پاکستان کا طبقاتی نظام اور کمی کی حیثیت

پاکستان کا طبقاتی نظام اور کمی کی حیثیت
پاکستان کا طبقاتی نظام اور کمی کی حیثیت

  

میں کوئی آپ کا کمی نہیں کہ آپ کے سامنے خاموش رہوں، جھک جاؤں یا آپ مجھ پر رعب ڈالیں۔۔۔

یہ محاورہ کئی مواقع پر سننے کو ملتا ہے۔

اس محاورہ کو بولنے والے کو بالکل بھی پتا نہیں ہوتا کہ وہ کیا بول رہا ہے۔ کیونکہ ہمارے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کی حیثیت میں فرق ہے۔ یہ کمی کون ہوتے ہیں؟ یہ لفظ کس نے ایجاد کیا اور کیونکر کیا؟ بظاہر اس لفظ " کمی" کے معانی کام کرنے کے ہوتے ہیں گو کہ ہماری قوم میں محنت کرنے یا کام کرنے کو اپنی توہین کے برابر سمجھا جاتا ہے اور حتی الوسع کوشش یہی ہوتی ہے کہ کام کیے بغیر ہی گزارہ ہوتا رہے۔ لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کام تو ہم سب ہی کرتے ہیں۔ پھر ہم سب کمی کیوں نہیں کہلاتے ہیں؟

جن کو لوگ کمی کہتے ہیں اب وہ بھی کام کچھ بھی نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ملک کے اندرکام کرنے والوں کی کوئی قدر ہے۔ نہ ان کے کام کا مناسب معاوضہ ملتا ہے۔ صبح سے شام تک سخت مزدوری کرنے والوں کو پورے دن کے ساڑھے تین ڈالر ملتے ہیں۔ اور اگر کوئی ہنر مند ہے تو اس کو 5 یا 6 ڈالر مل جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں چونکہ کرنسی روپوں میں ہوتی ہے لہذا بعض اوقات ایک مزدور وہ مزدوری لیکر گھر پہنچتا ہے تو اس کے 6 ڈالر گھر پہنچنے تک 5 ہی رہ جاتے ہیں۔ جبکہ اس نے خرچ بھی کچھ نہیں کیا ہوتا۔ اس لیے اب ساری قوم کی کوشش ہے کہ کام نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ ایسے ہی خواہ مخواہ اتنی محنت کے بعد کمی جیسے توہین آمیز لقب سے پکارے جانے کا خطرہ مول لیں اور ملے بھی کچھ نہ اس سے تو بہتر گداگری ہے۔ جس میں بیٹھے بٹھائے اچھی خاصی رقم مل جاتی ہے۔ میں بات کر رہا تھا کہ دراصل یہ کمی ہیں کون؟ اگر پرانے وقتوں کو یاد کیا جائے تو کمی کا مطلب کاریگر یا ہنر مند ہوتا تھا۔ جیسے کوئی کپڑا بنانے، یا بنے ہوئے کپڑے سے تن ڈھانپنے کے لیے سلائی کرنے، مختلف قسم کے برتن بنانے، گھر کے لیے فرنیچر بنانے، زمینداری کے اوزار بنانے، لوگوں کے سروں سے ترتیب سے بال کاٹنے،

مختلف اجناس کا کولہو کے ذریعے تیل نکالنے(کولہو سے یاد آیا ویسے ہماری پوری قوم 73 برس سے کولہو کے چکر میں ہی گھوم رہی ہے) پاؤں میں پہننے کے لیے جوتے بنانے وغیرہ وغیرہ کے ہنر والوں کو کمی کہا جاتا تھا۔ یا یوں سمجھ لیں کہ جس کے پاس ہنر ہے وہی کام کا بندہ ہوتا باقی سب اس کے مرہون منت، اگر درزی کپڑے نہ سلائی کرے تو پھر آپ تن کیسے ڈھانپیں اور بڑے عزت دار کیسے بنیں؟ اسی طرح کوئی جوتا نہ بنائے تو پھر پاؤں سے ننگے ہی چلنا پڑے، یوں ہم سب ان ہنر مندوں کے رحم و کرم پر ہی ہوتے ہوں گے، لیکن اب مشینی دور میں ایسے ہنرمندوں کی قدر کم ہو گئی ہے اور یہ لوگ بھی اپنے کام کو چھوڑ چکے ہیں۔ بلکہ اپنی ذاتوں میں بھی ردوبدل کر گئے ہیں۔ لیکن لفظ کمی بدستور موجود ہے اور اس کو امتیاز کے طور پر بولا سمجھا جاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ صدیوں پرانی روایات کے ساتھ جی رہے ہیں اور جدیدیت سے خوف زدہ رہتے ہیں اسی لیے ہم ترقی نہیں کر پا رہے۔ ہماری اکثریت جھوٹ کے سہارے زندگی گزارنے پر خوش ہے یا مجبور ہے۔ سچائی سے خوف آتا ہے۔ کسی کی عزت بھلے چلی جائے لیکن اس بات کا کسی دوسرے کو پتا نہیں چلنا چاہیے۔ یہ ہے ہمارے معاشرے کی سوچ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو مار سکتے ہیں لیکن دوسروں کے سامنے باعزت زندہ رہنا چاہتے ہیں۔

ہمارے ہر گاؤں کے اندر ایک اکثریت اور دوسری اقلیت رہتی ہے۔ جن کو کمی کہا جاتا ہے وہ کمہار، حجام، تیلی، درزی وغیرہ وغیرہ، اور اکثریت میں جٹ، راجپوت، ملک، مرزا، کہیں آرائیں اور کہیں سدھن پھر ان برادریوں کے اندر کئی ذاتیں ہوتی ہیں۔ کسی بھی گاؤں کے اندر اوپر بیان کیے گئے ہنرمندوں کی کوئی حیثیت سمجھی جاتی ہے نہ گاؤں کے اجتماعی فیصلوں میں ان کی رائے کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے۔کیونکہ وہ تو کمی ہیں نا! بات یہی ختم نہیں ہوتی۔ اب ان کے کام کی بنیاد پر ان کی ذات بنتی ہے اور بات بچوں کی شادیوں تک چلی جاتی ہے کہ ان کو جو لقب دیا گیا ہے ان کے بچوں کی شادیاں بھی اسی لقب یا ذات کے لوگوں میں ہی ہوں گی اور اگر کوئی بالغ لڑکا یا لڑکی اپنی مرضی سے شادی کسی دوسری ذات برادری میں کر لے تو اس کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سارے عمل کا ریاست پر کیا اثر ہوتا ہے؟ جی یہی سب سے بڑا سوال ہے اور اسی پر سوچنے کی ضرورت ہے۔

ریاست اور فرد کا ایک رشتہ ہوتا ہے اور دونوں کے درمیان ایک مضبوط معاہدہ ہوتا ہے اور دونوں اپنے معاہدے پر سختی سے کاربند نہ رہیں تو دونوں ہی کے حالات دگرگوں ہو جاتے ہیں۔ جیسے آج کل ہمارے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب قوم کو مختلف طبقات میں بانٹ دیا جائے اور کسی کی پہچان ایک باشندہ ریاست کی بجائے اس کے سماجی مرتبے اور اس کے کام یا ہنر کی بنیاد پر ہو تو پھر دلوں میں کھوٹ آتا ہے اور فرد کا ریاست پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ اس طرح افراد کی اپنی ریاست سے وفاداری کمزور پڑ جاتی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق دیہات کے اندر ہنر مند لوگ بظاہر اکثریتی برادری کے لوگوں کی بہت فرمانبرداری کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اندر سے وہ متنفر ہوتے ہیں اور وہ گاؤں کی بہتری میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں نہ اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ بلکہ جہاں ان کا بس چلے خرابی پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ملک میں کمزور طبقات، مزدور، چھوٹے زمیندار اور غریب کا اپنے ریاستی اداروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور ان کی اپنی ریاست کے ساتھ وفاداری بھی کمزور ہو جاتی ہے۔

اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس طبقاتی نظام سے چھٹکارا حاصل کریں اور ملکی عوام کو ایک قوم میں ڈھال کر اجتماعی فیصلوں میں سب کو برابر حیثیت سے شامل کریں۔ اسی طرح دیہات کے اندر سب کو برابر حیثیت دیکر اپنے اپنے دیہات اور علاقائی فیصلوں میں سب کی رائے کو مقدم سمجھا جائے اور سیاسی فیصلے برادریوں کی بجائے اہلیت کی بنیاد پر کیے جائیں۔ بلدیاتی یا قومی نمائندوں کے چناؤ میں برادری کی بجائے اہلیت، صلاحیت اور کارکردگی کو بنیاد بنایا جائے۔ کسی کو اس کے ہنر، کام یا اس کی ذات برادری کی وجہ سے کم تر یا بالاتر نہ سمجھا جائے۔ ایک دوسرے کو برابری دیکر ہی دلوں میں محبت پیدا کی جا سکتی ہے اور فرد کا ریاست سے رشتہ مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -