”دورہ انگلینڈ پاکستان ٹیم کا مشکل امتحان ہے کیونکہ۔۔۔“ راشد لطیف نے خبردار کر دیا

”دورہ انگلینڈ پاکستان ٹیم کا مشکل امتحان ہے کیونکہ۔۔۔“ راشد لطیف نے خبردار ...
”دورہ انگلینڈ پاکستان ٹیم کا مشکل امتحان ہے کیونکہ۔۔۔“ راشد لطیف نے خبردار کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز راشد لطیف نے دورہ انگلینڈ کو پاکستان ٹیم کا مشکل امتحان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی کارکردگی کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس بار لندن کے لارڈز اور اوول گراﺅنڈز میں کوئی میچ شیڈول نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق راشد لطیف نے کہا کہ دورہ انگلینڈ ایک مشکل امتحان ہو گا اور پاکستان ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس بار لندن کے لارڈز اور اوول گراﺅنڈ میں کوئی میچ شیڈول نہیں ہے، ماضی میں وہاں کی کنڈیشنز پاکستان کیلئے سازگار رہی ہیں مگر اس بار مصباح الحق اور یونس خان جیسے تجربہ کار بیٹسمینوں کی خدمات بھی میسر نہیں ہوں گی البتہ یونس خان کا بطور بیٹنگ کوچ تقرر ایک اچھا فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونس خان میدان میں کام کرنے والے انسان اور بہت محنتی ہیں اور جونیئر کوچ کے طور پر ان کی خدمات حاصل نہ کرنا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی غلطی تھی، میرے خیال میں ان کا طویل مدت کیلئے تقرر کیا جانا چاہیے، وہ لمبی ریس کے گھوڑے ہیں، جونیئر سے لے کر قومی ٹیم تک پاکستانی کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

سابق سٹارز پرمشتمل بھاری بھر کم مینجمنٹ کے باہمی اختلافات کا خطرہ ہونے کے سوال پر راشد لطیف نے کہا کہ بڑی مشکل سے کوئی ٹور آ رہا ہے، یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ کھیلے ہوئے یا کام کر چکے ہیں، نوکری تو کرنا پڑتی ہے، امید ہے کہ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، مصباح الحق اور یونس خان کی جوڑی بیٹنگ میں قومی ٹیم کیلئے پرفارم کرتی رہی ہے، ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر کے روئیے میں بھی لچک ہے،وہ دروازے بند نہیں کرتے، دونوں کی بیٹنگ کی طرح کوچنگ میں بھی اچھی شراکت پاکستان کرکٹ کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد میرے خیال میں ٹی 20 میچز کیلئے پہلا جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں محمد رضوان کے بعد دوسرا انتخاب ہوں گے، مشکل صورتحال ہے کہ پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے اور چیمپئنز ٹرافی جیتنے والا کپتان اب بینچ پر بیٹھا ہو گا، مگر سرفراز احمد فائٹ کرے گا، میرے خیال میں اگر وکٹ کیپر بیٹسمین ٹی 20 سیریز سے قبل جاتے تو اچھا ہوتا لیکن شاید چارٹرڈ طیارے کی وجہ سے روانہ ہونا پڑے گا۔

احسان مانی کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا چیئرمین بننے کی پیشکش کئے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ میرے لئے اس میں دلچسپی کی کوئی بات نہیں کہ وہ ایشین کرکٹ کونسل ( اے سی سی) یا آئی سی سی میں جائیں، ان کے آنے سے پی سی بی میں تو کوئی فرق نہیں پڑا، ٹائی لگاکر گھومنے سے کچھ نہیں ہوتا۔

مزید :

کھیل -