اسلام آباد ہائیکورٹ، قومی مالیاتی کمیشن کے 2 ارکان کی تقرری چیلنج

اسلام آباد ہائیکورٹ، قومی مالیاتی کمیشن کے 2 ارکان کی تقرری چیلنج

  

اسلام آباد (آئی این پی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی مالیاتی کمیشن کے دو ارکان کی تقرری کیخلاف کیس میں وزارت خزانہ کے حکام کی سرزنش کی اور حکومتی وکیل کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل خود پیش ہوں، آئندہ تاریخ سماعت سے قبل جواب جمع کرائیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن کے پانچ میں سے دو ارکان کی تقرری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج، مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی انجینئرخرم دستگیر خان اور ایم این اے بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا نے چیلنج کیا۔ کیس کی سماعت سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کی،رٹ پٹیشن میں صدر پاکستان کے علاوہ کابینہ، خزانہ، قانون کی وزارتوں کے سیکرٹرییز اور وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کو فریق بنایا گیا ہے۔جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ وزارت خزانہ نے عدالتی حکم پر جواب جمع کیوں نہیں کرایا؟ عدالت نے وزارت خزانہ کے حکام کی سرزنش کی اور حکومتی وکیل کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل خود پیش ہوں، آئندہ تاریخ سماعت سے قبل جواب جمع کرائیں، وزارت خزانہ نے کہا اسی نوعیت کی دو درخواستیں دو ہائیکورٹس میں زیر سماعت ہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کہا آپ کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس کیا، جواب جمع کرانا چاہئے تھا۔ محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا صوبوں کے گورنرز سے مشاورت کے بعد قومی مالیاتی کمیشن کے ارکان کی تقرری عمل میں لائی جا سکتی ہے، قومی مالیاتی کمیشن میں صوبوں کی رائے کو نظرانداز کیا گیا، قومی مالیاتی کمیشن کے 5 ممبران میں سے 2 کی تقرری آئین کے مطابق نہیں، غیر قانونی ہے، ہائیکورٹ قومی مالیاتی کمیشن سے متعلق نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے، جو موضوعات مالیاتی کمیشن کی شرائط کار میں شامل کی گئی ہیں وہ مالیاتی کمیشن کے دائرہ کار سے باہر ہیں، متعلقہ امور مالیاتی کمیشن کے نہیں بلکہ مشترکہ مفادات کونسل اورنیشنل اکنامک کمیشن کے دائرہ کار میں آتے ہیں، مالیاتی کمیشن نوٹیفیکیشن آئین کے تجویز کردہ دائرہ کار سے تجاوز ہے، آئین کے آرٹیکل 160 کی خلاف ورزی کی گئی ہے، اسلام آباد آئیکورٹ 12 مئی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔ عدالت نے سماعت 26 جون تک ملتوی کر دی۔

سلام آباد ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ آخر -