مقدس جانور ”ٹوٹم“کس طرح انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں پر حاوی رہاہے ؟

مقدس جانور ”ٹوٹم“کس طرح انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں پر حاوی رہاہے ؟
 مقدس جانور ”ٹوٹم“کس طرح انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں پر حاوی رہاہے ؟

  


لاہور (خرم رفیق سے) قدیم تہذیبوں سے لیکر دور جدید تک ”ٹوٹم “کا کر دار مختلف اقوام اورمذاہب میں نہایت اہمیت کا حامل رہاہے ، ”ٹوٹم“ کو مقدس ماننے کا عقیدہ زمانہ قدیم کے قبائل سے لیکر اب تک کسی نہ کسی صورت جاری وساری ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اردو ادب کے نامور نقاد ڈاکٹر انور سدید اپنی تصنیف ”اردو ادب کی تحریکیں“میں لکھتے ہیں کہ ”ٹوٹم“ وہ جانور یادرخت ہوتا تھا جس کو کسی قبیلے کاسردار مقدس تسلیم کرتے ہوئے اپنے قبیلے کا ”ٹوٹم“قراردے دیتا تھا ، یہ کام قبائلی سردار اپنے قبیلے کو دشمنوں کیخلاف متحدرکھنے کیلئے کیا کرتے تھے ، کوئی بھی قبیلہ اپنا ”ٹوٹم“مقرر ہوجانے کے بعد اس جانور کا گوشت نہیں کھا تا تھا اور اس کی حفاظت اپنی جان ومال سے بڑھ کر کرتا تھا، جب دشمن کی طرف سے کوئی یلغار کی جاتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ دشمن ان کے ”ٹوٹم“کی عزت و حرمت پر حملہ کرنے کیلئے آرہاہے جس کے لئے قبیلہ دشمن کیخلاف اپنی جان لڑا دیتا تھا ۔

یوں ”ٹوٹم“ کا کردار قوموں اور قبیلوں کی زندگی میں بنیادی اہمیت کا حامل رہاہے اورآ ج بھی مختلف ممالک میں جانوروں اور درختوں کومقدس مان کا ان کی پوجا کی جاتی ہے جیسے بھارت میں ہاتھی کو گنیش دیوتا ، بندر کو ہنومان اور اس طرح سری لنکا ، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں بھی مختلف جانوروں اور درختوں کومقدس مانا جاتاہے ، اس کے پیچھے وہی ”ٹوٹم“ کا بنیادی تصور ہے جس نے صدیوں انسانی اذہا ن وشعور پر قبضہ جمائے رکھا ہے ۔

مزید : ادب وثقافت