بوڑھوں اور بیمار افراد کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن، صوبے پوچھتے تو کبھی ایسا لاک ڈاؤن نہ ہونے دیتا ملک میں افراتفری مچ گئی، مجھ پر بڑی تنقید ہوئی لیکن شکر ہے میری بات سن لی، ہمارا اگلا مہینہ مشکل ہے: عمرا ن خان

بوڑھوں اور بیمار افراد کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن، صوبے پوچھتے تو کبھی ایسا لاک ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کی ایک بار پھر مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیوں نے جو حالات پیدا کئے اس کی مثال نہیں ملتی،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اب معمر اور بیمار افراد کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا، کورونا کی وجہ سے پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کیا گیا، صوبے مجھ سے پوچھتے تو کبھی ایسا لاک ڈاؤن نہ ہونے دیتا،سمجھ نہیں آیا لاڑکانہ میں سخت لاک ڈاؤن کرکے چھابڑی والوں کو کیوں بند کردیا گیا، ملک میں افراتفری سی مچ گئی، چین اور یورپ کو دیکھ کر سب نے کہا وبا پھیل گئی ہے اور ہم نے سخت لاک ڈاؤن کردیا، مجھ پر بڑی تنقید ہوئی لیکن شکر ہے میری بات سن لی،ہمارا اگلا مہینہ مشکل ہے جس میں سمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا۔ پیر کو احساس پروگرام کے تحت تین بڑے اقدامات کے آغاز کی تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے عوام میں خیرات دینے کا بہت جذبہ ہے، لوگوں کوجب اعتمادہوجائے گا انکادیاہواپیساٹھیک جگہ جارہاہے تووہ دل کھول کرعطیات دیتے ہیں، شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کی مہم میں مجھے امیر لوگوں کی بجائے عام لوگوں نے زیادہ پیسے دیے، وزیراعظم ریلیف فنڈ میں بھی 50 فیصد پیسہ عام لوگوں نے دیا کیونکہ وہ آخرت پر اور اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے سوچنا چاہیے لوگوں پر کیا اثر پڑے گا، جب تک یہ نہ سوچیں کہ دیہاڑی دار، غریب اور چھابڑی والے کا روزگار چھن جائے گا تو کیا بنے گا جو روز کماتا ہے تو بچے کھاتے ہیں، جب تک ان لوگوں کا نہ سوچیں پورا لاک ڈاؤن نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ہم نے جو لاک ڈاؤن کیا اس سے سروس سیکٹر تباہ ہوگیا، اس سے نمٹنے اور کورو نا سے بیروزگار ہونیوالوں کیلئے ہم نے وزیراعظم ریلیف فنڈ شروع کیا، احساس پروگرام کے تحت کم وقت میں بہت شفاف طریقے سے پیسے بانٹے گئے جس سے لوگوں کو بڑا ریلیف ملا، پیسے تقسیم کرنے لاڑکانہ کا دورہ کیا تو افسوس ہوا کہ متاثرہ افراد میں کوئی ترکھان، درزی تو کوئی چھابڑی والا ہے۔ کورونا سے پہلے ہی سڑکوں پر سونے والوں کیلئے پناہ گاہ اور لنگر کا اہتمام کیا، اسلام آباد اور لاہور سمیت ملک میں سخت ٹھنڈ میں لوگ سڑک پر سورہے ہوتے ہیں، یہ معاشرے کیلئے بہت شرم ناک بات ہے، پارلیمنٹرینز اور وزرا سے کہتاہوں پناہ گاہوں میں جائیں اورلوگوں کیساتھ کھاناکھائیں اورحال پوچھیں، پناہ گاہوں میں اضافہ کریں گے اور ملک کو اس سطح تک لے کر جائیں گے جس میں غریب طبقے کیلئے رحم اور احسا س ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ کاروبار بھی کھلا رہے اور لوگوں کو احساس بھی دلائیں کہ ایس او پیز کے مطابق کام کرنا ہے، ہمارا اگلا مہینہ مشکل ہے جس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا، اب سب سے بڑا یہ کام کرنا ہے جن لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے جن میں معمر اور بیمار افراد شامل ہیں مثلا ذیابیطس، بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں والے افراد، ان کیلئے لاک ڈاؤن کرنا ہے، انہیں خاص احتیاط کرنی ہیں، یہ ہمارا چیلنج ہے، ان لوگوں کو بچالیا تو کورونا کا وہ نقصان نہیں ہوگا جتنا دیگر ممالک میں ہوا ہے، اب سے اگلے ماہ میں اہم کام یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے اثرات سے غریب طبقے کو اور ان لوگوں کو بچالیں جنہیں کورونا سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ ڈونرز کو ایک ایک روپیہ بتائیں گے کہ ان کا عطیہ کہاں جارہا ہے، پیسے لینے والوں کی فہرستیں شائع کریں گے، پوری شفافیت قائم کریں گے، احساس پروگرام میں کوئی سیاسی مقاصد نہیں، نادرا کے ڈیٹا سے مستحقین کی ساری معلومات لی جاتی ہیں۔ دریں اثنا ء وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے حوالے سے اجلاس بھی طلب کرلیا ہے،صحت حکام وزیراعظم کو اجلاس میں مرض پھیلنے کی شرح اورروک تھام کے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دینگے، کورونا کیسز کی تعداد،تشخیص اورعلاج کی سہولتوں کے بارے میں آگاہ کیا جائیگا۔ طبی مقاصد کیلئے آکسیجن گیس اورسلنڈر کی بلاتعطل فراہمی کاجائزہ لیا جائیگا،این ڈی ایم اے حکام بھی ملک بھرمیں ضرورت کے تحت طبی سازوسامان کی فراہمی پربات کریں گے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ملک بھر میں وینٹی لیٹرز،آکسیجن بیڈزکی تعداد بڑھانے جیسے فوری اقدامات پر بات ہوگی،اس کے علاوہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے نتائج،نو ماسک نو سروس مہم سے متعلق بھی بریفنگ دی جائے گی۔دریں انثاء وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونیوالے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں سابق فاٹا میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیاگیا اور ترقیاتی منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کیلئے اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر اطلاعات شبلی فراز،مشیر خزانہ حفیظ شیخ،معاون خصوصی شہباز گل،خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان، وزیر خزانہ تیمور سلیم، وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا وزیراعظم کا فاٹا کے حوالے سے اجلاس میں کہنا تھا کہ سابق فاٹا کے علاقوں میں ترقیاتی کام ان کی ترجیح ہے حاص طور پر فاٹا کے نوجوان ان کے دل کے بہت قریب ہیں سابق فاٹا کے علاقوں میں ترقیاتی منصو بو ں کو مکمل کیا جائیگا اور 2018 کے معاہدے کے مطابق جو حصہ ان علاقوں کا بنتا تھا وہ ان کو جاری کردیاگیا ہے باقی لوازمات کو پورا کرنے کیلئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت کمیٹی بنا دی گئی ہے تاکہ وہ باقی صوبوں سے بھی مشاورت کرے اور جو حصہ سابق فاٹا کا بنتا ہے وہ ان کو مل سکے۔انہوں نے بتایا وزیراعظم کاکہنا تھا کہ فاٹا کے لوگوں نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں اور حکومت ان کی قربانیوں کی قدر کرتی ہے اوروہاں پر ترقیاتی منصوبے فنڈز ملتے ہی شروع ہوجائینگے اور ان کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائیگا۔

وزیر اعظم

لاہور،کراچی، اسلام آباد(جنرل رپورٹر، سٹاف رپورٹرز)پنجاب حکومت نے کورونا کیسز پھیلنے کے سبب سمارٹ لاک ڈاؤن سخت کر کے مزید 8 علاقوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں گلبرگ، ڈی ایچ اے، گلشن راوی، فیصل ٹاؤن،گارڈن ٹاؤن، اندرون شہر بند کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق 5 روز پہلے شہر کے 21 علاقوں کی 61 گلیوں اور بلاکس کو بند کیا گیا، اب 8 مزید علاقوں میں مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا گیا ہے، ان میں 3 ہزار 613 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔پوش علاقوں کو بند کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کیبنٹ کمیٹی سے مشروط ہو گا، ڈی ایچ اے میں 1403 مریض رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد 22 ہزار 405 گھر، 44 ہزار 810 خاندان، 2 لاکھ 16 ہزار آبادی کو لاک ڈاؤن کیاجائیگا۔گلبرگ ون، ٹو اور تھری کے تمام بلاکس کو لاک ڈاؤن کیاجائیگا، علاقے کے تمام بلاکس سے کورونا وائرس کے 736 کنفرم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو19 ہزار 363 گھر اور2 لاکھ 50 ہزار 943 آبادی پر مشتمل ہے۔ماڈل ٹاؤن میں 659 کنفرم کوروناوائرس کے کیسزرپورٹ ہوئے، فیصل ٹاؤن میں 188 کنفرم کیسز، گارڈن ٹاؤن سے 238، گلشن راوی میں 212، والڈ سٹی میں 170 مریض کنفرم ہوئے ہیں۔اندرون شہر کی اکبر منڈی اور شاہ عالم مارکیٹ کھلی رہے گی، جوہر ٹاؤن کے علاقوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مکمل لاک ڈاؤن والے علاقوں میں شاپنگ مالز اور مارکیٹس بھی بند رہیں گی۔دوسری طرف کورونا کے باعث سیل متعدد علاقے کھولنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، ذرائع کا بتانا ہے کہ ایریا کھولنے کا فیصلہ علاقے میں کورونا مریض نہ ہونے پر کیا گیا،انتظامیہ کے مطابق دھوبی گھاٹ گلی نمبر 10، اسلام پورہ کے علاقے یوسف روڈ کو کھول دیا گیا۔ ادھر شہرقائدکراچی میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑیگا، شام سات بجے کے بعد غیرضروری نکلنے پر پابندی ہو گی۔کراچی پولیس چیف کی زیرصدارت پولیس آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ شہر میں اسمارٹ لاک ڈاون کے حوالے سے پولیس نے حکمت عملی تیار کر لی۔کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے کہا آج شام 7بجے حکومتی احکامات پرسختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ شام 7بجے کے بعد غیر ضروری نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہو گی۔ غیرضروری نکلنے والے کو قانونی کارروائی کا سا منا کرنا ہوگا۔ شام 7 بجے کے بعد کمرشل سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔ پولیس اور ٹریفک پولیس ملکر سخت لاک ڈاون کو یقینی بنائیں گے۔دریں اثناء کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے اسلام آباد میں غوری ٹاؤن کے سات فیز سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیاہے، ملک کے بیشتر شہروں میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت علاقے بند ہیں جہاں پولیس اور رینجرز تعینات ہے۔کورونا کو بڑھنے سے روکنے کا مشن، شہر شہرسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت مزید علاقے سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام آباد ضلعی انتظامیہ کے مطابق کورونا کیسز میں تشویشناک حد تک اضافے کے بعد لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد میں آئی ایٹ، آئی ٹین، جی نائن اور کراچی کمپنی کے علاقے پہلے ہی سیل ہیں۔ملتان میں ہاٹ سپاٹ علاقے ایم ڈی اے چوک، نیو ملتان اور شاہ رکن عالم سیل ہیں جہاں رینجرز اور پولیس تعینات ہے۔ انتظامیہ نے اب وہاڑی روڈ اور سوئی گیس کالونی میں بھی سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ مردان میں منگل سے چار علاقوں کو سیل کرنے کا پروگرام ہے جس کیلئے انتظامیہ نے تیاری شروع کر دی ہے۔ اس موقع پر شہر میں آمدورفت مکمل طور پر بند ہو گی۔میرپورخاص میں بھی کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے 3 علاقوں کو سیل کیا گیا ہے۔ لوگوں کو ضروری اشیاء لینے کے علاوہ عام افراد کی داخلے پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔ ٹی ٹی کی حکمت عملی کی بنیاد پر اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں میں 549 علاقوں میں لاک ڈاؤن ہے۔پنجاب میں 20 لاکھ آبادی والے علاقوں میں 183مقامات پر لاک ڈاؤن کیا گیا۔ سندھ میں 49 لاکھ سے زائد آبادی والے علاقوں میں 68 علاقے سیل کئے گئے۔ خیبرپختونخوا میں 5 لاکھ سے زائد آبادی والے علاقوں میں 240 مقامات بند ہیں۔ آزاد کشمیرمیں 40، اسلام آباد میں 10 اور گلگت بلتستان میں 16علاقوں میں لاک ڈاؤن کیا گیا۔

سمارٹ لاک ڈاؤن

اسلام آباد، کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، مظفر آباد، گلگت بلتستان(سٹاف رپورٹرز، نیوز ایجنسیاں)ملک میں کورونا سے مزید 70 افراد انتقال کر گئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعدا د 3628 ہوگئی جبکہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 183300 تک پہنچ گئی ہے۔اب تک پنجاب میں کورونا سے 1435 اور سندھ میں 1103 افراد انتقال کر چکے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں 843 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 104، اسلام آباد میں 101، گلگت بلتستان میں 22 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 20 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔پیرکے روز ملک بھر سے کورونا کے مزید 3698 کیسز اور 70 ہلاکتیں سامنے آئیں جن میں پنجاب 1204 کیسز 28 ہلاکتیں، خیبرپختونخوا میں 636 کیسز اور 22 ہلاکتیں اور سندھ سے 1464 کیسز اور 14 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 250 کیسز اور 3 ہلاکتیں، بلو چستان سے 2 اموات اور 112 کیسز جبکہ آزاد کشمیر سے 32 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی۔سندھ سے کورونا کے مزید 1464 کیسز اور 14 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جن کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔مراد علی شاہ نے بذریعہ ٹوئٹر بتایا گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9841 ٹیسٹ کیے گئے جن میں مزید 1464 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 14 اموات بھی ہوئیں۔سندھ میں نئے کیسز کے بعد کورونا کے کل مریضوں کی تعداد 71092 اور ہلاکتیں 1103 ہوگئی۔صوبے میں 1464 کیسز میں سے 976 کا تعلق کراچی سے ہے۔پنجاب سے کورونا کے مزید 1204 کیسز اور 32 ہلاکتیں سامنے آئیں جن کی تصدیق پی ڈی ایم اے نے کی۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 66943 اور اموت 1435 تک جا پہنچی۔پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں اب تک کورونا سے 19100 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارا لحکومت سے کورونا کے مزید 250 کیسز اور 3 اموات سامنے آئیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 10912 اور اموات 101 ہو چکی ہیں۔اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 4681 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر سے بھی کورونا کے مزید 32 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے۔آزاد کشمیر میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 845 اور اموات کی تعداد 20 ہو گئی۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے متاثرہ 348 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔خیبر پختونخوا میں پیر کو کورونا وائرس سے مزید 22 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 843 ہوگئی۔محکمہ صحت کے پی کے مطابق پشاور میں 15، مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 2، 2 جبکہ سوات، مالاکنڈ اور ایبٹ آباد میں ایک ایک شہری جاں بحق ہوا۔صوبائی محکمہ صحت نے بتایا گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 636 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 22633 تک پہنچ گئی۔ اب تک 6869 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔بلوچستان میں کورونا کے باعث مزید 2 افراد جان کی بازی ہارگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 104 ہوگئی۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 112 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے صوبے میں کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد9587 ہوگئی۔کورونا وائرس سے صحت یاب ہونیوالوں کی تعداد 3670 ہے۔پیر کو گلگت بلتستان میں کورونا سے متعلق کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔دوسری طرف جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے سسٹمز سائنس وانجینئرنگ کے مرکز کی جانب سے دنیا بھر میں نوول کرونا وائرس سے زیادہ متاثرہ ممالک میں مصدقہ کیسز کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا میں نوول کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 89لاکھ52ہزار 428 تک پہنچ گئی ہے۔ امریکہ 22 لاکھ79ہزار879مصدقہ کیسز کیساتھ سرفہرست ہے، جبکہ برازیل10لاکھ83ہزار341مصدقہ کیسز کیساتھ دوسرے،روس 5لاکھ83 ہزار879 مصدقہ کیسز کیساتھ تیسرے نمبر پرہے۔بھارت میں 4لاکھ25 ہزار282مصدقہ کیسز ہیں، برطانیہ میں 3لاکھ5ہزار803 مصدقہ کیسز،پیرو میں مصدقہ کیسز کی تعداد2لاکھ 51ہزار338اور سپین میں مصدقہ کیسز کی تعداد2لاکھ46ہزار272تک پہنچ گئی ہے۔چلی میں مصدقہ کیسز کی تعداد 2لاکھ 42 ہزار 355تک پہنچ گئی ہے،اٹلی میں مصدقہ کیسز کی تعداد2لاکھ38ہزار499 ہو گئی ہے۔چین میں مصدقہ کیسز کی تعداد85ہزار18ہوگئی ہے۔

کورونا صورتحال

مزید :

صفحہ اول -