مفتاح اسماعیل کی حکومت کورونا ٹیکس پر نظر ثانی، معیشت ٹھیک کرنے کیلئے تجاویز پیش

مفتاح اسماعیل کی حکومت کورونا ٹیکس پر نظر ثانی، معیشت ٹھیک کرنے کیلئے ...

  

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی بجٹ میں ملکی معیشت ٹھیک کرنے کے لئے حکومت کو تجاویز دے دیں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس پر نظر ثانی، پی ایس ڈی پی بڑھائی اور پالیسی ریٹ کم کیاجائے،حکومت درست اقدامات کرے تو اگلے سال معیشت بہتر ہوسکتی ہے،کورونا حالات کے ساتھ گزشتہ دو سال کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی معاشی کارکردگی کا بھی جائزہ لینا ہوگا،پالیسی ریٹ جب تک ٹھیک نہیں ہوگا تو حکومتی فائنانسز خراب ہوتے رہیں گے،پاکستان مسلم لیگ (ن) کو برا بھلا کہیں، حکومت اپنا کام بھی تو کرے، ٹیکس ہدف پورا کرے،امید ہے وزیر خزانہ اپنی بجٹ تقریر سمیٹتے ہوئے سرکاری گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں گے۔ پیر کو اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ پالیسی ریٹ کم کریں تاکہ قرض ادائیگی میں کمی اور حکومتی آمدن کے مسائل ٹھیک ہوں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ پی ایس ڈی پی بڑھائیں تاکہ معیشت کا پہیہ چلے ورنہ حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے بیرونی محاصل میں تبدیلی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ لوکل فائنانسز اور مینجمنٹ خراب ہوئی ہے، کورونا کا اس میں عمل دخل نہیں،مسائل کی وجہ پی ٹی آئی کا پالیسی ریٹ میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور غلط مینجمنٹ ہے،معیشت انتہائی برے حالات میں ہے، کورونا کی وجہ سے خاص طورپر پوری دنیا میں معیشت متاثر ہوئی ہے،کورونا حالات کے ساتھ گزشتہ دو سال کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی معاشی کارکردگی کا بھی جائزہ لینا ہوگا،وزیر خزانہ اسد عمر نے نئے ٹیکس لگائے، ہمارے دور کی ٹیکس مراعات بھی ختم کیں لیکن پھر بھی ہمارے دور کا 3840 ٹیکس آمدن کا ہدف حاصل نہ کرپائے۔ انہوں نے کہاکہ چودہ فیصد اضافہ ہوتا تو 600 ارب ملک کو مزید ملا ہوتا،رواں مالی سال میں بھی پی ٹی آئی حکومت نے 700 ارب کے مزید نئے ٹیکس لگائے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کا دعوی تھا کہ ٹیکس آمدن میں 5500 ارب تک جائیں گے لیکن ہمارا دوسال پرانا ہدف بھی پورا نہ کرپائے،اگر مسلم لیگ (ن) کی پالیسی اپنائی جاتی تو موجودہ حکومت 5000 ارب کا ہدف با آسانی پورا کرلیتی،ہمارے دور کی پالیسی جاری رہتی تو آئندہ مالی سال کا ہدف 5700 ارب روپے کا ہدف لیاجاسکتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس آمدن بڑھنے کے بجائے اس میں مزید کمی آچکی ہے،درپیش مسائل کی ایک وجہ ٹیکس جمع کرنے میں موجودہ حکومت کی ناکامی ہے،روپے کی قدر میں 40 فیصد کی بڑی کمی نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 4950 ارب روپے کا ہدف پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا، صنعت کیلئے بجلی اور گیس میں کمی کی بات کی گئی لیکن حکومت نے وعدے پورے نہیں کئے،زراعت پر بھی توجہ نہیں دی گئی جس سے زرعی پیداوار کم ہوئی، معیشت جمود کاشکار ہوئی،انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت نے دو سال میں قومی قرض 50 فیصد سے زیادہ بڑھادیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 25000 ارب سے دو سال میں قرض 37000 ارب کردیا، قرض کی ادائیگی مزید بڑھ گئی، یہ ملک کے لئے خطرے کی بات ہے،شرح سود کم بھی کردیں تو اب 2200 ارب قرض ادا کرنا پڑے گا،انہوں نے کہاکہ حکومت تجویز دے جس کے تحت وفاقی اور صوبوں کی فائنانسنگ بہتر ہو، سابق وزیر خزانہ نے کہاکہ موجودہ حکومت کے دور میں بجٹ خسارہ 9.1 پر پہنچ چکا ہے، یونہی چلتا رہا تو یہ ڈبل ڈجٹ میں ہونے کا خدشہ ہے،بجٹ خسارے سے بچنے کے لئے حکومت ٹیکس ہدف پورا کرے۔ انہوں نے کہاکہ این ایف سی چھیڑنے کے بجائے حکومت اپنا ہوم ورک پورا کرے۔

مزید :

صفحہ آخر -