امیدواروں پر پی ٹی آئی میں جانے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے،پی پی، زرداری کی ڈٹ جانے کی ہدایت

امیدواروں پر پی ٹی آئی میں جانے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے،پی پی، زرداری کی ڈٹ ...
امیدواروں پر پی ٹی آئی میں جانے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے،پی پی، زرداری کی ڈٹ جانے کی ہدایت

  

لاہور (ویب ڈیسک) سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں پر تحریک انصاف میں شمولیت کے لئے دبائو ڈالا جارہا ہے۔

روزنامہ دنیا کے مطابق گزشتہ روز نوڈیرو ہائوس میں ہونے والے پیپلزپارٹی کے اجلاس میں بھی رہنمائوں پر وفاداریاں بدلنے کے لئے دبائوڈالے جانے کا معاملہ حاوی رہا۔اجلاس میں خورشید شاہ کے خط کا ذکر بھی ہوتارہا۔ ان کے علاوہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی آصف زرداری کو امیدواروں پر دبائو کی شکایت کر چکے ہیں۔دبائو کے انکشاف کے بعد بلاول بھٹو نے تقریر میں اداروں کے کردار پر بھی بات کی۔پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے پارٹی عہدیداروں کو کسی بھی قسم کا دبائو قبول نہ کرنے اور ڈٹ کر انتخاب لڑنے کی ہدایت کی۔

بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں اداروں کے مبینہ سیاسی کردار پر کڑی تنقید کی اور کہا اگر ادارے سیاسی کردار ادا کریں گے تو ہمیں سیاسی ادارے بھی نا منظور ہیں۔ ہمارے امیدواروں پر دوسری جماعتوں میں شمولیت کے لئے دبائو منظور نہیں،اداروں کا دوسری جماعتوں کے ارکان پر کسی جماعت میں شمولیت کے لئے دباﺅ یا وفاداریاں بدلنے کے لئے پریشرائز کرنا کسی طور درست نہیں۔

پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے پیپلزپارٹی کے امیدواروں پر وفاداریاں بدلنے کیلئے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ عمران خان تاثر دے رہے ہیں کہ تحریک انصاف دور حاضر کی کنگز پارٹی اور نئی مسلم لیگ ق ہے۔اس صورتحال میں یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن سمیت تمام متعلقہ ادارے اپنی غیرجانبداری یقینی بنائیں۔الیکشن کمیشن انتخابات سے عوام کا اعتماد نہ اٹھنے دے کیونکہ اگر عوام کا انتخابات سے اعتماد اٹھ گیا تو وفاق اور جمہوریت کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا لاڈلا عمران خان اداروں کے رویے کی بنیاد پر دعویٰ کر رہا ہے کہ اسے حکومت میں لایا جا رہا ہے۔

ظاہر ظہور قاف لیگ ملک کو کوئی فائدہ نہ دے سکی تو یہ خفیہ قاف لیگ ملک کیلئے کیسے سودمند ہوگی۔کہا جا رہا ہے نون لیگ کے بعد اب پی پی پی کو توڑا جائے گا۔ایسی خواہش رکھنے والے کسی بھول میں نہ رہیں، پی پی نہ پہلے ٹوٹی نہ اب ٹوٹے گی۔انہوں نے قرار دیا کہ لاڈلے کی خواہش ہے کہ وہ اکیلا انتخابات لڑے تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے وقت نے ایک بار پھر پی پی پی کو ضیا اور مشرف آمریت کی باقیات کے مقابلے کا کردار سونپ دیا ہے قوم مطمئن رہے ،آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی قیادت میں آمریت کی باقیات کا مقابلہ کریں گے۔

الیکشن کمیشن سمیت تمام ادارے اپنی غیرجانبداری یقینی بنانے کیلئے اقدامات کریں۔خوش قسمتی، آصف زرداری کے تدبر اور بینظیر شہید کی قربانی سے تیسرے عام انتخابات ممکن ہو رہے ہیں۔جیالے اپنی اور قیادت کی جدوجہد اور قربانی ضائع نہ جانے دیں ایک ایک ووٹ پر پہرا دیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور