اللہ: کون اور کیوں؟

اللہ: کون اور کیوں؟
 اللہ: کون اور کیوں؟

  


مَیں نہ تو دینی عالم ہوں ، نہ ہی کوئی سائنسدان اور نہ ہی کوئی دانشور ۔ ایک روز مَیںایڈیٹر ” قومی ڈائجسٹ“ سے کِسی اور موضوع پر گفتگو کر رہا تھا کہ اُنہوں نے میرے پراگندہ اور عام ڈگر سے جُدا خیالات سنے تو مشورہ دیا کہ مَیں اپنی سوچ کو ایک مضمون کی شکل میں لکھوں۔اس سے پہلے کہ مَیں اپنی اس تحریر کے موضوع پر بات کروں، آپ کو یہ بتادوں کہ مَیں الحمد للہ مسلمان ہوں، توحید ، ختم ِ نبوت ، اللہ کے نبیوں اور اُس کی بھیجی ہوئی کتابوں اور یومِ قیامت پر مکمل اعتماد رکھتا ہوں، یعنی روائتی حنفی مسلمان والدین کی اولاد ہوں۔ یہ لکھنا اس لئے ضروری ہے تاکہ میری سوچ کو کوئی اور رنگ نہ دے دیا جائے....ہم سب مسلمان یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ سبحان تعالیٰ حقیقت ہیں۔ ربِ کائنات ہیں۔لم یلدولم یو لدہیں۔ اُن کو نہ کوئی انسانی آنکھ دیکھ سکی ہے، نہ ہی اللہ کو دیکھا جا سکتا ہے، وہ پوری کائنات میں ہمہ وقت موجود ہیں۔

وہ اوّل ہیں اور وہی آخر بھی ہیں۔ یہ سب کچھ ایک عام مسلمان اور ایک دینی عالم بھی جانتا ہے، لیکن سیدنا محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ذریعے سے اور قرآنِ مجید کے حوالے سے جو اُن پر اُتارا گیا۔ دینی عالم ہمیں اللہ تعالیٰ کی پہچان اللہ کے صفاتی ناموں سے کرواتے ہیں، حالانکہ اِن صفاتی ناموں سے آپ اللہ تعالیٰ کی شان، جاہ و جلال اور اُس کی عنایات کا بتاتے ہیںنہ کہ اللہ تعالیٰ کی پہچان کرواتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ صرف مسلمانوں کے ہی معبود نہیں ہیں وہ تو پوری کائنات کے معبود ہیں۔ اُن کی پہچان کروانی ہے تو آپ محض قرآن یا رسول اللہ کا حوالہ دے کر ایک مشرک کو اللہ شناسی کی طرف مائل نہیں کر سکتے۔ اللہ کو جاننے کے لئے اُس کی صناعی اور حکمت کو سمجھنا ضروری ہے۔ سائنس کے تمام علوم ہمیں اللہ کے قریب لے جاتے ہیں۔ خواہ طبیعات ہو، کیمیاءہو، علمِ الابدان (Anatomy) ہو، نباتات، حیوانات، پہاڑوں کی معدنیات یا آج کی ٹیکنالوجی ہو،یہ سب ہمیں اللہ تعالیٰ کی ہستی جو ، تاابد ہے، اُس کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

چونکہ ہمیں قرآنی ہدایت ہے کہ اللہ کے کلام کو سمجھنے کے لیے ہم سوچ بچار اور غور و فکر کریں۔اللہ تعالیٰ کو جانناایک بات ہے اور اُس کا قُرب حاصل کرنا دوسری بات ہے۔ مَیں جب اللہ کو اپنی اَدنیٰ عقل سے جان جاﺅں گاتو پھر اُس کا قُرب حاصل کرنے کے لئے اُس کی ہدائت پر بھی عمل کروں گا جو مجھے ہمارے نبی کریم نے قرآن کے ذریعے ہمیں دی۔اللہ تعالیٰ کو جاننے کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر مَیں مسلمان ہو کر اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں تو پھر وہ عقیدے کی بنیاد پر ہوگا۔ ایک غیر مسلم کو آپ اللہ کی پہچان اپنے عقیدے کے زور پر نہیں کروا سکتے، کیونکہ غیر مسلم ہمارے عقیدے سے اتفاق ہی نہیں رکھتا اُسے اللہ کی پہچان کروانی ہے تو عقلی حوالے دینے پڑیں گے۔ہم مسلمانوں کے لئے ربِ کائنات کا جنرک نام اللہ ہے، جو ہندو کے لئے پرمیشور یا پرماتما ہے، عیسائیوں کے لئے Trinity (تثلیث) ہے اور یہودیوں کے لئے یہوا ہے۔

دراصل ہر مذہب نے (دین ِاسلام نہیں)رب کائنات کی وحدت کو مانتے ہوئے اُس کے ساتھ بہت سے شریک پیدا کر لئے ہیں جو ظاہر ہے ہم مسلمانوں کے لئے گناہِ عظیم ہے۔ مَیں اللہ تعالیٰ کو صرف عقیدے کی بنا پر رب العالمین نہیں مانتا، بلکہ مَیں سوچ اور فکر کرنے کے بعد اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے سائنسی علوم اور اُن علوم کے قواعد کو سمجھ کر نہ صرف اللہ کی پہچان رکھتا ہوں،بلکہ سچے دل سے اُس کی وحدت کومانتا بھی ہوں۔

ہر سوجھ بوجھ رکھنے والے انسان کے ذہن میں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ربِ کائنات جس کو ہم مسلمان، اللہ تعالیٰ کہتے ہیں، وہ کون ہے، اور کہاں ہوتا ہے۔ ایسے سوال کا ذہن میں پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے،خاص طور پر اگرانسان پڑھا لکھا ہو، لکیر کا فقیر بننا نہ چاہتا ہو، ڈھیروں مسلکوں، فرقوں ، تفصیروں اور تشریحوں کا مارا ہوا انسان اپنے رب کو کیسے جانے گا اور اُس کو کیسے مانے گا۔اللہ تعالیٰ جب فرماتا ہے کہ اللہ نوراسمّوات و الارض ہے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی پہچان کا ادر اک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ سائنس کی زبان میں توانائی، یعنی Energy کی تعریف (Defination) اگر ہم پڑھیں تو وہ ہمیں ربّ العالمین کی ہستی سے متعارف کرواتی ہے۔

توانائی ازل سے ابد تک رہنے والی، ہر جگہ موجود، ہر شکل میں موجود، دُنیاکی ہر مادی چیز میں موجود، نہ کوئی رنگ نہ کوئی روپ، اس کائنات کی پیدائش سے پہلے توانائی موجود تھی اور جب توانائی نے چاہا تو ساری مخلوق جس میں زمین، آسمان، ستارے، سیارے، کہکشائیں، سمندر، نباتات، حیوانات اور یہاں تک کہ انسان کو بھی ابتدائی شکل میں صفحہ¿ ہستی پر ظاہر کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے اُس مظاہر کا نام سائنس دانوں نے Big Bang Theory رکھ دیا۔ انرجی indestructible (لازوال) ہے، انرجی کو ہم دیکھ نہیں سکتے، لیکن اُس کے مظاہر کو دیکھ سکتے ہیں، جس نور کا اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ذکر کرتے ہیں وہ انرجی نہیں تواور کیا ہے۔ سورہ اخلاص کا ترجمہ پڑھ لیجئے اور النور(The energy ) کے خواص دیکھ لیجئے ، آپ رب العالمین، یعنی اللہ کو جان جائیں گے۔ اللہ کو جب ہم جان جائیں گے تو ہمیں اللہ کی کتب مع قرآنِ مجید ، اللہ کے رسول اور نبی کریم اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات پر بھی یقین ِ کامل ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ کی ہدایات اُس کے آخری کلام، یعنی قرآن میں اپنی فائنل شکل میں موجود ہیں،جو ان ہدایات پر عمل کرتا ہے وہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے، اللہ کا قرب حاصل کرنے کے عملی طریقوں کی وضاحت ہمیں سیدنا محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلّم سے مل جاتی ہے۔ اتنا کچھ جان جانے کے بعد بھی، اتنی عبادات کرنے کے باوجود، پاکستان اور دنیا کے دوسرے مسلمان ممالک میں Per-capita مساجد کی کثیر تعداد کے باوجود، عمرے ، حج اور روزے داری کے باوجو د، میلاد اور ختم القرآن کی مجالس کے باوجود، اہل بیت کی شہادت کو ہر سال زندہ رکھنے کے باوجود، ہم مسلمان کیوںذلیل و خوار ہیں،جہالت اور کم علمی کے اندھیروں میں غرق ہیں، کچھ وجہ تو ہے کہ ہم اللہ کی رضا اور اُس کی حمایت سے محروم ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو قرآن حفظ کروانے کے بہت شوقین ہیں، لیکن قرآن کی اصل غائت اور رُوح کو سمجھانے کی کوشش نہیں کرتے، ہمارا تمام زورعبادات کے ظواہر پر ہے، لیکن جو توقع ایک صحیح مسلمان سے کی جاتی ہے اُس میں ہم بطور مسلمان جماعت قطعاً ناکام ہیں۔

اُمہّ کا لفظ مَیں دانستہ استعمال نہیں کر رہا، کیونکہ اس لفظ پر مولویوں کی اجارہ داری ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟کیوں ہم اللہ تعالیٰ کی حمایت سے محروم ہیں۔ دراصل ہم نے اللہ تعالیٰ کی ہستی کو صرف مسلمانوں کی ملکیت سمجھ لیا ہے، حالانکہ اللہ تمام زمینوں اور آسمانوں کا نور ہے۔ ربِ کریم ہے، خالق ہے، رازق ہے، رافع ،نافع اور واسع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہ صفا تی نام مَیں خاص طور سے بیان کر رہا ہوں، کیونکہ ایک غیر مسلم کو کاروبار میں نفع اور وسعت چاہئے، اُسے رزق اور پالنے والا خدا چاہیے۔ وہ اللہ کو صرف مادی حوالوں سے جانتا ہے۔ اللہ کی یہ صفات مسلمانوں کے لئے بھی اہم ہیں، لیکن کیا ہم واقعی اللہ تعالیٰ کو اپنے کاروبار میں نفع اور وسعت دینے والا مانتے ہیں۔

اگر میں غریبی کی زندگی سے نکل کر خوشحال اور متمول ہو جاتا ہوں تو اُسے صرف زبانی کلامی اللہ کے فضل سے منسوب کروں گا، حالانکہ میری خوشحالی میں کسی نہ کسی شکل میں بے ایمانی اور اللہ کی ہدایت سے رُو گردانی کا عنصر ضرور ہوا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایات جو 80 فیصد معاشرت، سماج اور انسانی روّیوں سے متعلق ہیں، اُن پر ہم عمل نہ کرنے کے مجرم ہیںاور اسی لئے راندہِ درگاہِ ربِ عظیم ہیں۔

جب قرآنِ مجید نازل ہوا تو اُس وقت کے عرب معاشرے میں روزگار کمانے کے دو ہی ذریعے تھے۔ تجارت یا زراعت، سپاہ گری پارٹ ٹائم روزگار تھا، جس میں اُجرت مالِ غنیمت کی شکل میں دی جاتی تھی۔ تجارت ہمارے رسول کا بھی ذریعہ روزگار تھا۔ تجا رت جس قدر دیانتداری ، سچ اور درستگیِ معاملات کی متقاضی ہے کیا ہم تمام دنیا کے مسلمان اُس پر پورا اُترتے ہیں بالکل نہیں۔ ذخیرہ اندوزی، بہت زیادہ منافع، غلط مال ِ تجارت کو درجہ اوّل مال بناکر فروخت کرنا، سمگلنگ اور حکومتی ٹیکسوں کی چوری کا مذہبی جواز ڈھونڈنا، کیا یہ سب اسلام کے مطابق ہے۔

ایک طرف ہم رب العظیم کو اپنی شہ رگ کے قریب مانتے ہیںاور دوسری طرف ریاکاری، بہتان تراشی ، غیبت ، حسد اور منافقت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ دراصل ہم اللہ کو نہ جانتے ہیں اور نہ ہی دِل سے مانتے ہیں ہم صرف اپنے گناہ گار ضمیر کو خاموش کرنے کے لئے مذہبی فریضے اور نوافل ادا کرتے ہیں۔ نذر نیازیں دیتے ہیں خیر خیرات بھی بھونڈے اور غیر پیداواری ذریعے سے کرتے ہیں۔ہم خیرات دینے والے اوّلین ملکوں میں ضرور شمار ہوتے ہیں۔ لیکن ہماری خیرات بھی غیر منظم ہوتی ہے۔ ہماری خیرات سے قوم کے غریبوں کے لئے اجتماعی فلاح و بہبود کا کام بہت کم ہوتا ہے۔ حکومت بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور زکوة کی اِنفرادی تقسیم سے افراطِ زر بڑ ھاتی ہے۔دراصل ہمیں اللہ کی زیادہ ضرورت ہے۔ اللہ کو ہماری کیا کسی بھی نسل یا مخلوق کی ضرورت نہیں ہے۔

”اللہ کیوں“کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ہمیں شیطان کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہو گا۔ شیطان بھی اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے جو آگ سے تخلیق کی گئی ہے۔ آگ بھی توانائی کی ایک طاقتور قسِم ہے۔اسی لئے شیطان کی توانائی جو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہے، انسان کے خلاف پر سرِ پیکار ہے۔ شیطان کی اہمیت جو انسان کو مشکلات ، فساد ، فسق، ظلم، بددیانتی، قتل و غارت پر اُکساتی ہے، وہ چھ خصلتوں پر مبنی ہے یعنی ریا کاری، ہوس ، غیبت، حسد، انتقام اور بداعتمادی معاشرے میں ہر قسم کی ناانصافی، رشوت خوری، جھوٹ ، فریب، ضمیر فروشی، جسم فروشی،عالمی جنگیں، معاشی استحصال، غریب ماری، دھوکا دہی اور حق تلفی، یہ تمام گناہ اور نااِنصافیاں وغیرہ شیطان کی چھ مخصوص خصلتوں کے ذیلی نتائج ہیں۔ اس دنیا میں تمام رنگینی، ڈرامہ اور ایکشن شیطان کی اِن اہم خصلتوں کا شاخسانہ ہے۔علامہ اقبال حضرت جبرائیل کے ذریعے ابلیس (شیطان )سے جب سوال کرتے ہیں۔

ہمدم دیرینہ کیسا ہے تیرا جہانِ رنگ و بو

پھر جب ابلیس اپنا پیغام اللہ تعالیٰ کو حضرت جبرائیل کے ذریعے دیتا ہے۔

قصہِ آدم کو رنگین کر گیا کس کا لہو؟

توہماری آنکھوں کے سامنے روشنیوں اور خوشبوﺅں میں لدے ہوئے شہر گھوم جاتے ہیں۔ ہوس یا لالچ انسان کو مزید سے مزید تر حاصل کرنے پر اُکساتا ہے۔یہ لالچ اگر متوازن ہو اور اِنسان کے نیکی کے جذبے پر غالب نہ ہو تو پھر لالچ / ہوس کا عنصر دنیاوی ترقی اور معاشی بہتری کی طرف لے جاتا ہے۔اندھالالچ ہمیں رشوت خوری ، منافع خوری، سُود خوری ،حق تلفی اور بددیانتی کی طرف لے جاتا ہے۔

لالچ،ریاکاری، غیبت ، حسد، انتقام اور بداعتمادی ایسے خبیث معاشرتی روّیے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے ہم اِنسانوں کو نیکی اور بدی کی کشمکش میں ڈالنے کے لئے دیئے ہیں۔ اِنسان کے قلب میں جہاں اللہ تعالیٰ رہتا ہے وہیں کہیں ابلیس نے بھی اپنی جگہ بنائی ہوئی ہے۔ نیکی اور بدی کی جنگ میں مبتلا کمزور انسان آج کے دور میں اِبلیس کی توانائی سے مغلوب ہو گیا ہے۔ہم لوگ اللہ تعالیٰ سے توانائی حاصل کرنے کے لئے عمرے کرتے ہیں، حج کرتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور توانائی حاصل کرنے کے لئے ہمیں شیطان سے لڑائی کرنا ہو گی،ہمارا درجہ شیطان سے بڑا ہے، ہم اشرف المخلوقات ہیں۔

ہمیں اپنے روّیوں سے اللہ تعالیٰ کا قرب ملے گا،جو ہمارے دِلوں میں رہتا ہے۔ مولوی نے اپنی اہمیت کو بڑھانے کے لئے عبادات پر تمام زور ڈال دیا ہے۔ملاّ جب یہ کہتا ہے کہ شیطان کو ماہِ صیام میں قید کر دیا جاتا ہے تو وہ ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہمیں معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کیا پیغام تھا۔ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ تمام مسلمان ملکوں میں ماہِ صیام میں شیطانی روّیے خوب کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ ماہِ صیام کوبہانہ بنا کر لالچی تاجر مہنگائی کے کوڑوں سے عوام کا بُھرکس نکال دیتے ہیں۔ شیطان تو کھلا پھرتا ہے۔

دراصل مَیں نے قرآن اور حدیث کی فہم تفسیروں، ترجموں اور تشریحوں سے حاصل نہیں کی ہے۔ مَیں تو صرف اِتنا جانتا ہوں کہ رَب العالمین نے ہمیں اچھے کام کرنے کی ترغیب دی ہے اور بُرے کاموں سے روکا ہے۔اچھے اور بُرے کام کی Defination جہاں قرآن مجید میں ہے وہاں Universal Morality میں بھی ہے۔ یونیورسل اخلاقیات تمام مذاہب اور معاشروں میں ایک ہی ہے۔ ہم مسلمان اگر دوسرے مذاہب اور دھرموں سے الگ ہیں تو وہ ہم اپنے عقیدے کے پانچ ارکان کی وجہ سے ہیں، یعنی توحید، ملائکہ،اللہ کے پیغمبروں، اُس کی کتابوں اور روزِ قیامت پر ایمان۔ ہم بدنصیب ہیں کہ مسلمانوں نے دین ِ اسلام کو خون ،خرابے ، نفرتوں، مسلکوں اور فرقوں کا ملغوبہ بنا دیا ہے۔

مزید : رائے /کالم