’میرے گھر والوں کو گولی مار دی گئی، پھر پورے گاﺅں سے لڑکیوں کو اکٹھا کر کے ہمیں سکول لیجایا گیا جہاں ہمارا ریپ کیا گیا اور۔۔۔‘ چھوٹی سی بچی کی وہ کہانی جسے جان کر ہر مسلمان کانپ اُٹھے

’میرے گھر والوں کو گولی مار دی گئی، پھر پورے گاﺅں سے لڑکیوں کو اکٹھا کر کے ...
’میرے گھر والوں کو گولی مار دی گئی، پھر پورے گاﺅں سے لڑکیوں کو اکٹھا کر کے ہمیں سکول لیجایا گیا جہاں ہمارا ریپ کیا گیا اور۔۔۔‘ چھوٹی سی بچی کی وہ کہانی جسے جان کر ہر مسلمان کانپ اُٹھے

  

ینگون(مانیٹرنگ ڈیسک) میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر برمی فوج اور بدھ دہشت گردوں نے ظلم کے جو پہاڑ توڑے ان پر ہر آنکھ نم ہو جاتی ہے۔ اب وہاں سے ایک معصوم بچی کی ایسی دردناک کہانی منظرعام پر آئی ہے کہ سن کر آدمی تڑپ اٹھے۔دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ایشیئن لیگل ریسورس سنٹر اور اس کے پارٹنر ’اودھیکار‘ نے روہنگیا خواتین پر ہونے والے مظالم پر مبنی کچھ دستاویزات انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں پیش کی ہیں جن میں 10سالہ مروہ کی کہانی بھی شامل ہے۔ معصوم مروہ نے تنظیم کے نمائندوں کو بتایا کہ ”ایک روز برمی فوجیوں نے ہمارے گاﺅں پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے میرے پورے خاندان کو گولیاں مار کر قتل کر دیا اور مجھے پکڑ کر گاﺅں کے سکول میں لے گئے۔ وہاں گاﺅں کی دیگر لڑکیاں بھی لائی گئیں اور پھر فوجیوں نے ہم سب کو برہنہ کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ہمیں کئی دن تک سکول میں رکھا گیا اور ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا رہا۔“

عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں 20سالہ خورشیدہ کی کہانی بھی شامل ہے جس نے تنظیم کے کارکنوں کو بتایا کہ ”برمی فوجیوں اور بودھوں نے گاﺅں پر حملہ کرکے مردوں عمررسیدہ خواتین کو قتل کر دیا اور لڑکیوں کو ایک جگہ لیجا کر درختوں سے باندھ دیا گیاجہاں وہ ایک ہفتے تک ہمیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ اس ظلم کے آٹھویں روز میں بے ہوش ہو گئی جس پر فوجیوں نے مجھے مردہ سمجھ کر دور لیجا کر پھینک دیا اور میں ہوش میں آنے پر بھاگ کر بنگلہ دیش پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔“31سالہ نور جہاں نے بتایا کہ ”برمی فوجی ایک روز ہمارے گھر آئے، مجھے اور میری 7سالہ بچی کو الگ کرکے ہمارے خاندان کے باقی تمام لوگوں کو ایک کمرے میں بند کیا اور گھر کو آگ لگا دی۔ وہ لوگ اندر ہی جل کر مر گئے۔ پھر انہوں نے پہلے میری بچی کے سامنے میرے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور پھر میری بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنایا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی