پاکستان کیخلاف سی آئی اے،را اور موساد کاگٹھ جو

پاکستان کیخلاف سی آئی اے،را اور موساد کاگٹھ جو

امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کی وجہ پاکستان کو سمجھتا ہے اور بدلہ لینے کیلے را اور موساد کی مدد سے پشتونوں کے ساتھ دوستی اور انکے تحفظ کے نام پر پاکستان کو توڑ کر خانہ جنگی کا منصوبہ بنا چکا ہے،پلان ویسا ہی ہے جیسا عراق،شام اور لبیا میں کیا گیا تھا،دشمن قوتوں کا پاکستان میں اصل ٹارگٹ "ایٹم بم" ہے،وہ ایٹمی میزائلز جو بھارت،اسرائیل اور امریکہ کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،منصوبے پر عمل درآمد کیلے سی آئی اے،را اورموسادآج کل ہمارے معاشرے کی کمزوریوں کو ہوا دے ر ہے ہیں۔خیرپختونخوا میں پشتونوں، بلوچستان میں ناراض بلوچوں اور سندھ میں قوم پرستوں کا دوست بن کر انہیں محرومیوں کے نام پر ریاست اور فوج کے خلاف اکساکر ملک کی ہر گلی ہر سڑک پر خانہ جنگی کیلے کوشاں ہیں تاکہ نہ صرف پاکستان کو توڑا جاسکے بلکہ حالات خراب ہوتے ہی عالمی صیہونی حکومت "اقوام متحدہ" کے ذریعے قرارداد پاس کراکے اسلام کا واحد ایٹم بھی بھی اپنے قبضے میں لے سکے۔

ہمارے بھولے بھالے پشتون بہن بھائی تواستعمال ہو ہی رہیہیں لیکن اصل کردار تو انہیں استعمال کرنے والوں کا ہے جن کے خلاف ہمارے سطحی سوچ کے حامل لکھاری کبھی لکھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔پشتون غیرت کا دوسرا نام ہے جن کی وطن سے محبت کسی سیپوشیدہ نہیں، صرف چند شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد اور بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر انہیں ریاست پاکستان اور پاک فوج کے خلاف اکساتے ہیں،ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا،پی ٹی ایم کے قیام کی پیش گوئی ویبسٹر تھارپلے، میجر گورو آریا اور احسان اللہ احسان نے کر دی تھی،مشہور امریکی صحافی اور دانشور وبسٹر تھارپلے نے پی ٹی ایم کے قیام سے تین سال قبل انکشاف کیا تھا کہ امریکہ کا منصوبہ ہے کہ پاکستان کو چین اور مڈل ایسٹ کے درمیان ایک انرجی کوریڈور بننے سے پہلے تباہ کر دیا جائے۔

اس کے لیے پاکستان میں خانہ جنگی کرائی جائے گی۔افغانستان اور پاکستان میں موجود پشتونوں کو اکھٹا کر کے پاکستان سے ان کو ٹکرایا جائے گا۔پشتون،پنجابی اختلافات کو ہوا دی جائے گی اور ان کو افواج پاکستان کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا جائے گا اور آخر میں ان کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔احسان اللہ احسان کو پی ٹی ایم کے قیام سے ایک سال قبل گرفتار کیا گیا تھا جس نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کی شکست کے بعد اب را اورافغان خفیہ ایجنسی نے پاکستان میں لسانی بنیادوں پر نئی جنگ شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس جنگ کے لیے وہ پشتونوں کو استعمال کرینگے جبکہ ٹی ٹی پی کے کمانڈرز کی جانب سے قوم پرستی پر مبنی بیانات بھی جار ی ہوں گے۔مشہور انڈین اینٹلی جنس آفیسر میجر گورو آریا نے بھی پی ٹی ایم کے قیام سے قبل اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے ہمیں اس سے جنگ کرنے کی ضرورت نہیں اس مقصد کے لیے ہم پشتونوں کو استعمال کرسکتے ہیں اور یہ کام نسبتاً کم خرچے میں ہوجائے گا۔اب یہ تینوں اللہ کے ولی تو ہو نہیں ہوسکتے،انہیں علم تھا کہ امریکہ کا پلان بی کیا ہے اور بلکل وہی ہوا جس کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ بلکل اسی طرح کی پیش گوئیاں ہیں جیسے منظور پشتین کرتا ہے کہ اب فاٹا میں دہشت گردی ہوگی اور فوجیوں کو مارا جائے گا تو اس کے کچھ دن بعد ٹی ٹی پی منظور پشتین کی پیش گوئی پوری کر دیتی ہے۔پی ٹی ایم بلکل وہی کررہی ہے جو ٹی ٹی پی کے ذریعے کیا جاتا تھالیکن چونکہ اس کو لبرل ازم کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے اس لیے اب یہ جو بھی کرے سب جائز ہے،کھلی چھٹی دینا کسی بھی صورت ملک وقوم کے مفاد میں نہیں۔

امریکہ پاکستان کیخلاف ایسا پہلی بار نہیں کر رہا بلکہ اس قبل سی آئی اے سیکرٹ ڈاکومینٹ میں اعتراف کرچکی ہے کہ پاکستان میں 2009 ء میں شروع ہونے والی سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی "وکلاء تحریک" کو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلانا دراصل اسی کاایجنڈا تھاجس کا مقصد پاکستان میں "سوشل ایکٹوزم" کو تیز کرکے اسکے اثرات کا جائزہ لینا تھا تاکہ آنے والے وقت میں "عرب سپرنگ" کی طرح پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کے ذریعے تیز ترین آگ لگائی جاسکے۔سی آئی اے پلان کے تحت ہی "پشتون تحفظ موومنٹ" کو سوشل میڈیا پر تیز رفتاری سے پروموٹ کیا گیا۔ بی بی سی، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی، یہ سب سی آئی اے کے ہی ٹولز ہیں جن کیذریعے پی ٹی ایم کو تیزی سے پروموٹ کرکے منظور پشتین کو ہیرو بناکر اسکے انٹرویوز پوری دنیا میں پھیلائے گئے۔

پاکستان میں خصوصی طور پر پشتو میں تحاریر لکھی گئیں، بی بی سی سے لیکر وائس آف امریکہ تک سب نے اپنی ویب سائٹ کا پشتو ورڑن شروع کردیا تاکہ پاکستان کے عام پشتونوں تک پروپیگنڈا تیزی سے پہنچاکر خانہ جنگی کو تیز کیا جاسکے۔بی بی سی کی جانب سے قبائلی علاقوں سے متعلق حالیہ بے بنیاد خبر بھی اسی پلان کا حصہ ہے جس کا پاکستان کی جانب سے برطانوی حکومت سے باقاعدہ احتجاج بھی کیا گیا ہے۔چند ٹکوں کیلے دھرتی ماں سے غداری کر نے والوں کیخلاف اب پشتوں عملی طور پر میدان میں آچکے ہیں اور ان میں ایک توانا آواز نذیر خان جیسے محب وطن کی ہے جو اس نام نہاد گروہ کیخلاف ہر سطح پر آواز بلندکرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گرد دوبارہ فعال ہوگئے ہیں اور اگر آپریشن نہ کیا گیا تو دہشتگردی میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔پی ٹی ایم کی قیادت کے تعاون سے خطے میں داعش اور ٹی ٹی پی زور پکڑ رہی ہے،امریکہ،اسرائیل اور انڈیا سرتوڑ کوشش میں ہیں کہ اندرونی طور پر دوبارہ پاکستان کو بری طرح الجھا دیا جائے اور اسی کے لیے پی ٹی ایم کی صورت میں آپریشن کی راہ میں ایک مضبوط رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے جس کو اب چندنام نہاد جمہوریت پسندوں کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔

حالات خراب کرنے کیلے پی ٹی ایم کو ڈالروں کیساتھ جدید اسلحہ بھی فراہم کیا جارہا ہے۔حالیہ واقعات میں ڈیڑھ ماہ کے دوران تیس کے لگ بھگ شہادتیں ہوچکی ہیں اور یہ تمام کارروائیاں بہت منظم انداز میں کی گئیں جس سے ظاہر ہے کہ ان سانپوں نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے جنہیں وقت پر کچلا نہ گیا تو شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔

دہشتگردی کی یہ لہر ابھی مزید بڑھے گی اور اس کا دائرہ قبائلی علاقاجات سے نکل کر شہری آبادی تک پھیل جانیکا بھی اندیشہ ہے،قبل ازوقت اقدامات کیلے تمام سٹیک ہولڈرز کو دوبارہ سر جوڈ کر بیٹھنا ہوگا،یہ نہ ہو کہیں پھر دیر ہو جا?۔ٹیپو سلطان کو جس نے دھوکا دیا تھا وہ میر صادق تھا اس نے سلطان سے دغا کیا اور انگریز سے وفا کی تھی،انگریز نے انعام کے طور پر اسکی کئی پشتوں کو نوازا اور انہیں وظیفہ ملا کرتا تھا، مگر پتا ہے جب میر صادق کی اگلی نسلوں میں سے کوئی نا کوئی ماہانہ وظیفہ وصول کرنے عدالت آتا تو چپڑاسی صدا لگایا کرتا،“میر صادق غدار کے ورثا حاضر ہوں "

ایک آنسو انکی آنکھ سے نکلا اور تکیے میں جذب ہوجاتا

لہذا غداروں کو یہ بات رکھنی چاہیے جیسے شہید قبر میں جا کر بھی سینکڑوں سال زندہ رہتا ایسے ہی غدار کی غداری بھی صدیوں یاد رکھی جاتی ہے۔

مزید : رائے /کالم