسائل کو حل کر نے کی کو ئی بھی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے دنیا کا خوبصورت ترین دارلحکو مت مسائل کی آما جگاہ بن چکا ہے ،انھوں نے کہا اس وقت اسلام آباد کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت کا ہے جبکہ تعلیم ، صحت ، روزگار ، صفائی اور ترقیاتی کاموں کے نہ ہو نیکی وجہ سے بھی اہل اسلام آباد بد تر ین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ،انھوں نے کہا وقت آگیا ہے کہ شہری اپنے ووٹ کا درست استعمال کر کے دیانتدار اور شہر کے مسائل کے حل میں سنجیدہ قیادت کا انتخاب کر یں تاکہ مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر