چین سے ہزیمت کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی

چین سے ہزیمت کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی

  

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیلپر سیلز متحرک کر سکتا ہے شمالی و جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے میں کیپٹن اور سپاہی کی شہادت پر بیان دیتے ہوئے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ وزیرستان ہو یا ایل او سی پر فائرنگ بھارت کو پاکستان کا امن ایک آنکھ نہیں بھاتا، بھارت افغانستان میں بھی امن نہیں چاہتا اور وہاں بھی تخریب کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ بی جے پی کی مودی سرکار بے پناہ دباؤ میں ہے۔ لداخ میں رسوائی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کر سکتا ہے ہمیں ایسے واقعات کا غور سے جائزہ لینا ہوگا ان کا کہنا تھا کہ نئی صورت حال پر وہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کر رہے ہیں، پاکستان میں بھارت کے ناظم الامور کو گزشتہ روز دفتر خارجہ میں طلب کرکے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنانے پر شدید احتجاج کیا گیا۔

ہمالیائی وادی گلوان میں بھارت کے فوجیوں کی چین نے جو درگت بنائی ہے اس پر کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے اپنے وزیراعظم کو ”سرنڈر مودی“ کہہ کر پکارا ہے اور مرنے والے فوجیوں کے لواحقین بھارتی چیف آف ڈیفنس کو خط لکھ کر ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں اس سے پہلے فوجی افسر مودی کی تباہ کن پالیسی پر احتجاج کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت لداخ میں مسلسل غلط حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے جس کی وجہ سے چین کو کارروائی کا موقع مل گیا ہے اب دگر گوں اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارتی قیادت نے کشمیر میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں ایک جعلی مقابلے میں پی ایچ ڈی سکالر سمیت چار کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ تو کئی سال سے جاری ہے جس میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔اس کے ساتھ ہی بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں حالیہ ہفتوں میں دہشت گردی کی جتنی بھی وارداتیں ہوئیں ان میں کسی نہ کسی انداز میں بھارت کا ہاتھ تھا اب یہ خوفناک انکشاف بھی ہوا ہے کہ کراچی میں قتل و غارت کی کارروائیوں کے لئے بھارت باقاعدہ فنڈنگ کرتا رہا ہے اور جو شخص یہ فنڈ وصول کرکے اپنے قائد کو پہنچاتا رہا اب اس نے کھل کر یہ اعتراف کر لیا ہے اور پاکستان میں حکام کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ سالہا سال تک کراچی میں جو خونریزی ہوتی رہی اس پر اہلِ نظر اسی وقت سے اظہار تشویش کرتے چلے آئے ہیں اب تو سارے کردار ہی ایک ایک کرکے انکشاف کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر عمران فاروق قتل پر عدالتی فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ مگرمچھ کے آنسو بہانے والے خود ہی اس میں ملوث تھے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سیلپر سیلز کے دوبارہ متحرک ہونے کی جو اطلاع دی ہے اس کے آثار تو گزشتہ کچھ عرصے سے دیکھے جا رہے ہیں افغانستان میں بھی بھارت کا کردار مشکوک ہے اس نے جو خواب دیکھے تھے وہ ریزہ ریزہ ہو گئے ہیں امریکہ نے دوحہ معاہدے پر بھارت کی پرچھائیں نہیں پڑنے دیں اسے بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ مسئلے کا حل نہیں چاہتا بلکہ مسائل کو گھمبیر بنانے میں فریق ہے اس لئے صدر ٹرمپ یہ اعلان کرنے کے باوجود کہ بھارت افغانستان میں امن کے لئے کردار ادا کرے اس سے پیچھے ہٹ گئے شروع میں تو انہوں نے بھارت سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ افغانستان میں نیٹو کی طرح اپنی افواج بھی بھیجے لیکن بھارت کو یہ تو معلوم تھا کہ جہاں چالیس ملکوں کی فوج پھنسی ہوئی ہے وہاں اس کے چند سو فوجی کیا کردار ادا کر سکیں گے اس لئے اس نے فوج بھیجنے سے تو پہلوتہی کی لیکن افغانستان میں سازشوں سے باز نہیں آ رہا اور معاہدے کے بعد سے اب تک نہ صرف افغانستان کے حالات بگاڑنے کے لئے کوشاں ہے بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ دہشت گردوں کی فنڈنگ کے بارے میں تازہ ترین انکشافات کے بعد اب بھارت کے کردار کو نئے سرے سے جانچنے کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر ظالمانہ کارروائیوں، ایل او سی پر جارحیت اور دہشت گردی کے سارے تانے بانے باہم مربوط ہیں اور لداخ کی ذلت کے بعد اس میں اضافہ اس امر کی چغلی کھاتا ہے کہ ان سب کارروائیوں کا مقصد ان حالات سے توجہ ہٹانا ہے جو چین سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں رونما ہوئے۔

بھارت نے تبت کے دلائی لامہ کو اپنے ہاں پناہ دے کر ایک نام نہاد جلاوطن حکومت بھی بنوائی ہوئی ہے اگرچہ یہ اقدام چین کو اشتعال دلانے کے لئے کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود چینی قیادت نے نصف صدی سے زیادہ عرصے سے تحمل کا مظاہرہ کیا اب اگر چین نے لداخ میں جوابی کارروائی کی تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت کے فوجیوں نے دراندازی کرکے چین کو اشتعال دلانے کا اقدام اس لئے کیا کہ چینی ردعمل کا اندازہ کیا جا سکے، اب کی بار چین نے ایسا جواب دیا ہے کہ بھارت اب تک زخموں کی ٹیس محسوس کررہا ہے اب مرنے والے فوجیوں کے لواحقین بھی اس ماتم میں شامل ہو کر یہ سوال کررہے ہیں کہ آخر بھارتی فوجیوں کو چین کے علاقے میں داخل ہونے کی کیا ضرورت تھی۔ اس تازہ ہزیمت کے بعد مودی نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر روس سے مگ 29 اور سخوئی طیاروں کا نیا آرڈر دے دیا ہے حالانکہ فرانس سے رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کئی سال سے ہو چکا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی فوجیوں نے ایک گولی تک نہیں چلائی، توپوں اور طیاروں کا تو خیر ذکر ہی کیا یہ جو بھارت کی درگت بنی ہے اس میں تو صرف لاتوں، مکوں اور ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا اب جو فوج دست بدت لڑائی کے زخم سہلا رہی اور جو سولات اٹھ رہے ہیں ان کا کوئی جواب تو حکومت نہیں دے پا رہی اپنے عوام کو نئے طیاروں کے آرڈر دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے یا نہتے کشمیریوں کے گھروں کو بارود سے اڑا رہی ہے جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے نظر بندی کے حالات سے گزر رہے ہیں مرنے والے فوجیوں کے ورثاء نے تو جس ردعمل کا اظہار کیا ہے اس سے بھارتی عزائم کا بھانڈہ بیچ چوراہے کے پھوٹ گیا ہے اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ اشتعال انگیزی کا آغاز خود بھارتی فوجیوں نے اپے اعلیٰ افسروں کی ہدایت پر کیا تھا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارتی سرکار زبردست دباؤ میں ہے اس لئے اس کے اقدامات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں وہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ سے بھی بات کررہے ہیں جس کا ہنگامی اجلاس بھی آج طلب کیا گیا تھا، اگر او ائی سی بھارت کے خلاف سخت موقف اختیار کرتی ہے اور پاکستان کے ساتھ کھل کر کھڑی ہوتی ہے تو ممکن ہے کشمیر میں بھارت کے دستِ ستم کو روکنے میں کوئی مدد مل سکے، تنظیم کے رکن ملکوں کو اپنے اقتصادی اور مالی مفادات سے صرف نظر کرتے ہوئے کشمیریوں کی مدد کے لئے متحدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انسانیت کا رشتہ اقتصادی مفادات سے بہت بلند اور اعلیٰ و ارفع ہے اسی ناتے سے نئے اقدامات پر غور ہونا چاہیے۔ انسانیت مر گئی تو اقتصادی مفادات کا نوحہ خواں بھی کوئی نہ ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -