ان خواتین کا تعلق کس عرب ملک سے ہے اور یہ کیا کام کرتی ہیں؟ جواب ایسا کہ آپ کبھی سوچ بھی نہ سکتے تھے یہ بھی ممکن ہے

ان خواتین کا تعلق کس عرب ملک سے ہے اور یہ کیا کام کرتی ہیں؟ جواب ایسا کہ آپ ...
ان خواتین کا تعلق کس عرب ملک سے ہے اور یہ کیا کام کرتی ہیں؟ جواب ایسا کہ آپ کبھی سوچ بھی نہ سکتے تھے یہ بھی ممکن ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی خواتین کا ذکر آئے تو سیاہ عبائے پہنے پردہ دار خواتین کا عکس ذہن میں ابھرتا ہے لیکن اب کچھ ایسی سعودی لڑکیوں کی تصاویر منظرعام پر آ گئی ہیں کہ دیکھ کر آپ کے لیے یقین کرنا مشکل ہو جائے گا۔ میل آن لائن کے مطابق یہ تصاویر دبئی سے سامنے آئیں ہیں جن میں یہ لڑکیاں اپنی لگژری کاروں کی نمائش کر رہی ہوتی ہیں۔ ان امیر زادیوں نے دبئی میں ”آل فی میل سپرکار کلب“ بنا رکھا ہے۔ اس گروپ کی رکن لڑکیوں کی تعداد 80سے زائد ہے۔ ان میں 17مختلف ممالک کی لڑکیاں شامل ہیں تاہم اکثریت سعودی لڑکیوں کی ہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان تصاویر میں یہ لڑکیاں اپنی پورشے، فراری، لیمبرگینی، رولز رائس اور بینٹلے جیسی لگژری گاڑیوں کے ساتھ موجود ہوتی ہیں اور انہوں نے مغربی طرز کے لباس پہن رکھے ہوتے ہیں جن کا سعودی عرب میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اس کلب کا ایک انسٹاگرام اکاﺅنٹ بھی ہے جہاں اس کی اراکین کی تصاویر پوسٹ کی جاتی ہیں۔

میزاﺅزی سوباتی نامی لڑکی اس کلب کی بانی ہے جس کا کہنا ہے کہ ”اس کلب میں وہ لڑکیاں شامل ہیں جو کار کی پیسنجر سیٹ پر بیٹھنا پسند نہیں کرتیں، انہیں خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے اور گاڑی چلانے کا شوق ہے۔ مجھے بچپن ہی سے سپرکاروں کا شوق تھااور اسی شوق کی وجہ سے میں نے یہ کلب بنایا۔“

کلب کی رکن الیکسی ہیرشی نے فوربز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ”کوئی بھی خاتون ہمارے کلب میں شامل ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے ایک ہی شرط ہے کہ وہ سپرکاروں کی شوقین ہو، کیونکہ ہمارے کلب کا نعرہ ہی ’اکتادینے والی کاریں چلانے کے لیے زندگی بہت مختصر ہے‘ ہے۔ نئی آنے والی خواتین کے پاس اپنی سپرکار اور ڈرائیونگ لائسنس ہونا چاہیے۔“

مزید : عرب دنیا