ہمارا تعلیمی نظام اور اسلامی اقدار

ہمارا تعلیمی نظام اور اسلامی اقدار

  

آمنہ عزیز

آج کل کے دور میں تعلیم کی اہمیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔زمانہ اتنا ترقی کر گیا ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم حاصل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن دینی تعلیم کی اہمیت اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔انسانیت سے دوستی کے لئے اخلاقی تعلیم بھی بہت ضروری ہے۔ اس وقت پاکستان میں بہت سے سکول، کالجز اور یونیورسٹیز موجود ہیں مگر بہترین ادارے ہونے کے با وجود ہمارا تعلیمی نظام زوال کا شکار ہے اور ہمارے نوجوانوں میں شعور اور اخلاقیا ت کی کمی پائی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعلیمی نظام ہماری ذہنی اور اخلاقی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام کیوں ہے؟ تعلیم کا تو مقصد ہی نوجوانوں میں شعور بیدار کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ان کی زندگی میں ایثار،قربانی،محبت،خلوص، ہمدردی اور وفاداری کے جذبات پید ا کرنا ہے۔تعلیم انسان کو مقصد فراہم کرتی ہے اور اسے معاشرے کے لئے ایک کارآمد انسان بناتی ہے۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام مقصدیت سے محروم ہو کر رہ گیا ہے اور ملکی ترقی میں بھی خاطر خواہ کردار ادا کرنے میں نا کام رہا ہے۔ اس تعلیمی نظام سے پیدا ہونے والی اخلاقی گراوٹ نے ہمارے نوجوانوں کو گمراہی اور بے راہ روای کی طرف مائل کر دیا ہے۔

مغرب کے تعلیمی نظام کی تقلید نے ہمارے دینی معاشرے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک ایسی کشمکش کو پیدا کر دیا ہے جس نے ہمیں ذلت اور رسوائی کی گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ اس با ت کی شاہد ہے کہ مسلمان کبھی بھی جدید علوم سے ناواقف نہیں رہے اور بہت سے علوم وفنون کے تو بانی ہی مسلمان رہے ہیں۔ مغرب کی بہت سی یونیورسٹیز میں مسلمانوں کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔حقیقت بھی یہی ہے کہ مغرب کے پا س آج بھی مادی وسائل کی کمی ہے مسلمانوں نے علمی اعتبار سے اس زمانے میں ترقی حاصل کی جب ان کے سامنے مقصد تھا۔ ان کے تعلیمی نظام میں مقصدیت موجود تھی۔وہ نظام فرد اور معاشرے کو جوڑتا تھا اور ایک با شعور معاشرے کی تشکیل میں مددگارثابت ہوتا تھا۔مگر مغرب کے نظام تعلیم کو اپناتے اپناتے ہمارا تعلیمی نظام بحران کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ ہما را تعلیمی نظام ایسا ہونا چاہیے جو ہماری دینی اقدار اور معاشرتی ٖ ضروریات کو پورا کرے اور ملک و ملت کو درپیش مسائل کو حل کرے۔با صلاحیت نوجوانوں کو ہی ملک وملت کے لئے میدانِ عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔مغربی ثقافت اور تہذیب کے غیرضروری ملا پ نے نوجوانوں کو ان کے اسلاف کی روایات سے بالکل الٹ پہلو سے متعارف کروا کر ان کے اندر ایک مینٹل کونفلیکٹ پیدا کر دیا ہے۔

ملک میں تعلیم بکنے لگی ہے، کا غذ کے چھوٹے سے ٹکڑے کے عوض، جسے تعلیمی اصطلاح میں ڈگری کہتے ہیں ایک ایسے مردہ کا غذ کا نا م ہے جو رشوت اور سفارش کے بغیرصرف ایک کاغذ کی حیثیت سے ہماری فا ئلوں میں پڑ ا رہتا ہے۔ پہلے تعلیم دی جا تی تھی۔ اب بیچی جاتی ہے۔نوجوانوں میں مقصد ختم ہو کر رہ گیا ہے، فقط ڈگری حاصل کرنے کو مقصد سمجھ لیا گیا ہے اور بعد ازاں نوکری کو مقصد حیات کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ معذرت کے ساتھ کوئی ایسا ملک ترقی کر ہی نہیں سکتا جہاں کے نوجوان سے مقصد چھین لیا گیا ہو۔سوچ اور افکار ضبط کر لئے گئے ہوں۔

ہمارے تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ذہنی غلام،انسانیت سے محروم،دولت اور آسائش کے پجاری معاشرے کے پڑھے لکھے افراد کہلاتے ہیں۔جن کو اس نظا م میں پہلے تو اسٹیٹس (Status) کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ پھر اس کے حصول کے لئے معاشی حیوان بنا دیا جاتا ہے۔ ان کو خود پرستی اور مادیت پرستی کا سبق پڑھا دیا جا تا ہے۔ ان کے دل سے اسلام کی جذبے کو ضبط کر کے مغربی تہذیب کی محبت کو پیدا کیا جا رہا ہے جو صرف معاشرتی بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔ بد قسمتی سے کچھ دشمن عناصر نے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہمارے تعلیمی نظام کو اس قدر بگاڑ دیا ہے کہ اس کی اصلا ح کے لئے ایک عرصہ درکا ر ہے۔ اس وقت ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کے مقصد کو واضح کریں۔اپنے تعلیمی نظام میں سے مادیت پرستی کو ختم کریں اور مملکت پاکستان کی نظریاتی بنیا دوں کو سا منے رکھتے ہوئے ہمیں ایک ایسا نظام تعلیم تشکیل دینا ہے جو ہماری اقدار کے عین مطابق ہو اور جو افراد اور معاشرے کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو اورملک و ملت کے لئے نفع بخش ثابت ہوسکے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -