چین اور روس کے روابط اور نئی دنیا

چین اور روس کے روابط اور نئی دنیا
چین اور روس کے روابط اور نئی دنیا

  


جون2019میں چین کے صدر ژی چن پنگ نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملنے کے لیے سینٹ پیٹرز برگ،روس کا دورہ کیا۔سینٹ پیٹرز برگ کے قریب دریائے نیوا کی سیر کے دوران دونوں سربراہانِ مملکت نے اس ملاقات کو ایک انتہائی خوشگوار ذاتی رنگ دے دیا۔ دونوں رہنماچینی صدر ژی پنگ کی سالگرہ مناتے ہوئے بھی دکھائی دئیے، جسے عام طور پر خفیہ رکھا جاتا ہے۔ تحفے کے طور پر روسی صدر نے چینی صدر کو آئس کریم پیش کی جبکہ اس کے جواب میں چینی صدر نے چینی چائے سے تواضع کی۔ دونوں نے کچھ وقت دریائے نیوا کے قریب اکٹھے گزارا جو روسی صدر پیوٹن کی جنم بھومی بھی ہے۔

یونیورسٹی آف سینٹ پیٹرز برگ نے صدر ژی پنگ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا۔ تعلقات میں یہ گرم جوشی ایک نئے عہد کا پیش خیمہ ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں محض اتفاقات نہیں ہواکرتے۔یورپ اس وقت اقتصادی اعتبار سے نازک دور سے گزر رہا ہے، انگلستان یورو زون سے نکلنا چاہتا ہے۔ اپنے اقتصادی مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے امریکہ نے یکطرفہ اقتصادی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس افراتفری میں نئے اتحاد نئی دنیا کی منظر کشی کر رہے ہیں۔

چین اور روس کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے خوشگوار نہیں تھے۔ سوویت یونین چین کا ایک قد آور مدِ مقابل رہا ہے۔ 60کی دہائی میں دونوں ملکوں کے مابین ایک جنگ بھی ہو چکی ہے جس کے باعث دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان باہمی تعلقات تعطل کا شکار بھی رہ چکے ہیں۔ ماؤزے تنگ ہمیشہ سوویت یونین کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھتا رہا ہے۔

حیران کن طور پر اب حالات قطعی طور پر بدل گئے ہیں۔ 1991میں سوویت یونین کے بکھرنے پر روس نے چین کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی جہت اپنائی۔ اگلے دس سالوں میں چین اور روس نے بہت سے معاہدوں پر دستخط کیے اور اپنے مابین سرحدی تنازعے بغیر کسی جارحیت کے حل کر لیے۔ اس دنیا میں جہاں اقوامِ متحدہ تنازعات کے حل میں بری طرح ناکام رہی ہے، وہاں دونوں ممالک کا تنازعات کو باہمی طور پر حل کر لینا ایک اعلیٰ مثال ہے۔

پھر یوں ہوا کہ امریکہ نے تجارت میں نہایت جارحانہ پالیسی اپنا لی جس نے ایشیا ء کی ان دو بڑی طاقتوں کو اور قریب کر دیا اور اس قابل بنا دیا کہ وہ مغربی دباؤ برداشت کرسکیں۔

مشکل ہمیشہ جزئیات میں جانے پر پیش آتی ہے۔ روسی اور چینی صدر 2013سے اب تک 30بار مل چکے ہیں فقط یہ بات بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ 2018-2019میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت 24فیصد بڑھی جو کہ 108ارب ڈالرز کے مساوی ہے۔ سینٹ پیٹرز برگ اکنامک فورم میں دونوں رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ اگلے سال باہمی تجارت کا حجم 200ارب ڈالرز تک بڑھا دیں گے۔

اس طرح روس چین کا سب سے قریبی تجارتی ساتھی بن جائے گا۔ بہت پرانی مثال”دشمن کا دشمن دوست“ یہاں پرصحیح طرح صادق آتی ہے۔ امریکہ اور یورپی طاقتوں نے کریمیا کے مسئلے پر روس پر پابندیاں عاید کی ہوئی ہیں جبکہ ساؤتھ چائنہ سمندری تنازعہ کے باعث چین بھی ایسی ہی پابندیوں کا شکار ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی درآمدات پر شرحِ محصول بڑھا دی ہے جس سے چینی منافع جات پر کاری ضرب پڑی ہے۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے چین اور روس نے اب نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے جو بڑی حد تک قابلِ عمل بھی ہے۔

چین نے اپنی اقتصادیا ت کو وسعت دینا ہے،جس کے لیے اسے تیل اور گیس کی بہت زیادہ ضرورت ہو گی۔ روس پائپ لائن کے ذریعے چین کو مائع گیس اور تیل دینے پر رضامند ہے۔روس اس وقت چین کو تیل دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس وقت چین کو روس کی اشد ضرورت ہے۔ مغربی اقتصادی پابندیوں کے پس منظر میں روس چین سے معاوضہ جات حاصل کر سکتا ہے۔

روس اور چین نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بذریعہ ڈالر تجارت سے چھٹکارا پا لیں گے اور ان کی تجارت بالواسطہ روبل اور یوآن میں ہوا کریگی۔ دونوں ممالک نے روبل یو آن تجارتی نظام کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لیں ہیں۔ مستقبل قریب میں انہیں امریکی ڈالر کی محتاجی نہیں رہے گی۔

ایک اور شعبہ چین کی بڑھتی خوراک کی ضروریات کا ہے۔ چین امریکہ سے ہر سال 60ارب ڈالر کی پولٹری مصنوعات خریدتا تھا۔ اب چین نے یہ مصنوعات روس سے لینا شروع کر دیں ہیں۔ صدر پیوٹن کی زبان میں ”ہم نے چین کے ساتھ ناقابلِ یقین حد تک امدادِ باہمی کے تقاضے پورے کر لیے ہیں“۔

اقتصادی اور تجارتی بندھنوں کے علاوہ سیاسی میدان میں دونوں ملکوں نے ایران کے خلاف امریکی جارحانہ پالیسی کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ایران اور وینز ویلا کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف امریکہ کو خوبصورت سفارتی زبان میں تنبیہ کی ہے۔ ژی پنگ نے روس اور چین کے مابین ایک ایسی شاہراہ بنانے کا بھی عندیہ دیا ہے جس کی تعمیر پر 2.5بلین یو آن خرچ آئیں گے۔

جس کی بدولت دونوں ممالک کے مابین ایک زمینی پل قائم ہو جائیگا جو اقتصادی روابط کو مزید پختہ کرے گا۔

یہ غیر معمولی واقعات ہیں،طاقت کا توازن امریکہ سے کسی اور جانب ڈھلک رہا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کا اثر کم ہو رہا ہے اور چین پورے کرہءِ ارض پر امریکہ کی سیاسی غلطیوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ”ون بیلٹ ون روڈ“ کے سنہری موقع سے چین کو اپنی تجارت بڑھانے کا موقع مل رہا ہے۔ ولادی میر پیوٹن کی قیادت میں روس نے چین کی طرف دوستانہ قدم بڑھائے ہیں جو دونوں ممالک کے لیے تجارت اور منافع کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنیں گے اور یورپی یونین کا اثر کم سے کم ہوتا چلا جائیگا۔اپنی کوتاہ اندیشیوں اور بین الاقوامی سوچ کی بجائے قومی سوچ رکھنے والا امریکہ تفریطِ زر کا شکار ہو جائے گا۔

دوسری جانب ولادی میر پیوٹن اور ژی پنگ مشترکہ روابط کی ایک نئی دنیا کا آغاز کر رہے ہیں۔یہ منظر بڑا دلکش اور معنی خیز ہے، ایک رہنما کے ہاتھ میں روسی آئس کریم اور دوسرے کے ہاتھ میں خوشبو دار چینی چائے ہے

۔

مزید : رائے /کالم