اسحاق ڈار نے 10سالوں میں لیے جانے والے غیر ملکی قرضوں سے متعلق بنائے گئے کمیشن کے قیام کو چیلنج کردیا

اسحاق ڈار نے 10سالوں میں لیے جانے والے غیر ملکی قرضوں سے متعلق بنائے گئے کمیشن ...
اسحاق ڈار نے 10سالوں میں لیے جانے والے غیر ملکی قرضوں سے متعلق بنائے گئے کمیشن کے قیام کو چیلنج کردیا

  


لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 10سالوں میں لیے جانے والے غیر ملکی قرضوں سے متعلق بنائے گئے کمیشن کے قیام کو چیلنج کردیا۔

لندن سے جاری ایک بیان میں اسحاق ڈار نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دس سالہ غیر ملکی قرضوں سے متعلق بنائے گئے کمیشن کے قیام کی حداور شرائط وضوابط کو چیلنج کردیا۔انکا کہنا ہے کہ کمیشن مایوسی کی صورتحال میں بنایا گیا ہے جو پی ٹی آئی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔انھوں نے کہاکہ کمیشن کی تشکیل ناقابل قبول ہے کیونکہ اس میں غیر پیشہ ورانہ افراد نہیں ہوتے ہیں۔یہ وزیرعظم کی جانب سے نیب کو ہائی جیک کرنے کی کوشش ہے جو کہ ایک خود مختار ادارہ ہے جیسا کہ کمیشن ا پنے نائب سربراہ کی سربرائی کرے گا۔انھوں نے کہاکہ قرضوں کی تحقیقات 1999سے شروع کی جانی چاہیے جب جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے مسلم لیگ(ن)کی حکومت کے خلاف فوج لگائی گئی۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سے حاصل کردہ قرضوں کی توثیق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان قرضوں کو پارلیمان کی حمایت حاصل تھی اور یہ مکمل طور پر دستاویزی صورت میں ہیں۔انکا کہنا تھاکہ اسطرح کا کمیشن پرویز مشرف کی طرف سے بھی بنایا گیاتھا اور اس میں پتہ چلا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایک پائی بھی غلط طور پر حاصل نہیں کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ آپ نے 35 پنکچر پر اپوزیشن گزاری اور جسٹس ناصر الملک کی رپورٹ آنے پر آپ کو منہ کی کھانی پڑی،ویسے اب آپ قرضوں کا راگ الاپ رہے ہیں،آپ کی کوشش ہےکہ اپوزیشن کو اتنا دیوار سے لگائیں کہ وہ آپ کی نااہلی کی نشاندہی نہ کرسکیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آپ کو کیا خاص پیار ہے جنرل مشرف کے ساتھ کہ انکوائری میں 1999 کے بعد سیدھا 2008 پر چھلانگ لگا رہے ہیں؟یہ پیریڈ بہت اہم ہے، اس میں بے پناہ گرانٹ اور کولیشن سپورٹ فنڈ پاکستان آیا،کیا ایسا تو نہیں کہ مشرف کو کوئی بادشاہ سینکڑوں ملین ڈالرز  نہیں دے کر گیا بلکہ اسی فنڈ میں خورد برد کی گئی؟۔

مزید : قومی