A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

اور اب پیپلز پارٹی کے معروف ترین رہنما حلقے میں گئے تو عوام ٹوٹ پڑی، لیکن انہوں نے جواب میں ووٹروں کے ساتھ کیا کردیا ؟ جان کر ہر پاکستانی افسردہ ہوجائے

اور اب پیپلز پارٹی کے معروف ترین رہنما حلقے میں گئے تو عوام ٹوٹ پڑی، لیکن انہوں نے جواب میں ووٹروں کے ساتھ کیا کردیا ؟ جان کر ہر پاکستانی افسردہ ہوجائے

Jun 23, 2018 | 12:29:PM

نوڈیرو (ڈیلی پاکستان آن لائن)عام عوام کی جانب سے اپنے خاص نمائندوں کی ’کلاس‘ لگانے کا سلسلہ جاری ہے، پہلے پنجاب سے جمال لغاری، سندھ سے سلیم جان مزاری کو ووٹرز نے گھیر کر اپنے حقوق سے متعلق سوال کیا اور اب سابق وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کو ووٹرز نے گھیر لیا لیکن موصوف اپنی بم پروف گاڑی میں بیٹھے رہے اور موقع ملتے ہی فرار ہونے میں عافیت جانی۔

سوشل میڈیا پر سہیل انور سیال کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں اپنی انتخابی مہم کے دوران نوڈیرو میں ووٹرز میں گھرے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سہیل انور سیال اپنے لاﺅ لشکر کے ساتھ ووٹ مانگنے کیلئے پہنچے تو ووٹرز نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا اور گزشتہ سالوں کا حساب مانگنے لگے ۔ موقع پر موجود بعض افراد سابق وزیر داخلہ کے خلاف نعرے بازی بھی کرتے رہے جبکہ ویڈیو بنانے والا شخص بار بار سہیل انور سیال سے اپنا موقف دینے کا مطالبہ کرتا رہا۔ ووٹرز کے احتجاج کے دوران سہیل انور سیال اپنی گاڑی میں بیٹھے رہے اور موبائل دیکھتے رہے، اس دوران ڈرائیور نے جیسے ہی موقع پایا تو گاڑی بھگادی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ڈیرہ غازی خان میں مسلم لیگ ن کے امیدوار جمال خان لغاری کو نوجوانوں نے گھیر لیا تھا اور ان سے اپنے حقوق سے متعلق سوالات کرتے رہے تھے، اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی۔ جمال لغاری کے ساتھ عوام کے گھیراﺅ کا واقعہ پیش آنے کے دو روز بعد ہی شمالی سندھ کے ضلع کندھ کوٹ ایٹ کشمور کے علاقے تنگوانی میں نوجوانوں نے ووٹ مانگنے کے لیے آنے والے علاقے کے بااثر ترین سردار سلیم جان مزاری کو بھی گھیر لیا تھا۔

سہیل انور سیال کی ویڈیو کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں اور بعض لوگ عوام میں بیدار ہونے والے اس شعور کا کریڈٹ عمران خان کو دے رہے ہیں۔زوفین ابراہیم نامی ایک خاتون نے اس ویڈیو کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا تو علی عاطف سعید نے اس کا کریڈٹ عمران خان کو دیا۔

عرفان نامی ٹوئٹر صارف یہ ویڈیو دیکھ کر بد دعائیں دیتے نظر آئے۔

سہیل نے سوال اٹھایا کہ اس کے ہم نام سابق وزیر داخلہ کو لوگوں نے جوتے کیوں نہیں دکھائے ؟۔

نادر علی نے نواز شریف کے قوم پرستانہ نعرے کو سندھی رنگ دے دیا اور کہا ” جاگ سندھی جاگ “۔ خیال رہے کہ نواز شریف نے نعرہ لگایا تھا ” جاگ پنجابی جاگ ، تیری پگ نوں لگ گیا داغ “۔

ایک ریٹائرڈ فوجی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ سندھ کے لوگ وڈیروں اور پی پی کے حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے نوڈیرو کے لوگوں کی اس بات پر تحسین کی کہ انہوں نے وڈیروں کی جماعت (پیپلز پارٹی) کیلئے نعرے لگانے سے انکار کردیا۔

حسن سلیم نے بتایا کہ اس نے رمضان کے دوران اندرون سندھ کا دورہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہاں کے لوگ بھرے بیٹھے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی مین سٹریم پارٹی متبادل کے طور پر موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

مزیدخبریں