آپ کا ملک کی سیاست میں کوئی کردار نہیں , با اثر حلقوں نے پیغام پہنچا دیا: رپورٹ

آپ کا ملک کی سیاست میں کوئی کردار نہیں , با اثر حلقوں نے پیغام پہنچا دیا: رپورٹ
آپ کا ملک کی سیاست میں کوئی کردار نہیں , با اثر حلقوں نے پیغام پہنچا دیا: رپورٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دبئی (ویب ڈیسک) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے عارضی طور پر اپنی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی سربراہی سے مستعفی ہوگئے ہیں جس کا مقصد ان کی سیاسی جماعت اے پی ایم ایل کو بغیر کسی حیل وحجت اور تنازع کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مجوزہ قوانین اور جملہ پیچیدگیوں سے پاک کرکے انتخابات میں حصہ لینے کے قابل بنایا جاسکے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق اس عارضی مرحلے میں جنرل پرویز مشرف سیاسی جماعت سے عملاًعلیحدگی اختیار نہیں کریں گے بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک مخصوص کردار ادا کریں گے,اس دوران سینٹرل ایگزیکیٹیو کمیٹی کے ڈاکٹر امجد ان کی جگہ لیں گے اور ماحین ملک آدم سیکریٹری جنرل کے فرائض انجام دیں گی۔ اخبار کے مطابق ایک اہم اجلاس میں جنرل پرویز مشرف جو آج کل کچھ بیمار اور کمزورہیں نے اپنے کارکنوں کو کہا ہے کہ وہ پوری توانائی اور آب و تاب کے ساتھ الیکشن میں حصہ لےکر ہر صورت میں ایوان تک پہنچا جائے جبکہ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ملک کے بااثر حلقوں نے جنرل پرویز مشرف کو کئی مرتبہ کہا ہے کہ اب پاکستان کی عملی سیاست میں ان کا (جنرل پرویز مشرف) کا کوئی کردار نہیں رہا اور اب وہ ملک میں آنے کی کوشش نہ کریں اور ایک خوش و خرم ریٹائرڈ افسر کی زندگی گزاریں۔

اخبار کے مطابق پرویز مشرف کے قریبی دوستوں نے سابق صدر کو بتایا ہے کہ ان کی صدارت کے دوران بہت سے لوگوں نے اہم اورنادر عہدوں پر جگہ لی ہے جو اب تک اس سے پیسے بنا رہے ہیں اور حال ہی میں کراچی میں ایک جلسہ کے انعقاد کیا تھا جس میں صرف 1800کے قریب افراد نے شرکت کی اور اس پردو کروڑ روپئے کی لاگت آئی تھی۔ یہاں یہ امر بھی حیرت انگیز ہے کہ 2013میں پرویز مشرف نے ملک واپسی کے لئے چھ کروڑ روپئے خرچ کئے تھے تاکہ الیکشن میں حصہ لیا جاسکے اس کے علاوہ ایک اور امر نہائت اہم ہے کہ پرویز مشرف کی صحت بتدریج خرابی کی طرف جارہی ہے۔

مزید : قومی /عرب دنیا