شادی پر آیا مہمان 6 سالہ بچی کو بہلا پھسلا کر ویرانے میں لے گیا، اس کا ریپ کیا او رپھر پتھر سے۔۔۔ ایسا شرمناک ترین واقعہ کہ جان کر شیطان بھی شرما جائے

شادی پر آیا مہمان 6 سالہ بچی کو بہلا پھسلا کر ویرانے میں لے گیا، اس کا ریپ کیا ...
شادی پر آیا مہمان 6 سالہ بچی کو بہلا پھسلا کر ویرانے میں لے گیا، اس کا ریپ کیا او رپھر پتھر سے۔۔۔ ایسا شرمناک ترین واقعہ کہ جان کر شیطان بھی شرما جائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گوالیار(نیوز ڈیسک) کمسن بچوں کے ساتھ جنسی حیوانیت کے واقعات اس قدر کثرت سے پیش آنے لگے ہیں کہ گویا ہر گلی اور بازار میں درندے آزادانہ گھوم رہے ہیں اور ایک بعد ایک معصوم بچہ ان کی حیوانیت کا نشانہ بنتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں آئے روز اس طرح کے المناک واقعات رونما ہو رہے ہیں اور یہی حال ہمسایہ ملک بھارت میں ہے۔ بدھ کے روز ایک اور ایسا دردناک واقعہ پیش آیا ہے کہ جس سن کر ہر صاحب اولاد کا دل پھٹ جائے اور خوف رگوں میں سرایت کر جائے۔

دی مرر کے مطابق یہ انسانیت سوز واقعہ ریاست مدھیا پردیش کے شہر گوالیار میں بدھ کی رات پیش آیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایک چھ سالہ بچی شادی کی تقریب میں شریک تھی کہ ایک سفاک شخص اسے بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا اور جنسی زیادتی کے بعد پتھر سے اس معصوم کا سر کچل کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ درندہ سفید رنگ کے فراک میں ملبوس بچی کو اپنے ساتھ لے جا رہا ہے اور تین گھنٹے بعد وہ اکیلا واپس آتا دکھائی دیتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رات کے وقت تقریب میں شامل بچی کو یہ درندہ اپنے ساتھ لے کر گیا اور اگلے روز صبح کے وقت بچی کی لاش شادی والے گھر سے تقریباً نصف کلومیٹر کی دوری پر ایک ویران جگہ سے ملی۔ لاش کے طبی معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ بچی کو زیادتی کانشانہ بنایا گیا۔ جنسی زیادتی کے بعد ظالم درندے نے بچی کا گلا دبا دیا اور پھر اس کی شناخت مٹانے کے لئے اس کے چہرے کو پتھر مار مار کر کچل دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کا چہرہ اس بری طرح کچل دیا گیا تھا کہ اس کی ناک، آنکھیں، ہونٹ، سب ختم ہو چکے تھے اور چہرے و سر کے اندر کی ہڈیاں بھی ٹوٹ گئی تھیں۔

پولیس نے شک کی بناء پر ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ یہ ظلم کرنے والا درندہ شاید پکڑ اجائے اور اسے عبرتناک سزا بھی ہو جائے لیکن ذرا سوچئے تو سہی کہ ان بدقسمت والدین پر کیا گزر رہی ہو گی جن کی معصوم کلی کی آبروریزی کی گئی اور پھر اس کا چہرہ یوں کچلا گیا کہ شناخت تک مٹ گئی۔ والدین کے دل پر لگنے والے یہ زخم کتنے گہرے اور کتنے دردناک ہیں، کسی اور کے لئے ممکن ہی نہیں کہ اس کا تصور بھی کر سکے۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی