مفتی محمد نعیم، علامہ طالب جوہری، اتحاد بین المسلمین کے دو بڑے داعی

مفتی محمد نعیم، علامہ طالب جوہری، اتحاد بین المسلمین کے دو بڑے داعی
مفتی محمد نعیم، علامہ طالب جوہری، اتحاد بین المسلمین کے دو بڑے داعی

  

ایک دن کے وقفے سے دو بڑے عالم دین، اتحاد بین المسلمین کے دو بڑے داعی اور شرافت و متانت کے پیکر دنیا سے رخصت ہو گئے، ممتاز عالم دین اور جامعہ بنوری ٹاؤن کے سربراہ مفتی محمد نعیم اور ذاکر، فلسفی، شاعر اور خطیب علامہ طالب جوہری کی رحلت کراچی میں ہوئی، مفتی نعیم نے 62 برس کی عمر میں وفات پائی اور علامہ طالب جوہری 81 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ مفتی نعیم کا تعلق سنی مسلک سے تھا، جبکہ علامہ طالب جوہری شیعہ مسلک کے جید عالم تھے۔ مگر جو بات ان دونوں کو منفرد و ممتاز کرتی ہے اور مشترکہ طور پر ان کا اثاثہ رہی وہ ان کی کشادہ نظری اور کشادہ فکری تھی۔ مسلک کی دوری کے باوجود دونوں نے اتحاد بین المسلمین کے لئے کام کیا۔ اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔ صرف اس وجہ سے بھی اگر کہا جائے کہ ان دونوں علماء کے جانے سے ایک بڑا خلا، پیدا ہو گیا ہے، تو کچھ غلط نہیں ہوگا، کیونکہ ایسے علماء خال خال پائے جاتے ہیں جو اپنے مسلک کو چھوڑو نہ، اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہ، کے نظریئے پر کاربند ہوں۔ وگرنہ شعلہ بیانی کے زعم اور اپنی ریٹنگ بڑھانے کے خبط میں اعتدال کی حدیں پار کرنا ہمارے ہاں معمول کی بات ہے۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم، مذہبی سکالر، مفسر قرآن اور استاد الاستاد مفتی نعیم کے سانحہ ارتحال کی خبر سامنے آئی تو گویا پورے ملک میں دکھ اور غم کی لہر دوڑ گئی۔ وہ دل کے مریض تھے تاہم ایک دن پہلے تک ان کی طبیعت ٹھیک تھی۔ انہیں اچانک دل کی تکلیف محسوس ہوئی تو انہیں فوراً ہسپتال لے جایا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ کچھ عرصہ پہلے بھی جامعہ میں اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوئے ان کی حالت بگڑی تھی، تاہم بر وقت طبی امداد ملنے کی وجہ سے ان کی طبیعت سنبھل گئی تھی۔ مگر اس بار موت کے فرشتے نے انہیں مہلت نہیں دی اور وہ رضائے الٰہی سے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ان کی نماز جنازہ مفتی تقی عثمانی نے پڑھائی جس میں ہزاروں افرادن ے شرکت کی۔ انہیں جامعہ بنوری ٹاؤن میں ان کے والد گرامی کی قبر کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ مفتی نعیم نے اپنے والد گرامی کی رحلت کے بعد جب مہتمم اعلیٰ کی حیثیت سے جامعہ بنوری ٹاؤن کا منصب سنبھالا تو انہوں نے اس کی علمی، فکری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ خطوط پر تہذیب و پرداخت کی آج اس جامعہ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے طالب علم قرآن و سنہ اور فقہ اسلامی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس کا شمار برصغیر کے بڑے دینی مدرسوں میں ہوتا ہے۔

جہاں تک مفتی نعیم کی شخصیت کا تعلق ہے تو پورے ملک میں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا انہوں نے ہمیشہ اتحاد، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیا انہوں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے اتحاد بین المسلمین اور اتحاد بین المسلکین کو کوئی نقصان پہنچا ہو۔ وہ مختلف فقہی اور دینوی معاملات پر کھل کر رائے دینے کے عادی تھے، اس حوالے سے وہ کسی حکمران کو خاطر میں لاتے تھے اور نہ کسی مصلحت سے کام لیتے تھے۔ ان کی رائے کو ہر جگہ اہمیت دی جاتی تھی۔ ان کا دم غنیمت تھا کہ جب بھی ملک میں کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہوا تو انہوں نے ٹی وی چینلوں پر آ کر قرآن و سنت کے حوالے سے اس کا حل پیش کیا اور قوم کی رہنمائی کی۔ وہ ہمیشہ مثبت بات کرتے تھے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ان کی زندگی کا منشور ہی نہیں بلکہ مشن تھا۔ وہ اس حوالے سے ایک بہت مؤثر آواز تھے۔ ان کے اٹھ جانے سے یقیناً ایک بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے، اللہ ان کے بیٹوں کو یہ توفیق دے کہ وہ نہ صرف جامعہ بنوری ٹاؤن کی حفاظت کریں بلکہ مفتی نعیم نے جو ورثا چھوڑا ہے اسے بھی آگے بڑھائیں۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ علامہ طالب جوہری کی وفات پر اہل سنت بھی اتنے ہی دکھی ہیں، جتنے اہل تشیع ہیں یہ علامہ طالب جوہری کی شخصیت اور عمر بھر کی ریاضت کا کمال ہے کہ انہوں نے سستی شہرت کے لئے روائیتی ڈگر اور راستہ اختیار کرنے کی بجائے علم، فلسفے اور سچ کا راستہ اختیار کیا اور قبولیت عام پائی۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں نے دسویں محرم کو کبھی علامہ طالب جوہری کی مجلسِ شامِ غریباں چھوڑی ہو۔ وہ اتنی جامعیت کے ساتھ حضرت امامِ حسینؓ اور اہل بیت کی لازوال قربانی کا ذکر کرتے کہ آنکھیں پر نم ہوئے بغیر نہ رہتیں۔ وہ خطاب کرتے ہوئے ادھر ادھر نہیں بھٹکتے تھے بلکہ ان کا سارا فوکس اس نکتے پر رہتا تھا کہ اللہ کے لئے جان دینا مومن کی کتنی بڑی خوش بختی ہے اور نواسہ رسولؐ نے اسلام کو بچانے کے لئے اپنے خاندان سمیت قربانی دے کر کتنی بڑی سعادت حاصل کی ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی فلسفیانہ انداز تھا، جسے استدلال کے ذریعے وہ سامنے کی حقیقت بنا دیتے تھے۔

وہ ذرے کو آفتاب بنانے کا ہنر جانتے تھے، مگر دلیل کے ساتھ وہ جب تخلیق کائنات کے جواز کو واقعہ کربلا سے جوڑتے تھے تو یہ نہیں لگتا تھا کہ وہ مبالغے سے کام لے رہے ہیں بلکہ قرآنی حوالوں اور سیرت طیبہ کی شہادتوں کے ذریعے وہ یہ ثابت کر دیتے تھے کہ جو کہہ رہے ہیں وہی سچ ہے۔ وہ کسی ایسی فروعی بات کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ جس سے بات متنازعہ ہو جائے۔ نہ ہی وہ من گھڑت قصے کہانیوں کے ذریعے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی کوشش کرتے،ایسا مدلل، مکمل اور متحمل خطیب اب پورے منظر نامے پر کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کے پاس اتنا گہرا مطالعہ ہے اور نہ ایسا فلسفیانہ ذہن، سطخی باتیں کرنے والے بہت ہیں، جو مسلکی اختلافات کا تڑکا بھی لگا جاتے ہیں، لیکن علامہ طالب جوہری جیسا فکری مدبر منظر نامے پر کوئی نظر نہیں آتا۔

غالباً 1987ء میں مجھے اور سینئر صحافی عبداللطیف اختر مرحوم کو جو مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے داماد بھی تھے، علامہ طالب جوہری سے ملتان میں ایک تفصیلی انٹرویو کا موقع ملا جو نوائے وقت ملتان کلر ایڈیشن کے طور پر شائع ہوا۔ اس ملاقات کا نقش ابھی تک ذہن پر سنہری یاد کے طور پر ثبت ہے علامہ طالب جوہری کی شخصیت میں ایک عجیب قسم کی مقنا طیسیت تھی۔ جب وہ بولتے تھے تو ان کی آنکھیں بھی بولتی تھیں عینک کے پیچھے سے جھانکتی ان کی آنکھوں میں بلا کی روشنی تھی۔ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کے خیالات سننا ایک مشکل کام تھا۔ اس زمانے میں بھی ان کے خیالات سن کر عبداللطیف اختر اور میرا تاثر یہی تھا کہ شیعہ عالم ہونے کے باوجود علامہ طالب جوہری کے خیالات میں اعتدال بھی ہے اور فکری ہم آہنگی بھی۔ حالانکہ یہ وہ دور تھا جب ملک میں فرقہ واریت کی آگ جل اٹھی تھی۔ اس وقت بھی علامہ طالب جوہری یہی درس دیتے رہے کہ سب مسالک کا سرچشمہ اسلام ہے، راستے جدا جدا ہیں مگر ہم نے پانی ایک ہی کنوئیں سے بھرنا ہے۔ اس لئے ان مسالک سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں البتہ خطرہ اس وقت ہو سکتا ہے جب تحمل، برداشت ا ور احترام درمیان سے نکل جائے میں سمجھتا ہوں علامہ طالب جوہری مرحوم کے افکار آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے جلائی ہوئی شمع کو بجھنے نہ دیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -