’میرا ہمسفر مجھے مارتا تھا اور میں زخمی ہوجاتی تو کہتا میرے جسم کا یہ حصہ دباؤ کیونکہ۔۔۔‘ نوجوان لڑکی نے ایسی دردناک بات بتادی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

’میرا ہمسفر مجھے مارتا تھا اور میں زخمی ہوجاتی تو کہتا میرے جسم کا یہ حصہ ...
’میرا ہمسفر مجھے مارتا تھا اور میں زخمی ہوجاتی تو کہتا میرے جسم کا یہ حصہ دباؤ کیونکہ۔۔۔‘ نوجوان لڑکی نے ایسی دردناک بات بتادی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

برمنگھم(نیوز ڈیسک)بظاہر اچھے بھلے نظر آنے والے بعض لوگوں کے اندر ایسی درندگی چھپی ہوتی ہے کا جس کا تصور کر کے ہی خوف آئے۔ تعلیم کے لئے برطانیہ جانے والی ایک فرانسیسی طالبہ کو بھی ایک ایسے ہی درندے سے واسطہ پڑ گیا جو اس پر تشدد بھی کرتا تھا اور جب مارتے مارتے ہاتھ تھک جاتے تو اسی سے اپنے ہاتھوں کا مساج بھی کرواتا تھا۔

دی مرر کے مطابق یہ فرانسیسی طالبہ کارڈف یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی جہاں 24 سالہ عزیر حسین اس کا کلاس فیلو تھا۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ میں بالکل تنہا تھی لہٰذا جب عزیر سے دوستی ہوئی تو اس نے سوچا کہ اجنبی ملک میں ایک اچھا ساتھی مل گیا، لیکن اسے کیا خبر تھی کہ وہ کس عذاب میں مبتلاء ہونے والی تھی۔ 

نیوپورٹ کراؤن کورٹ کے سامنے اس لڑکی نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بتایا کہ ’’شروع میں اس کا رویہ بہت اچھا تھا۔ میں اس پر بہت اعتماد کرنے لگی تھی اور ہم نے اکٹھے رہنا شروع کر دیا تھا۔ پھر مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کچھ نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے اور یوں میں خود بھی اس کا خیال رکھنے کی ذمہ داری محسوس کرنے لگی۔ میری کمزوریوں کو اس نے بھانپ لیا اور ہر معاملے میں مجھے کنٹرول کرنے لگا۔ میں کس طرح کے کپڑے پہنچوں، کہاں جاؤں، کس سے ملوں، وہ یہ سب کچھ میرے اوپر مسلط کرتا تھا۔ پھر وہ تشدد پر بھی اتر آیا۔ وہ اکثر مجھے بیلٹ سے مارتا تھا اور کسی بھی وقت مجھ پر تھپڑوں اور گھونسوں کے ساتھ تشدد شروع کر دیتا تھا۔ جب مجھ پر تشدد کرتے ہوئے اس کا ہاتھ تک جاتا تھا تو مجھے کہتا تھا کہ میں اس کا ہاتھ دباؤں۔ میں اس کا تشدد سہنے کے بعد اس کے ہاتھ کا مساج بھی کرتی تھی تا کہ جب وہ ورزش کرنے کے لئے جم جائے تو اس کے ہاتھ میں تکلیف نا ہو۔‘‘ 

یہ طالبہ ایسی بدسلوکی کے باوجود اس شخص کے ساتھ رہنے پر کیوں مجبور تھی، اس سوال کا جواب دیتا ہوئے اس کا کہنا تھا ’’ کوئی بھی شخص جسے اس طرح کی صورتحال سے واسطہ نہیں پڑا وہ نہیں سمجھ سکتا کہ میں یہ سب کچھ برداشت کرنے پر کیوں مجبور تھی۔ اس نے میرے ذہن کو خوف میں جکڑ لیا تھا اور میں ہر وقت یہ سوچتی تھی کہ اگر میں نے بھاگنے یا کسی کو بتانے کی کوشش کی تو وہ مجھے مار ڈالے گا۔ میں اس قدر خوفزدہ رہتی تھی کہ اس کے سامنے زبان کھولنے سے بھی مجھے ڈر لگتا تھا۔شاید میں بہت ہی کمزور اور کم ہمت لڑکی تھی۔ آج مجھے اس بات پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ میں اتنا ظلم سہنے کے باوجود فرار کیوں نا ہو سکی۔‘‘ 

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی