بھارتی قبیلے کی ان خواتین کی ناک اس طرح کیوں چھید دی جاتی ہے؟ وجہ ایسی کہ آپ تصور بھی نہیں کرسکتے

بھارتی قبیلے کی ان خواتین کی ناک اس طرح کیوں چھید دی جاتی ہے؟ وجہ ایسی کہ آپ ...
بھارتی قبیلے کی ان خواتین کی ناک اس طرح کیوں چھید دی جاتی ہے؟ وجہ ایسی کہ آپ تصور بھی نہیں کرسکتے

  

نئی دلی(نیوز ڈیسک)قدیم دور کے انسان کے رسوم و رواج بھی الگ ہی انداز کے تھے جس کی مثالیں آج بھی دنیا کے بعض خطوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں تو انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ایک ایسی ہی عجیب و غریب مثال بھارتی ریاست اروناچل پردیش کی زائرو وادی میں بسنے والی یہ خواتین ہیں۔ ان کا تعلق قدیم قبیلے آپاتانی سے ہے، جو آج کے جدید دور میں بھی دنیا سے الگ تھلگ اروناچل پردیش کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں آباد ہے۔ یہاں کی بوڑھی خواتین کی سب سے حیران کن بات ان کے چھدے ہوئے نتھنے ہیں جن میں یہ بڑے بڑے چپٹے کوکے ڈالتی ہیں۔ اس حیرتناک روایت کی وجہ بھی بہت عجیب ہے۔

یہ قبائلی کہتے ہیں کہ پرانے دور میں جب دشمن قبائل ایک دوسرے پر حملہ کرکے خواتین کو اغواءکر لے جایا کرتے تھے تو اس دور میں خوبصورت شکل و صورت والی خواتین کو بدنما بنانے کیلئے ان کے نتھنوں کو دونوں جانب سے چھید کر اس میں کوئی بدنما چیز ڈال دی جاتی تھی تاکہ یہ دیکھنے میں اچھی نہ لگیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ جب دشمن قبیلہ حملہ کرے تو ان لڑکیوں کو بدنما دیکھ کر اغواءکرنے کی بجائے وہیں چھوڑ جائے۔ آج کے دور میں قبائل کی یہ رسم ختم ہوچکی ہے لیکن چھدے ہوئے نتھنوں والی خواتین کی آخری نسل ضرور ابھی باقی ہے۔

لبنانی فوٹوگرافر عمر ریدہ نے شمال مشرقی بھارت کا سفر کرتے ہوئے یہ حیرت انگیز تصاویر بنائیں۔ عمرریدہ کا ان تصاویر کے بارے میں کہنا تھا ” جب میں شمال مشرقی بھارت کے اس قبیلے میں پہنچا توان خواتین کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میں نے دنیا بھر میں قدیم قبائل کے لوگوں کو دیکھا ہے لیکن مجھے ایسی رسم کہیں نظر نہیں آئی۔ جب مجھے اس کی تفصیلات کا علم ہوا تو یہ میرے لیے بہت ہی حیران کن تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ قدیم دور میں خوبرو لڑکیوں کے نتھنوں کو چھید دیا جاتا تھا اور وہ اپنے منہ پر بھی گہرے رنگ کے نقش و نگار بنا لیا کرتی تھیں تاکہ مخالف قبیلہ حملہ کرے تو انہیں اغواءنہ کیا جائے۔ بھارتی حکومت نے 1970ءمیں ایک قانون پاس کیا جس کے نتیجے میں اس رسم کا خاتمہ ہوگیا لیکن قبائل کی بوڑھی عورتیں اب بھی باقی ہیں جو اس قدیم رسم کی حیرت انگیز تصویر پیش کرتی ہیں۔“

واضح رہے کہ ریاست ارونا چل پردیش کی زائرو وادی کو اقوام متحدہ نے عالمی ورثے کی فہرست میں بھی شامل کر رکھا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ان قبائل کی جدید دنیا سے لاتعلقی اور ان کے ہاں سینکڑوں سال قدیم رسوم و رواج کی موجودگی ہے۔ اپنے قدیم رسوم و رواج کی وجہ سے یہ آج بھی صدیوں قدیم کے دور میں بستے نظر آتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی