کورونا وائرس کی وبا خواتین کی ذمہ داریاں!

کورونا وائرس کی وبا خواتین کی ذمہ داریاں!

  

ناصرہ عتیق

لندن کے ایک تحقیقاتی ادارے نے پاکستان میں اگست کے مہینے میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 80ہزار کے لگ بھگ بتائی ہے۔ اگرچہ حکومتی سطح پر اس تعداد کو حد درجہ مبالغہ آمیز بتایا گیا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ وبا زور پکڑ رہی ہے اور لوگ پروا نہیں کر رہے۔ پنجاب کی وزیر صحت نے صوبائی دارالحکومت میں لوگوں کے رویوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے ایک رائے کا اظہار کیا تھا جس پر لوگ بے چاری خاتون وزیر کے درپے ہو گئے۔ دیکھا جائے تو لوگ جس لاپروائی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور احتیاطی تدابیر سے جس طرح پہلوتہی برت رہے ہیں تو ایسی آراء کا لوگوں پر چسپاں کیا جانا کچھ غلط بھی نہیں ہے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر گہری نگاہ رکھنے کے باعث میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ہماری خواتین خواہ سادہ ہوں یا پڑھی لکھی، اس مہلک وبا کے بارے میں غیر محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک کی کل آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ یہ ایک بہت بڑی قوت ہے جس سے ملک و قوم کی بہتری و بہبود کے لئے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ خواتین بچوں اور اپنے حلقہء اثر میں شامل افراد کو اس وبا کے بارے میں مکمل آگاہی دے سکتی ہیں۔ نہ صرف آگاہی دے سکتی ہیں بلکہ آمادہ کر سکتی ہیں کہ وہ کورونا وبا سے متعلق احتیاطی تدابیر پر قلب صمیم سے عمل پیرا ہوں، لیکن بازاروں اور سڑکوں پر جو کچھ دکھائی دے رہا ہے اس پر بہت جی کڑھتا ہے۔ خواتین کو میں دیکھتی ہوں کہ وہ ماسک کے استعمال سے اجتناب برت رہی ہیں۔ ایک دوسرے کے گھروں میں خبر گیری کے لئے آ جا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ بچوں کو بھی ساتھ لئے ہوتی ہیں۔ عورتیں بھی کورونا وبا کی پکڑ میں آ رہی ہیں لیکن معاشرتی روایتوں کے سبب ان کی خبر چونکہ کم نکلتی ہے اس لئے ان کی متاثرہ تعداد کا صحیح پتہ نہیں چلتا۔

بہرحال کورونا کا زور دنیا میں ابھی ٹوٹا نہیں ہے۔ جنوبی امریکہ کے ممالک میں اس وائرس کی ہلاکت خیزیاں بڑھ رہی ہیں۔ یہ ایسی موذی وبا ہے کہ اس سے نجات پانے کے لئے صرف رب رحیم ہی سے پناہ مانگی جا سکتی ہے۔وہی ذات ذوالجلال ہے جو اس وبا کو دور کر سکتی ہے اور اسی کے کرم سے لوگ اس مرض سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ کوئی بھی اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ وبا ختم کب ہوگی۔

ادھر مون سون کی آمد ہے۔ خیال ہے کہ جون کے آخری ایام میں اس سے ہمارے موسم میں تبدیلی رونما ہوگی۔ اب علیحدہ بحث یہ چل نکلی ہے کہ مون سون کے دنوں میں کورونا وائرس زور پکڑے گا یا اس میں کمی واقع ہو گی۔ ان ہی دنوں میں ڈینگی کا خطرہ بھی سر اٹھائے گا، اس لئے گمان اغلب ہے کہ کورونا وائرس اپنا رنگ دکھائے گا۔

پاکستان کی حکومت تمام تر سنجیدگی اور پورے عزم کے ساتھ اس وبا کا سامنا کر رہی ہے۔ لوگوں کی سماجی،مالی و معاشی حالت دیکھتے ہوئے وہ سنگین فیصلے بھی نہیں کر رہی۔ تاہم لاک ڈاؤن کے بارے میں حکومت کا اپنا ایک نکتہ نظر اور اپنی رائے ہے جس پر وہ تن دہی سے عمل کر رہی ہے۔ حکومت کو لوگوں کا احساس ہے اور وہ ہر ایسے اقدام سے گریزاں ہے جو عوام کے لئے مشکلات پیدا کرے۔

بہرحال اب سارا دارومدار عوام پر ہے کہ وہ اپنی جانوں کی حفاظت کے لئے احتیاطی تدابیر پر کتنی سنجیدگی سے عمل پیرا ہوتے ہیں لوگوں کی گومگو کیفیت کو بھانپتے ہوئے حکومت کو ناچار سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑا ہے۔مختلف شہروں کے مخصوص علاقوں کو سختی سے بند کرنے سے توقع ہے کہ مرض کے پھیلاؤ پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے گا۔ اس کے باوجود لوگ باہر نکلنے سے باز نہیں آتے اور ان علاقوں کو دیکھنے پہنچ رہے ہیں جنہیں رکاوٹیں لگا کر بند کیا گیا ہے۔ حکومت ہر گز نہیں چاہتی کہ پاکستان میں اموات کے تناسب میں اضافہ ہو۔ ایک ایک جان قیمتی ہے۔ تاہم موت جواں اور بوڑھے اور مریض اور صحت مند میں تخصیص نہیں کرتی۔ جیسے اُچکنا ہوتا ہے وہ اُچک لیتی ہے۔

بہرحال میں خواتین سے امید لگائے ہوئے ہوں کہ آگاہی کی مہم میں وہ پیش پیش ہوں گی۔ ہمیں ان خواتین کی ہمت اور بہادری کو بھی سراہنا ہے جو اس مہلک وبا کے خلاف جدوجہد میں ہر اول دستوں میں شامل ہیں اور جو طب اور نفاذِ قانون کے شعبوں میں اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔

نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کی شخصیت ہماری عورتوں کے لئے مشعل راہ ہے کہ جس کے صائب فیصلوں اور عوام کے پُرخلوص تعاون نے نیوزی لینڈ سے اس مرض کو ختم کر دیا ہے۔ بات یقین، اعتماد، عزم اور ارادوں کی پختگی کی ہے۔ پاکستانی قوم اگرچہ سخت سے سخت ترین آزمائشوں سے گزرتی رہی ہے، تاہم ابھی کندن نہیں بنی۔ قوم کے باشعور افراد اس حقیقت سے آگاہ ہیں، تاہم وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے لوگ انتہائی برداشت کے حامل اور مصائب کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ رب العزت ہماری لغزشوں کو معاف فرمائے گا اور ہمیں اپنی عافیت سے نوازے گا۔ بے شک پاکستان جلد ہی کورونا وائرس سے نجات پائے گا اور ہمارا ملک ایک بار پھر ترقی اور استحکام کی شاہراہ پر گامزن ہو گا۔

نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کی شخصیت ہماری عورتوں کے لئے مشعل راہ ہے کہ جس کے صائب فیصلوں اور عوام کے پُرخلوص تعاون نے نیوزی لینڈ سے اس مرض کو ختم کر دیا

ہمیں ان خواتین کی ہمت اور بہادری کو بھی سراہنا ہے جو اس مہلک وبا کے خلاف جدوجہد میں ہر اول دستوں میں شامل ہیں اور جو طب اور نفاذِ قانون کے شعبوں میں اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں

حکومت کو لوگوں کا احساس ہے اور وہ ہر ایسے اقدام سے گریزاں ہے جو عوام کے لئے مشکلات پیدا کرے

حقیقت یہ ہے کہ وبا زور پکڑ رہی ہے اور لوگ پروا نہیں کر رہے

مزید :

ایڈیشن 1 -